رمضان ٹرانسمشن اور ہم


رمضان کی آمد آمد ہے اور رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے اندر کا متقی و پرہیز گار انسان بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوا چاہتا ہے ۔ یہ متقی و پرہیز گار انسان اپنا محاسبہ کرنے کو بیدار نہیں ہو رہا بلکہ دوسروں کی خامیاں اور کوتاہیاں پن پوائنٹ کرنے کو بیدار ہو رہا ہے ۔

گزشتہ دو تین سال سے ہر رمضان ہم اپنے فیملی ممبرز اور دوست احباب کی ” آگہی ” کے لیے برقی پیغامات اور ویڈیوز بھیجتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ اب ہمیں یہ لوگ دین سکھائیں گے جو رمضان کے علاؤہ دیگر مہینوں میں ایسے ایسے لباس زیب تن کرتے ہیں ، ایسے ایسے کام کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

ہر بار ایسے پیغامات اور ویڈیوز کے نظر سے گزرنے پر مجھے اپنی ٹین ایج یاد آ جاتی ہے جب میں نے ایک دن ٹی وی پر ایک گلوکارہ کو نعت پڑھتے دیکھا تھا ۔ اس روز سے پہلے میں نے جب بھی انہیں دیکھا تھا گانا گاتے ہوئے ہی دیکھا تھا ۔ میں نے کچھ ناگواری سے کہا تھا کہ یہ تو گانا گاتی ہے ، یہ کیوں نعت پڑھ رہی ہے ۔ تب میری والدہ نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے بھی خدا اور پیغمبر ہیں ، ان کو بھی حق ہے کہ ان کا نام لیں ۔ وہ بات میں نے ذہن میں بٹھا لی اور آئندہ کبھی ناگواری کا اظہار نہ کیا ۔

واقعی ہمیں کوئی حق تو حاصل نہیں کہ کسی پر نیک یا بد ہونے کے فتوے جاری کرتے پھریں ۔ کوئی کیسا ہے ، یہ سوچنا اور فتوے جاری کرنا ہمارا کام تو نہیں ۔ ہمارا کام اور ہماری زمہ داری تو اپنی خامیوں پر نظر ڈالنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے ۔ ہم خود کیسے ہیں کبھی ہم نے غیر جانبدارانہ فکر سے سوچنے کی کوشش کی ؟ کیا خود ہم نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کی پابندی صرف رمضان میں ہی نہیں کرتے؟

کیا ہم نے کبھی ایسے لوگوں کے متعلق نہیں سنا جو رمضان میں رشوت اس لیے نہیں لیتے کیونکہ یہ ایک مقدس مہینہ ہے مگر سال کے باقی مہینوں میں آرام سے یہ کام کر لیتے ہیں؟ کیا یہ ہم ہی نہیں جو اس نشریات کو ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں اور بالواسطہ یا بلا واسطہ اس میں شرکت بھی کرتے ہیں ۔ کالز ، ایس ایم ایس ، ای میلز کر ذریعے یا پھر انعامات کے لالچ میں، اپنے پسندیدہ اداکاروں سے ملنے، ان سے ہاتھ ملانے، ان سے آٹوگراف لینے، ان کے ساتھ تصویریں بنوانے یا ٹی وی پر جلوہ افروز ہو کر اپنے دوست احباب پہ رعب جھاڑنے، تو کیا صرف ٹی وی چینلز ہی کلی طور پر اس ضمن میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے مستحق ہیں یا کچھ دوش ہم حاضرین و ناظرین کا بھی ہے؟ اور کیا ہم واقعی رمضان میں بھی وہ تمام کام چھوڑ دیتے ہیں جو ناپسندیدہ اعمال ہیں یا جن سے منع فرمایا گیا ہے؟

ہم اس ماہ مقدس میں بھی ان مواقعوں پر بھی جھوٹ بولتے ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ رمضان کا ہی مہینہ ہوتا ہے جہاں بلاتفریق بنیادی ضروریات کی اشیاء اور سامان تعیش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قلت پیدا کر کے ناجائز منافع کمایا جاتا ہے۔ سڑکوں پر گھر جلدی پہنچنے کے چکر میں عدم برداشت کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ کیا یہ سب قابلِ ستائش ہے؟ یا یہ سب محض اس لیے قابلِ قبول و قابلِ معافی ہے کیونکہ یہ میں اور آپ کرتے ہیں؟

بچپن میں ہمارے گھر میں بھی سحر و افطار ٹرانسمشن چلا کرتی تھی۔ سحری کی ٹرانسمشن کا اصل مقصد تو یہ ہوتا تھا کہ ٹی وی کی آواز سے سوئے ہوئے افراد کو کچھ کچھ اندازہ ہونا شروع ہو جائے کہ سحری کا وقت ہو چلا ہے اور اٹھنے کی سعی کی جائے۔ اور پھر جب ہم سحری کرنے بیٹھتے تھے تو اس ٹرانسمشن میں چلنے والے اشتہارات ہمیں مکمل طور پر بیدار ہونے میں بھی مدد دیتے تھے۔ سحری کے اختتام تک ذہن مکمل طور پر بیدار ہو چکا ہوتا تھا اور نماز یا سکول کے پیپرز کی تیاری کو ہم چاک و چوبند ہو جاتے تھے ۔

وقت بدلا ، چیزیں بدلیں قریباً دس سال سے پرائیویٹ چینلز کی بہتات ہو گئی ہے۔ ہر چینل پر ہر موقع کی مناسبت سے رنگ و روپ کا میلہ سجایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے رمضان میں بھی سجایا جانے لگا ہے ۔ رنگ و روپ کا یہ میلہ ہمارے کم گو اور خاموش مزاجوں سے میل نہ کھاتا تھا سو ہم نے ان ٹرانسمشنز سے اجازت لی اور سحری میں انگریزی کے دستاویزی چینلز جبکہ افطاری میں نیوز چینلز پر ‘ٹکرز (فوری خبریں)’ دیکھنے سے ناتا جوڑ لیا۔ اب یا تو فوری خبروں پر نظر دوڑائی جاتی ہے یا گھر والوں کے ساتھ حالات حاظرہ پر تبادلہء خیال کیا جاتا ہے اور یا پھر خاموشی سے افطاری کا لطف اٹھایا جاتا ہے ۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم رمضان ٹرانسمشنز دیکھیں بھی اور ان پر تنقید کے نشتر بھی برسائیں، کیا یہ ذیادہ مناسب اور آسان فعل نہ ہو گا کہ اگر وہ ہمارے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتیں تو ہم انہیں دیکھیں ہی نہیں۔ اگر ہم اس رنگ و روپ کے میلے میں شرکت ہی نہیں کریں گے چاہے بحثیت شرکاء یا بحثیت ناظر اور ان ٹرانسمشنز کو ریٹنگ ہی نہیں ملے گی تو کون سا ٹی وی چینل اس بے ثمر نشریات کو آن ایئر کرنے کے لیے انویسٹمنٹ کرے گا اور یوں آپ اور میں نامناسب اور غیر شائستہ الفاظ کے استعمال سے بھی بچ جائیں گے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ساری دنیا میں قالین بچھانے سے آسان عمل اپنے پاؤں میں جوتا پہن لینا ہے ۔ ہے کہ نہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں