جون سے کپتون تک کی وصولیاں


ہمارے فاٹا والے کام اللہ توکل ہی کرتے ہیں۔ کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وہ کام بار بار کر کے دیکھیں گے۔ اک دن پھر اس کام کے ڈاکٹر بن جائیں گے۔ ان کے اپنے علاقے میں روزگار کے مواقع محدود رہے ہمیشہ تو یہ نت نئے تجربے کرتے رہتے ہیں۔ خود بھی اور کسی کی باتوں میں آ کر بھی بڑےجذبے سے دیوالیہ ہوتے رہتے ہیں۔

دیوالیہ ہونے کو بھی مائنڈ نہیں کرتے۔ اگر اپنا نقصان کسی پر ڈال سکیں تو اس سے تاوان کا مطالبہ کر لیتے ہیں۔ آفریدی حضرات تاوان وغیرہ کا مطالبہ گیارہ گنا کرتے ہیں۔ ہر رپھڑ یعنی تنازعے کو رب کی رحمت سمجھتے ہیں کہ اس سے کمائی ہی ہو گی تو ایسے برکت والے کام کو دل سے پسند کرتے ہیں۔

پشوریوں کی تعریف میں کتابیں نہیں لکھی جاسکتیں۔ لکھیں تو کتاب خود ہی خوشی سے یا حسد سے جل جائے گی۔ پشاور کے اردگرد بسنے والے پختون قبائیل پشاور شہر کے ہندکو بولنے والوں کو خاریان یعنی شہری کہتے ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ اک  تازہ خان پڑھنے لکھنے شہر آ گیا۔ پڑھنا وڑنا کیا تھا یہاں پہنچ کر اس نے اک پشوری سے یاری لگا لی۔ اس کی باتوں میں آ گیا۔ پشوری کی باتیں وہی جانتے ہیں جنہوں نے سنی ہوں۔ باتوں سے وہ مریخ تک اپنی گاڑی میں ہو آتے ہیں۔

تازہ خان ڈھیر ہو گیا۔ ان باتوں میں آ کر اک کاروبار شروع کر بیٹھا۔ وہی ہوا جو ہونا تھا بیڑے غرق ہو گئے لاکھوں کا نقصان ہو گیا۔ تازہ خان نے جمع تفریق کر کے کروڑ سے اوپر کا بل بنایا۔ پشوری جس کا نام جان محمد تھا اس پر تازہ خان نے دعوی کر دیا۔ جان دعوی سن کر پہلے تو حیران ہوا پھر ہنس کر دکھا دیا۔

تازہ خان سیریس تھا اس نے اک دن جان کو پشاور سے اٹھایا اور خیبر ایجنسی لے گیا۔ ”جون میں راوستو“ میں جون کو لے آیا ہوں۔ یہ بات فخر سے اپنے بزرگوں کو بتا دی۔ ان کے سر بھی فخر سے اونچے ہو گئے کہ لڑکا جوان ہو گیا۔ اس علاقائی آفریدی لہجے میں کسی لفظ کے درمیان الف آئے تو اس کو و کے ساتھ بدل لیتے ہیں۔ یعنی جان اب جون ہو گیا بیٹھے بٹھائے گورا انگریز۔

جون کو تازہ خان نے لے جا کر درخت کے نیچے چارپائی بچھا کر اس پر بٹھایا اور ایک زنجیر سے باندھ دیا۔ جون کے گھر والوں کو فون کیا کہ اب کروڑ روپیہ لاؤ اور مسٹر جون کو لے جاؤ۔ جون کے ابا جی نے جواب دیا ”گل سن چوانی دا میرا نڈا نہیں گا“ یعنی چار آنے کا میرا لڑکا نہیں ہے اپنے پاس ہی رکھ یہ کروڑ روپئے کی پوٹلی۔

تازہ خان کا دل تو اوپر نیچے ہوا لیکن اس نے سوچا کہ آخر جون کے ابا کا دل نرم ہو گا کروڑ روپیہ لے کر آئے گا۔ ہمارے ہم جماعت تازہ خان سے ملنے گئے تو اس نے دنبہ دعوت کی۔ جون کو منجی پر بندھا ہوا لیٹا بھی دیکھا۔ تازہ خان نے بتایا کہ یہ میرے پیسے دے گا تو ہی جائے گا۔ ویسے ہم میزبان بہت اچھا ہے۔ ساتھ ہی آواز دی جون آ جا کھانا کھا لے۔

جون نے اپنی زنجیر خود ہی کھولی اور آ کر دنبہ دعوت میں شامل ہو گیا۔ دعوت کے دوران نان کم ہو گئے تو آفریدی نے پچاس روپئے دیے جون کو کہ جا بھاگ کر تندور سے روٹیاں لے آ۔ جون نے منٹ مارا جا کر روٹی لے آیا۔ جو بات ہمارے سارے ہم جماعتوں کو سمجھ آ گئی۔ وہ تازہ خان کو سمجھ آنے میں کچھ ہفتے لگ گئے۔

دو تین ہفتوں بعد تازہ خان سے پوچھا تو وہ کافی پریشان تھا۔ کہنے لگا یار یہ کیا مصیبت گلے ڈال لی ہے۔ زنجیر اس کی کھول دی ہے۔ یہ سویرے اٹھ کر ناشتہ کرتا ہے۔ سیر کرنے باڑہ مارکیٹ چلا جاتا ہے۔ گھوم پھر کر کھانے کے ٹائم واپس آ جاتا ہے۔ سونے سے پہلے زنجیر کو خود تالہ لگاتا ہے۔ اسے کھینچ کر چیک بھی کرتا ہے کہ ٹھیک لگ گیا ہے کہ نہیں۔ پھر سو جاتا ہے۔

ہم دوستوں نے تازہ خان کو مشورہ دیا ایسا کر۔ رات کو حجرے کا گیٹ کھول دے اور اس کی زنجیر بھی کھول دے۔ تالہ بھی واپس لے لے۔ یہ بھاگ جائے گا۔ اسے کیوں رکھا ہوا ہے۔ پیسے ڈوب گئے اب اس کے اوپر خرچہ کر رہے ہو۔ شرم کر وہ مست زندگی گزار رہا۔ تازہ خان نے کہا ٹھیک ہے اسے بھگاتا ہوں۔ جا کر کوئی کام شام کرے۔ جب کچھ کما لے گا تو پھر اٹھا لیں گے۔

ہفتے بعد پوچھا تو تازہ خان نے جواب دیا۔ ابے وہ کہیں نہیں گیا خود اٹھ کر گیٹ بند کرتا ہے پھر تسلی سے سو جاتا ہے۔

بہت سوچ کر دوستوں نے مشورہ دیا کہ اسے پانچ سو روپئے دے۔ اسے بول قصہ خوانی جا اور تاج سوڈا واٹر کمپنی سے دیسی سوڈے کی پانچ بوتلیں لے آ۔ حاجی صاحب کو گیس کی شکایت ہو گئی ہے۔ قصہ خوانی بازار سے آدھے منٹ کے فاصلے پر جون کا گھر ہے تو یہ وہاں جائے گا۔ پھر واپس نہیں آئے گا اپنے گھر چلا جائے گا۔ کام پر لگ جائے پیسوں کا حساب کتاب پانچ دس سال بعد دیکھ لینا۔ اگر کما لیے تو تب لے لینا۔

تازہ خان بہت خوش ہوا اس نے صبح سویرے جون کو پانچ سو روپئے دیے کہ جا بھاگ کر سوڈے کی بوتلیں لے کر آ قصہ خوانی سے۔ جون چلا گیا تازہ خان نے شکرانے کے نفل پڑھے کہ چلو رقم واپسی کی کوئی سبیل بنی۔ ابھی رجسٹر میں اندراج کر رہا تھا کہ دس سال بعد وصولی کرنی ہے۔ جون دوڑتا ہوا واپس پہنچ گیا کہ یار بڑا رش تھا قصہ خوانی میں لیٹ ہو گیا یہ لے پکڑ بوتلیں حاجی صاحب کو دودھ سوڈا بنا دے۔

تازہ خان نے اپنے بال کھینچے۔ دانتوں میں انگلیاں دبا کر ان پر چک لگائے۔ اپنی ٹوپی کھینچ کر اپنے تکیے پر ماری۔ تھوڑی دیر بعد سارے مشر اکٹھے بیٹھے۔ سب نے تازہ خان کی خوب کھنچائی کی۔ کہ اک تو تمھارا دوست ہے اس کو گولی نہیں مار سکتے۔ کمبخت گھوم پھر کر مہمان بھی لگتا ہے ہمارا۔ پیسے الگ ڈوب گئے۔ چلو ڈوب گئے۔ پر پانچ مہینے میں جو اسے ادھر بٹھا کر کھلا دیے وہ کیسے بھولیں۔

آخر فیصلہ ہوا تازہ خان کی اچھی طرح ٹکور کرنے کے بعد۔ اس کے بڑوں کا ایک وفد جون کو گاڑی میں عزت سے بٹھا کر۔ فروٹ گاڑی میں لاد کر ایک دنبہ ساتھ باندھ کر۔ جون کو اس کے گھر چھوڑ آیا۔ اس کے ابا جی سے کہا یہ لے اپنا مسٹر جون۔ ”مونگ خپل تاوان وے بخل“ ہم نے اپنا تاوان معاف کر دیا تم بس ہمیں معاف کر دو۔ کسی شنواری یا جمرود باڑے کے آفریدیوں کو مت بتانا ہمارا ریکارڈ لگائیں گے۔

ہم پشاور والے ہم خیبر والے اسی طرح آپس میں پیار محبت سے رہتے ہیں۔ ہمیں کوئی یہ چک چکا یا لڑائی مار کٹائی کے طعنے نہ دے وہ تو بس ہمارا سٹائل ہے۔ جون اور مشر سے معذرت۔ غصہ آ گیا ہے تو کرتے رہو فون ہم نے سننا کوئی نہیں۔ کہانی سنانی تھی قومی مفاد میں سنا دی ہے۔

کہانی کی دم یہ ہے کہ آفریدی لہجے میں جان ہی جون نہیں ہوتا کپتان بھی کپتون ہو جاتا ہے۔ کپتون کے نواں پاکستان بنانے کے خیالات سن کر اک دن پھنس گئے تھے افسر سوری آفریدی۔
اب یہ آفریدی سوری افسر یا پتہ نہیں کون کپتون کو نواں پاکستان بنا کر دیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 330 posts and counting.See all posts by wisi