دھواں دھواں شب میں سحر کے اشارے


mujahid ali

یہ جاننے کے باوجود کہ چند افراد کو نکال دینے سے سرتاپا بگڑے کسی معاشرے میں مکمل اصلاح کا تصور محال ہو گا، لیکن اس کے باوجود جب بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے کے بعد ملک کی فوج کا سربراہ جرنیلوں سمیت فوج کے بارہ اعلیٰ افسران کو برطرف کرتا ہے اور ان کی مراعات منسوخ کرنے کا اعلان کرتا ہے تو اس کی تحسین لازم ہے۔ ایک تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور طاقتور اقدام ہے۔ اس سے پہلے اس ملک میں غلطی خواہ انتظامی ہو یا مالی …. اس کا الزام عائد کرنے اور سزا دینے کے لئے کسی بھی محکمہ یا ادارہ کے چھوٹے رینک کے عہدیداروں کو تلاش کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف نے ایک لیفٹیننٹ جنرل ، ایک میجر جنرل ، متعدد بریگیڈیئرز ، کرنل اور میجر کے عہدے پر فائز افسروں کو فارغ کر کے یہ بتایا ہے کہ بدعنوانی کے الزام میں اصلاح کے لئے سب سے پہلے اس شعبہ کے اہم اور ذمہ دار لوگوں کا احتساب ضروری ہوتا ہے۔

جنرل راحیل شریف کے اس اقدام سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کرپشن کے خلاف بات کر کے ، وہ دوسروں سے اس مشورہ پر عمل کرنے کی توقع کرنے کی بجائے خود اپنے فعل سے اس کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ آرمی چیف نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوجی افسروں کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لئے ضرور ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہوں گے۔ ابھی تک آئی ایس پی آر نے یہ تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ وقت کے ساتھ مزید معلومات سامنے آ سکیں گی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آرمی چیف کے اس فیصلہ کے خلاف بعض لوگ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں اور اس حکم کو ناجائز قرار دیں۔ تاہم جنرل راحیل شریف کے ایکشن سے یہ اصول واضح ہوا ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن کے خاتمہ کے لئے کمیشن اور کمیٹیاں بنانے کے لئے مباحث کرنے کی بجائے موجود نظام اور اختیار کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے جو سخت قواعد و ضوابط اور ڈسپلن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ سویلین ادارے اس نظم اور عملی قوت سے محروم ہیں۔ لیکن اس کا الزام فوج پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی سویلین بیورو کریسی اور سیاستدانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ پورے سماج کی نگرانی اور اصلاح کرنے کے ذمہ دار اداروں کو موثر ، طاقتور اور خود مختار بناتے۔ تا کہ جب بھی قانون کی خلاف ورزی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا تو اس پر سیاسی طوفان برپا کرنے کی بجائے نظام از خود کام کرنا شروع کر دیتا۔  اس بے عملی میں جنرل راحیل شریف نے بلاشبہ ایک مستحسن اور قابل تقلید مثال پیش کی ہے۔
اب سویلین ادارے ، ان کے نگران یا سیاسی لیڈر یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ فوج کا نظام مختلف ہے اور آرمی چیف کے اختیارات بے پناہ ہیں۔ اب جنرل راحیل شریف کے اقدام سے انہیں یہ سبق سیکھنا ہو گا کہ شعبہ جاتی اصلاح کے میکنزم کو موثر اور قابل عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ملک کی 68 برس کی تاریخ میں فوج نے جب بھی ضرورت محسوس کی ہے، سیاستدانوں اور سول بیورو کریسی کو نشانہ بنایا ہے۔ خود اپنی تطہیر کے لئے کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ فوج کے اسی پس منظر کی وجہ سے فوج سے متعلق لوگ خود کو سویلین لوگوں سے برتر اور بہتر ہونے کا تاثر دیتے رہتے ہیں۔ کسی سابقہ یا حاضر سروس فوجی افسر سے نجی گفتگو میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوتا کہ ان کے نزدیک تمام سماجی برائیوں کی جڑ سول افسر اور سیاستدان ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اختیار اور اقتدار و مقبولیت کو کرپشن اور بدنظمی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے فیصلہ سے اس ”خوش فہمی اور احساس تکبر“ کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ کیونکہ اب یہ بتایا گیا ہے کہ خاکی وردی پوش بھی اپنے اختیار اور حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ فوج کی طرف سے یہ ” اقبال جرم“ ایک ایسا قدم ہے جس پر آنے والے وقت میں جنرل راحیل شرییف کو ہمیشہ اچھے لفظوں سے یاد کیا جائے گا۔
اس میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ منگل کو ملک میں سب کے احتساب اور کرپشن ختم کرنے کی بات کرنے کے فوری بعد جنرل راحیل شریف نے  درجن بھر اعلیٰ فوجی افسروں کو برطرف کر کے وزیراعظم نواز شریف پر بھی دباﺅ میں اضافہ کر دیا ہے۔ منگل کی تقریر کو بھی سول ملٹری تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا تھا۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ اخذ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ جنرل راحیل نے بھی اپنا بوجھ وزیراعظم مخالف پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ وہ بھی ملک کی اپوزیشن کی طرح پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں نواز شریف کے خاندان کے احتساب کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ملک کے مختلف سیاسی گروہ مختلف مواقع پر فوج سے مراسم کے مبہم حوالے دے کر اپنا قد کاٹھ اونچا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم فوج میں کرپشن کے خلاف عملی قدم اٹھا کر آرمی چیف نے منگل کے دوٹوک اور سخت بیان کے سیاسی اثرات کو کم کیا ہے۔ اب یہ کہنا آسان نہیں رہے گا کہ فوج جب بھی کرپشن کی بات کرتی ہے تو اس کا اشارہ سیاستدانوں کی طرف ہوتا ہے اور اس کا مطمع نظر مزید رسوخ ، اختیار اور ملکی معاملات میں مداخلت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اب اس بیان کو یوں پڑھنے کی ضرورت ہوگی کہ ملک کی سول بیورو کریسی اور سیاستدانوں کو بھی اپنے اپنے شعبوں میں اسی طرح اصلاح احوال کی ضرورت ہے جس کا عملی مظاہرہ فوج کی طرف سے دیکھنے میں آیا ہے۔
اس حوالے سے یہ کہنا بھی بے حد ضروری ہے کہ ماضی میں فوج کے سہارے سیاست چمکانے والی جماعتیں اور گروہ جنرل راحیل شریف کے کرپشن کے خلاف بیان اور اقدام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔ فوجی افسروں کی برطرفی کی خبر سامنے آتے ہی ایسے ”وفاداروں“ کے بیان منظر عام پر آنے لگے ہیں کہ وہ دل و جان سے فوج کے ساتھ ہیں اور معاشرے میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے وہ اس کے قدم سے قدم ملا کر چلیں گے۔ جنرل راحیل شریف اس حقیقت حال سے آگاہ ہوں گے کہ ان عناصر نے جب بھی فوج کا ہاتھ بٹانے کی بات کی ہے، یا اس بارے میں عملی قدم اٹھایا ہے تو اس کی سیاسی قیمت بھی نقد ہی وصول کی ہے۔ یوں کرپشن کے خلاف کام کو عذر بنا کر یہ گروہ فوج کو ایک ایسی بدعنوانی کا حصہ بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے ہمیشہ منفی اور غیر پیداواری اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یعنی جاہ پسند گروہوں اور فوج کے گٹھ جوڑ سے ہمیشہ ملک کے مفادات کا سودا کیا گیا اور قومی کاز نظر انداز ہوئی ہے۔
اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ اپنے خاندان اور بچوں پر لگنے والے الزامات کی مکمل تحقیقات کے خواہشمند ہیں تاکہ ان کا نام صاف ہو سکے۔ حکمران پارٹی اس مقصد کے لئے اپوزیشن سے مذاکرات کے ذریعے کوئی متفقہ فارمولا تلاش کرنا چاہتی ہے۔ ابھی تک اس قسم کے رابطوں کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود چونکہ ایک دوسرے کے مدمقابل بھی ہیں، اس لئے متفقہ فارمولے کے نتیجے میں انہیں حکمران پارٹی کے مقابلے میں اپنی سیاسی حیثیت کھو دینے کا اندیشہ ہے۔ گویا یہ سرکس دراصل سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورت میں حکومت کو جلد یا بدیر کسی نہ کسی  قسم کے کمیشن کا اعلان کرنا پڑے گا۔ یہ سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں کہ حکومت سپریم کورٹ کے ذریعے کمیشن بنوانے پر راضی ہو کر اس قضیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس طرح فوری طور پر اپوزیشن کے سارے دھڑوں کو مطمئن کیا جا سکے گا۔
تاہم اگر اس صورتحال کو جنرل راحیل شریف کے بیان اور عمل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ طے کرنا ضروری ہو گا کہ ہر شعبہ کو اپنے مینڈیٹ اور اختیارات کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں احتساب بیورو موجود ہے اور جرائم کا سراغ لگانے کے لئے ایف آئی اے اور پولیس کے ادارے بھی قائم ہیں۔ ان کے فرائض کی فہرست  پر نظر ڈالی جائے تو یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ ملک میں کسی سطح پر کوئی غیر قانونی کام ہو تو یہ ادارے اس کا تدارک کرنے کی صلاحیت اور اختیار رکھتے ہیں۔ لیکن بدنصیبی سے سیاستدان، سول بیورو کریسی اور احتساب و قانون شکنی کو کنٹرول کرنے والے اداروں کو سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بڑے سیاسی عہدیدار کے خلاف الزام سامنے آنے کی صورت میں عدالتی کمیشن یا خود مختار تحقیقات کے مطالبے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان مطالبوں کے نتیجے میں قائم ہونے والی کمیٹیاں یا کمیشن کبھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہو سکے۔ اس لئے ملک کے سارے سیاستدان الزامات کے سائے میں زندہ رہتے ہیں اور انہیں مخالف پارٹی کا پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتے رہتے ہیں۔
اگر ملک میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر دیا جائے اور سرکاری عہدیدار سیاسی انتقام کے خوف کے بغیر فرائض منصبی ادا کرنے میں آزاد ہوں تو ملک میں الزام تراشی کے کلچر میں بتدریج کمی آ سکتی ہے۔ پھر کوئی پولیس افسر کسی وزیر یا وزیراعظم کے بچوں کی قانون شکنی پر کارروائی کرنے کے لئے سرکار کے اشارے کا منتظر نہیں ہو گا۔ بلکہ نظام خود ہی حرکت میں آ جائے گا اور قصور وار کی گرفت کر لی جائے گی۔ پھر ایسا واقعہ نہ ٹاک شوز میں بحث کا موضوع بنے گا اور نہ ہی استغاثہ یا عدالتیں کسی ” بڑے“ آدمی یا اس کے عزیز کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے خوفزدہ ہوں گی۔
ملک سے اگر واقعی کرپشن اور بددیانتی کا خاتمہ مطلوب ہے تو موجودہ نظام کو کام کرنے کا موقع دینا ہو گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض قوانین کمزور ہیں اور بعض صورتوں میں ضابطوں اور رہنما اصولوں کے نہ ہونے سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اسے نافذ کرنے والے افراد اور ادارے اگر بااختیار ، سیاسی اثر سے لاپرواہ اور دیانتدار ہوں تو ناکارہ سے ناکارہ قانون بھی موثر اور کارآمد ہو سکتا ہے۔ صورتحال میں اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اسمبلیوں کے ارکان وہ کام کرنے لگیں گے جس کے لئے انہیں منتخب کیا جاتا ہے۔ یعنی تھانوں اور بیورو کریسی کو کنٹرول کرنے کی خواہش سے نجات پا کر وہ ملک کے ناقص قوانین کو بہتر بنانے کے لئے دل جمعی سے کام کر سکیں گے۔
اس بارے میں فیصلے اور ان پر عمل کرنا مشکل ہو گا۔ البتہ جب تک اس ملک میں نظام کی اصلاح اور اداروں کی خود مختاری کے لئے اہم سیاسی فیصلے نہیں کئے جاتے، سیاستدانوں کی چومکھی جاری رہے گی اور عوام کرپشن ، لوٹ مار اور دھوکہ دہی کا شکار رہیں گے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali