امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی کی افتتاحی تقریب کے لیے ایوانکا اسرائیل میں


ایوانکا ٹرمپ

EPA

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح سے قبل اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے یہ دونوں سینیئر مشیر امریکی سفارتخانے کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے جبکہ صدر ٹرمپ بذات خود وہاں نہیں ہوں گے۔

تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے فیصلے پر فلسطینی ناراض ہیں۔

امریکی سفارتخانے کا افتتاح ریاست اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی یروشلم میں سفارتخانہ

امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنا سنگین غلطی ہو گی

اسرائيل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقبل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔

مسٹر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے سے اس مسئلے پر دہائیوں سے جاری امریکی غیرجانب داری میں فرق آیا اور وہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت سے علیحدہ چلا گیا۔

امریکی قونصل خانہ

Getty Images
فی الحال یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ہی مختصر اور عبوری سفارتخانہ قائم کیا جائے گا

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ سفارتخانے کی منتقلی جشن کا موقع ہے اور دوسرے ممالک سے اس کی پیروی کریں۔

انھوں نے کہا ’میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کرنے میں امریکہ کے ساتھ آئيں۔ یہ درست عمل ہے ۔۔۔ کیونکہ اس سے امن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔‘

فلسطنینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کو ‘صدی کا تھپڑ’ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں ایک چھوٹے اور عبوری سفارتخانے کا پیر کو افتتاح ہو رہا ہے جبکہ پورے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے لیے ایک بڑی جگہ بعد میں تلاش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پروگرام کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے جبکہ ایوانکا ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ سٹیون مانوشن اور نائب وزیر خانجہ جان سولیوان بہ نفس نفیس وہاں موجود ہوں گے۔

یوروپین یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفیر اس کا بائیکاٹ کریں گے۔

بہر حال ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ گواٹے مالا اور پیراگوئے کے صدور بھی اس میں شامل ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کر رہے ہیں۔

سفارتخانے کی منتقلی کے وقت کے انتخاب پر غزہ میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مارچ کے بعد سرحد پر مظاہروں میں 40 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp