حال حوال: خاموشی کا دسواں دن



مجھے نہیں معلوم خاموشی کا کوئی دن منایا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر منایا بھی جاتا ہو تو اس دن کے منانے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ انسان کبھی خاموش رہ نہیں سکتا۔۔۔ ورنہ نیند میں بھی خوابوں سے مکالمہ کرکے یہاں تک کہ صبح ہو جائے۔

مجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ خاموشی کی کوئی زبان ہوتی ہے۔ جسے سننے والے سمجھ جاتے ہیں۔ اسے معنی دیتے ہیں۔ وہ زبان ترتیب پاتی ہے۔ لیکن میں نے کبھی بھی خاموش زبان کو مکالمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے تو فقط اسے گنگناتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے کبھی بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ خاموشی اگر مکالمہ کرنا چاہے تو کس سے کرے۔ نگاہیں تو بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں۔ زبان پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ زبان کو ادھر سے ادھر کیا جائے لیکن زبان اپنی خاموشی نہیں توڑتی۔ بس وہ خاموش احتجاج کرتی ہے۔

وجاہت مسعود صاحب کا کالم گزشتہ روز نظر سے گزرا۔ “طوفان کے مرکز میں۔۔۔۔ خاموشی کا کنسرٹ” اس کا مطالعہ پہلے “روزنامہ جنگ” میں کر چکا تھا تو ایسے محسوس ہوا کہ اس کالم سے اس کی روح نکالی گئی ہے فقط ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ شاید روزنامہ جنگ کے کسی میوزیم کے کام آجائے۔ پھر وہی کالم جب “ہم سب” پر شائع ہوا تو مجھے کہانی کا مرکز و محور سمجھ میں آیا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ کہانی کا مرکزی خیال حال حوال ہی تھا۔ وجاہت مسعود صاحب نے بلوچستان کو بخوبی محسوس کیا ہوگا۔ اس نے اس کرب کو محسوس کیا ہوگا جس کرب سے بلوچستان والے گزر رہے ہیں۔

تو دوستو حال حوال پر پی ٹی اے کی بندش تاحال جاری ہے۔ حال حوال کے سامنے یہ بند کیوں باندھا گیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلوچستان کے وہ مسائل جو مین اسٹریم میڈیا میں دکھائی نہیں دیتے حال حوال ٹیم رضاکارانہ بنیادوں پر ویب سائیٹ چلا کر انہی مسائل کو وفاقی یا متعلقہ اداروں تک پہنچانےکی کوشش کرتی چلی آ رہی ہے۔ یا وفاق میں موجود پالیسی میکرز جو بلوچستان کے معاملات کو بلوچستان کے نوجوانوں کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔ حال حوال نے پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پاکستانی آئین کی پاسداری اور اپنی ادارتی پالیسی کا مان رکھتے ہوئے بلوچستان کے ان عوام کی آواز بننے کی کوشش کی جو حقیقی معنوں میں پرامن اور خوشحال بلوچستان کے خواہاں ہیں۔

حال حوال کی ٹیم سے کونسی غلطی سرزد ہوئی جس کی سزا ویب سائیٹ کو بندش کی صورت میں اٹھانی پڑی۔ اس سے نہ صرف حال حوال ٹیم لاعلم ہے بلکہ پی ٹی اے بھی جواب دینا پسند نہیں کرتی۔

حال حوال کی خاموشی کا آج دسواں دن ہے۔ حال حوال ٹیم کوئی بھی پوسٹ اپلوڑ کرنے سے اس لیے قاصر ہے کہ انہیں پی ٹی اے کی جانب سے ابھی تک آگاہ نہیں کیا گیا کہ بندش کی وجوہات کیا تھیں یا مزید اپلوڈنگ پی ٹی اے پر گراں نہ گزرے اور حال حوال کو دائمی بندش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آوازوں کو دبانے سے کم نہیں کیا جا سکتابلکہ آوازوں کو سن کر انہیں بامعنی جواب دینے سے مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان ایک وسیع خلیج موجود ہے۔ اس وسیع خلیج کےمحرکات بھی موجود ہیں۔ نوجوان اپنی آواز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ حکام تک آواز پہنچانے کے ذرائع موجود ہیں۔ اگر انہی ذرائع کو بند کیا جاتا ہے۔ آواز سنی نہیں جاتی تو دوسرا راستہ کونسا بچتا ہے؟ خاموشی کا؟ اس خاموشی کا جو ہمیشہ سے رقصاں رہی ہے؟ جس کے گرد خاموش انسانوں کا ایک مجمع لگا ہوا ہے؟

اسی خاموشی کا مظاہرہ حال حوال کر رہا ہے۔ خاموشی کی کوئی زبان ہو نہ ہو، البتہ اس کی آواز دور تلک جاتی ہے، چاہے اس کے لیے آپ کو کانوں میں روئی ہی کیوں نہ ڈالنی پڑے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں