میں نے 280 لوگوں کو مرتے دیکھا؛ پھر میں ماں بن گئی


امریکہ کی 50میں سے 19ریاستوں میں سزائے موت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے جبکہ 31میں اب بھی مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے، جن میں ایک ریاست ٹیکساس بھی ہے۔ اب ٹیکساس کے ڈیتھ چیمبر میں ملازمت کرنے والی ایک خاتون نے سزائے موت کے متعلق ایسی باتیں لکھ دی ہیں کہ آدمی سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق مشعیل لیونز نامی اس خاتون نے ملازمت کا آغاز اس وقت کیا جب اس کی عمر 22سال تھی۔ اب 12سال نوکری کرنے کے بعد وہ استعفیٰ دے چکی ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”پہلا شخص، جس کی موت میں نے دیکھی، اس کا نام جیویئر کروز تھا، اس نے دو لوگوں کو ہتھوڑے مار کر قتل کیا تھا۔ اس کو موت دینے کے بعد ساتھی ورکرز نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ سب دیکھنے کے بعد میں ٹھیک ہوں؟ جواب میں میں نے ہنس کر کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ یہ میری ڈیوٹی ہے۔اس کے بعداپنے 12سالہ کیریئر میں میں نے 280لوگوں کو سزائے موت ہوتے دیکھی جن میں صرف 2خواتین تھیں۔ میں آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت والے فلسفہ سزا پر یقین رکھتی تھی چنانچہ مجھے کسی مجرم کو موت ہوتے دیکھ کر کوئی دکھ نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس وقت میں ان لوگوں کے بارے میں سوچتی تھی جو اس کی وجہ سے دنیا سے چلے گئے۔“

مشعیل نے مزید لکھا ہے کہ ”سزائے موت پانے والوں کے متعلق میرا ذہن اس وقت تبدیل ہوا جب میں ماں بنی۔ تب میں زندگی اور موت کے مسائل پر بہت گہرائی میں جا کر سوچنے لگی تھی۔ تب میں نے اپنے ماضی اور اپنے سامنے ہونے والی مجرموں کی اموات پر غور کرنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ سزائے موت پانے والے شخص کی ماں کتنی مضطرب ہوتی ہو گی اور اپنے بیٹے کی موت کے بعد گھر جاتے ہوئے تمام راستے روتی جاتی ہو گی۔ اس کے بعد بھی تمام عمر یہ غم اس کے ساتھ رہتا ہو گا۔ اس احساس کے بعد میرے لیے لوگوں کی موت دیکھنا مشکل ہو گیا، اس کے بعد جب بھی میں کسی مجرم کی موت دیکھتی تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور میں واپس گھر جاتے ہوئے بھی گاڑی میں روتی تھی۔ چنانچہ2012ءمیں میں نے یہ نوکری چھوڑ دی، کیونکہ اسے جاری رکھنا اب میرے بس میں نہیں تھا۔ اس کے ایک سال بعد کیلیفورنیا میں ایک منشیات فروش نے میرے دوسرے شوہر کی 17سالہ بیٹی کو قتل کر دیا، کیلیفورنیا میں سزائے موت پر پابندی ہے اور میں اس بات پر بہت پریشان ہوئی کہ قاتل کو سزائے موت نہیں ہو سکے گی۔ اس طرح کے بعض کیسز میں تو اب بھی میں سزائے موت کی حامی ہوں لیکن جن مجرموں کو میں نے سزائے موت ہوتے دیکھی میرے خیال میں ان میں سے اکثر کو نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس کی بجائے انہیں عمر قید کی سزا دے دی جاتی۔ ان لوگوں کی موت کا سوچ کر میں اندر سے تاریک ہو جاتی ہوں، جب مجھ اس ڈیتھ چیمبر میں مرنے والے مجرموں کے بولے گئے آخری الفاظ یاد آتے ہیں تو اب بھی میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔“

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں