ہمارا نیا کاروبار، فتوی اینڈ کو


یوں تو ہم اپنے بلاگ پر آنے والی تنقید پر بے نیاز رہتے ہیں۔ اپنے ہر لفظ کو قسمت کا لکھا جانتے ہیں۔ خود کو ہر لکھائی پر قادر جانتے ہیں۔ تعریف کو ہمیشہ سچ جانتے ہیں۔ لیکن پچھلے بلاگ پر ایک کمنٹ ایسا آیا کہ ہم بھی ذرا شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔ تحریر میں مدرز ڈے کو کاروبار بنانے کی مذمت کی تھی کہ علی وارثی نے جھٹ کمنٹ کر دیا۔

‘کیوں بھئی؟ کاروبار میں کیا برائی ہے؟’

ہم بھی سوچ میں پڑ گئے کہ بھیا کاروبار میں کیا برائی ہے۔ ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ ہم جیسے قلاشوں کا دل کو بہلانے کا بہانہ ہے۔ لیکن صاحب ایسے کب تک چلے گا۔ لان کے نت نئے جوڑوں اور مہنگے ہوٹلوں کے ہوشربا کھانوں پر ہمارا حق بھی تو ہے۔ کاروبار کی ضرورت سب سے زیادہ تو ہمیں ہے۔ لکھ لکھ عالم فاضل بننے لائق تو ہم ہیں نہیں۔ کوئی فائدہ مند کاروبار ہی ڈھونڈ لیں۔

بہت غور و خوض فرمایا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں کاروبار بھی چاہیئے اور ایسا چاہیئے جو ہماری طبع نازک پر گراں نہ گزرے۔ زیادہ مشقت نہ ہو۔ کاغذ قلم چلے اور کشٹ سے پرہیز ہی ہو۔ کئی دوستوں سے مشورہ بھی کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ آج کل جو ٹرینڈ چل پڑا ہے اسی کو فالو کیا جائے۔ اور اپنی سائنس لڑانے سے پرہیز ہی برتا جائے۔

جی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ ہم اپنی کنسلٹینسی سروس کا آغاز کرنے والے ہیں جس کا نام ‘فتوی اینڈ کو’ ہو گا۔ ہر قسم کے فتوے دستیاب ہوں گے۔ یہ بزنس ذرا موسمی نوعیت کا ہے اس لئے ہم سے ریٹ لسٹ کی فرمائش مت کیجئے گا۔ آج کل غداری کا سیزن ہے تو اس کے مانگ چوکھے ہوں گے۔ آپ کو بس غدار کا نام بتانا ہے۔  بھلے جتنا بھی محب وطن ہو ہماری محنت سے چوک چوباروں میں پتلے ہی جلائے گا۔ اگلی فکر ہماری! انشااللہ اس قدر تسلی بخش کام ہو گا کہ غدار ملک تو کیا ملک سے باہر بھی منہ دکھانے کا نہیں رہے گا۔ نرگ کی آگ میں جلے گا۔ ہر رشتے کو ترسےگا۔ سوشل میڈیا پر تو کسی حرام جانور سے بھی بدتر زندگی گزارے گا۔ آپ بس دیکھتے جائیے اور غداری کا فتوی ہم ہی سے لگوائیے۔

کفر کا فتوی بھی دستیاب ہے۔ یہ فتوی ہمارا پسندیدہ ہے۔ اس میں محنت کم لگتی ہے نا۔ بس نام معلوم ہو۔ اس میں تو ریسرچ کا بھی کام نہیں۔ بس ایک ہلکی سی شرلی چھوڑنی ہے۔

آگے اس کے لواحقین کا مسئلہ ہے کہ اس کے ایمان کی گارنٹیاں دیتے پھریں۔ ملک سے بھاگنے کے بندوبست کرتے پھریں۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرتے پھریں۔ خوف کو اپنا بچھونا بنا لیں۔ ویسے اس فتوے کی بہترین بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ثبوت بھی درکار نہیں۔ کسی بھی بات کو پکڑ لیں۔ بات نہ ہو تو خود ہی تخلیق کر لیں۔ اس فتوے میں کری ایٹویٹی کام آتی ہے۔ ہاں یہ ہلکی سی محنت ہے بس۔

علاوہ ازیں ہمارے پاس سائیکل کی مرمت اور پنکچر لگانے کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ بشرطیکہ سائیکل آپ کی اپنی ہو۔ ہماری سواری پر نظر مت رکھئے گا۔

کیسا لگا آپ کو ہمارا بزنس آئیڈیا؟ ایک دم دھانسو ہے نا؟ بس اب وارثی صاحب  نہ سوچیں  کہ ہمیں بزنس سے پرابلم ہے۔ ہم تو خود بزنس امپائر کھڑی کئے بیٹھے ہیں۔ لندن کے ٹرپ کی پلاننگ کئے بیٹھے ہیں۔ ثنا سفیناز کے سب جوڑے سینے کے لئے درزی کا بندوبست  کئے بیٹھے ہیں۔ صبح دوپہر شام کے کھانے کے لئے فائیو اسٹار ہوٹل میں بکنگ بھی کرائے بیٹھے ہیں۔ بس انڈوں کی ٹوکری سر پر ٹکی رہے۔

آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔ تعریف تو ہماری جان ہے۔ اس سے گریز مت کیجئے گا۔
گڈ بائےگائز

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں