مجھے ’’عورت دوست‘‘ معاشرہ چاہیے


جب بھی جنسی ہراسانی کا کوئی واقعہ، خواہ وہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ ہو یا عام خاتون کے ساتھ، رپورٹ ہوتا ہے تو کچھ لوگ بالخصوص مرد خواہ مخواہ خواتین کے خلاف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ’’اس کا لباس بے پردگی والا تھا۔‘‘ ’’اس کی چال ڈھال اور حرکا ت و سکنات مردوں کو دعوت دیتی تھیں‘‘۔ ’’ ضرور اسی نے کچھ ایسا کیا ہو گا جو اسے چھیڑا گیا۔‘‘ عموماً ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک رویہ ہے کہ ایسے معاملات میں عورت کی کیفیت اور اسے پیش آنے والی تکلیف کو سمجھنے کی بجائے الٹا اُسی کو موردِ الزام قرار دیدیا جائے۔ آبروریزی اور جنسی زیادتی کے واقعات میں بھی عورت کا لباس ، حرکات اور اس کا گھر سے باہر نکلنا ذمہ دار۔ حتیٰ کہ مرد کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ عورت کی مرضی شامل تھی، آخر عورت کی مرضی کے بغیر مرد کی کیا جرأت کہ ہاتھ بھی لگائے؟ یعنی مرد کی ہوس کا کوئی قصور نہیں۔

گھر سے نکلنے والی خواتین کو بلاجھجک کال گرل اور طوائف تک کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ اول تو یہ کہ بلاتحقیق کسی خاتون کے لیے اتنا برا لفظ استعمال کرنا نہایت غلط اور غیرمہذب ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر عورت قابلِ احترام ہے خواہ وہ طوائف ہی ہو۔ کسی عورت کے طوائف ہونے سے مردوں کو یہ لائسنس نہیں مل جاتا کہ اسے جنسی طور پر ہراساں کریں۔ تیسرا یہ کہ اگر جنسی ہراسانی میں قصور عورت کا ہو تو بھی مرد کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عورت مرد کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یہ نہیں کہتی کہ اسے ہراساں کیا جائے۔ اپنی غلطی کی ذمہ داری عورت پر عائد کر دینا کہاں کی مردانگی ہے؟

گھر سے نکلنے والی عورت کو آسان ہدف سمجھنا؛ جنسی ہراسانی کو اپنا حق خیال کرنا؛ لباس اور حرکات و سکنات کی بنیاد پر عورت کے کردار کا تعین کرنا؛ اپنے گھر کی عورتوں کے علاوہ دیگر کو بکاؤ سمجھنا، یہ اور اس جیسے دیگر منفی رویے ہم میں کیسے پیدا ہو گئے؟ اور کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ ہم اخلاقی زوال کا شکار کیوں ہو رہے ہیں جبکہ ہمارا دین او ر معاشرتی روایات شدت سے عورت کے احترام کی تلقین کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے کہنے کو ہم مسلمان ہیں لیکن اسلامی تعلیمات پر عمل اس وقت کرتے ہیں جب یہ ہماری منشا اور مفادات کے مطابق ہوں۔

دینِ اسلام نے عورت کو جو احترام دیا ہے، وہ صرف کتابوں اور الفاظ تک کیوں محدود ہے؟ اس احترام کی جھلک کب ہمیں اپنے ماحول اور معاشرے میں نظر آئے گی؟ مرد اپنے وجود اور پیدائش کے لیے جس عورت کا محتاج ہے، اس کا احترام کرنے سے انکاری کیوں ہے؟ مرد کو شادی، اولاد کی پیدائش، جنسی خواہشات کی تکمیل، حتیٰ کہ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے بھی عورت چاہیے۔ اور عور ت بھی وہ جو اس کے ہر جائز و ناجائز فعل پر خاموشی سے سر جھکا دے۔ عورت سے احترام ملنے کا خواہش مند مرد پہلے خود تو عورت کا احترام سیکھ لے۔ عزت یک طرفہ طور پر کوئی نہیں کرتا سوائے کسی مجبوری کے۔ تو عورت بھی مردوں کا احترام کرنے کی پابند نہیں جبکہ مرد اسے جوتی کی نوک پر رکھتے ہوں۔ ہمارے مردوں کا رویہ گھر میں اور باہر ، سب جگہ ’’عورت مخالف‘‘ کیوں ہے؟ ہے کوئی مرد جو اس سوال کا جواب دے سکے؟

ہمارے کئی معاشرتی اور صنفی مسائل کا حل صرف عورت کے احترام سے وابستہ ہے۔ عورت ہر گھر کی فرد اور ہر مرد کی زندگی میں شامل ہے۔ بیٹی، بہن، یا بیوی شاید کسی مرد کی زندگی نہ ہوں لیکن ماں تو ہر مرد کی ہوتی ہے۔ اگر ہمارے مرد ہر عورت کو اپنی ماں کی طرح لائقِ احترام سمجھ لیں تو جنسی ہراسانی کا مسئلہ باقی ہی نہ رہے۔

آخر میں صرف یہ کہنا ہے کہ مجھے اور معاشرے کی ہر خاتون کو ’’ عورت دوست ‘‘ ماحول چاہیے جہاں میں اور وہ سب عزت اور سکون سے رہ سکیں۔ کیا مرد ہمیں یہ ’’عورت دوست‘‘ ماحول اور معاشرہ فراہم کرنے کو تیار ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں