وادی نیلم کا پل ٹوٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی


وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے پل پر کھڑے 40 سے زائد سیاح ’نالہ جاگراں‘ میں جاگرے۔ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ پل پر 40 سے زائد سیاح موجود تھے، خستہ حال پل گنجائش سےزیادہ افراد کا وزن برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر موجود تمام افراد نالے میں گرگئے۔ نالے سے اب تک چار لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 6 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ دریا میں گرنے والے سیاحوں میں کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔ نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا سے ہے۔

ہائیکنگ / ٹریکنگ اینڈ آرکیالوجی سوسائٹی کے اعجاز اعوان اس علاقے کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”ایسے سانحات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ دوران ٹریکنگ حفاظتی امور کا خیال رکھنا لازمی ہونا چاہیے۔ یہ ایک بے ستون بہت ہی چھوٹا سا پل تھا جہاں ایک وقت میں پانچ چھ لوگوں کو جانے کی اجازت تھی۔ پل کے قریب وارننگ بھی لکھی گئی تھی لیکن فیصل آباد اور ساہیوال سے گئے ہوئے 50 سے زائد طلباء و طالبات پل پر موجود تھے۔ پُل ٹوٹنے سے یہ نوجوان پانی میں گر گئے پانی کا بہاؤ بہت تیز ہونے اور آگے آبشار اور گہرائی ہونے کی وجہ سے دور تک بہتے چلے گئے“۔

بعض مقامی ذرائع کے مطابق عینی شاہدین کا بیان ہے کہ پل پر بہت سے طلبا و طالبات فوٹوگرافی کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے اور ان میں سے چند پل جھلانے لگے۔ یہ دیکھ کر کئی مزید بھی ان میں شامل ہو گئے۔ پل یہ دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا۔ پل کے ساتھ ہی انتباہی بورڈ موجود تھے جن میں سے ایک پر یہ لکھا ہے کہ اس مقام پر نہایت محتاط رہیں اور گزشتہ دس برس میں 12 افراد فوٹوگرافی کرتے ہوئے نالے میں بہہ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک دوسرے بورڈ پر لکھا ہوا ہے کہ ”سیاح حضرات سے گزارش ہے کہ دریا کے زیادہ قریب نہ جائیں۔ اس سے پہلے بھی کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ پل کی حالت بھی خراب ہے۔ ذرا سی احتیاط بہت بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے“۔
اب اس حادثے کی دور سے لی ہوئی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں