وادی نیلم حادثہ: سات ہلاک مزید لاشوں کی تلاش کا کام جاری

تابندہ کوکب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام


پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کی وادی نیلم میں پل ٹوٹنے کے باعث پیش آنے والے حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک تین خواتین سمیت سات افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

وادیِ نیلم کے کمشنر محمود شاہد کے مطابق دو مزید افراد کی لاشوں کی نشاندہی کی گئی ہیں۔

نوسیری کے مقام پر موجود محمود شاہد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ نیوی کے غوط خور لاشوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وادی نیلم کے علاقے جاگراں کے تفریحی مقام پر حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار نالے پر بنا پل ٹوٹ گیا۔

اس پل پر سے بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار افراد گذر سکتے تھے لیکن حادثے کے وقت اس پر تین تعلیمی اداروں کے لگ بھگ بیس سے بائیس طبا و طالبات موجود تھے۔ پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے 12 طلبا و طالبات اس میں بہہ گیے جبکہ گیارہ زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے بچا لیا گیا۔

اسی بارے میں

وادی نیلم میں پل ٹوٹنے سے سات افراد ڈوب کر ہلاک

’چند روپوں کے لیے دریا میں چھلانگ لگانے والا نوجوان ہلاک‘

نیلم

ZEESHAN GILLANI
ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حادثے کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ اس پل پر زیادہ لوگوں کا جانا منع تھا تاہم پل کے لیے استمعال ہونے والے مواد کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا اس کے تعمیر میں سکیورٹی کا خیال رکھا گیا تھا یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کشمیر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاحت کے پیشِ نظر دریاؤں کے کنارے تفریحی مقامات بنانے کے لیے حکومت کا اجازت نامہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کی سڑکوں پر 400 کے قریب مقامات جہاں حادثات ہوتے ہیں ان کی بہتری کے احکامات جاری کیے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان مقامات کے محفوظ ہونے سے متعلق سالانہ معائنہ بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔

جاگراں نالے پر پیش آنے والے حادثے میں ریسکیو اہلکاروں کے مطابق پل کے سرے پر موجود ایک 20 سالہ نوجوان صائم شفاعت بھی پل ٹوٹنے سے نالے میں جا گرا جو اب تک لاپتہ ہے۔ یہ وہاں موجود پکوڑوں کا ٹھیلا چلانے والے شخص کا بیٹا تھا۔

سی ایم ایچ مظفر آباد کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر نعمان بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ روز چھ لاشیں سی ایم ایچ لائی گئیں جن میں دو خواتین اور چار مرد تھے۔ ‘

’ہمارے پاس پانچ زخمیوں کو بھی لایا گیا جن میں ایک طالبہ کو معمولی فریکچر تھا۔ زخمیوں کو طبی امداد دینے کے پاس لواحقین کے آنے تک انتظامیہ نے اپنے زیرِ نگرانی رکھا۔‘

نیلم

ZEESHAN GILLANI
اس پل پر بیک وقت چار سے زیادہ افراد نہیں گذر سکتے تھے

ڈاکٹر نعمان کے مطابق چھ لاشوں میں سے دو کو ورثا کے حوالے کیا گیا جبکہ باقی چار راولپنڈی بھجوا دی گئی ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر کے وزیرِ اعظم کے ترجمان راجہ وسیم نے بتایا کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر اور صدر بذاتِ خود ریسیکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

’وزیرِ اعظم نے رات زخمی اور ریسکیو کیے گئے طلبا کے ساتھ گذاری اور ان سے فرداً فرداً ملاقات کر کے ان کی ہمت افزائی کی۔‘

’وزیر اعظم نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دو دو لاکھ روپے اور ایک زخمی طالبہ کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا۔‘

بہہ جانے والے مزید چھ افراد کی لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر ریسکیو کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے والے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد مسعود الرحمن نے بتایا کہ دو مخصوص مقامات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

جن لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے ان میں دو خواتین اور چار مرد شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دریائے نیلم پر نوسیری کے مقام پر نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کے ڈیم کو اس مقصد کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ یہاں آنے والی لاشوں کو نکالا جا سکے۔ تاہم جاگراں نالے کے پاس ہی ایک مقام پر پانی گہرائی میں جا کر گرتا ہے وہاں بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کو ملنے والی ایک طالبہ کی لاش بھی وہیں سے نکلی ہے۔‘

نیلم

ZEESHAN GILLANI
نوسیری کے مقام پر یہ ڈیم بند کر دیا گیا ہے تاکہ لاشیں آگے نہ جائیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے اس امدادی آپریشن میں نہ صرف مقامی افراد بلکہ فوج اور نیوی کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ اور اب دریا کے گہرے مقامات پر نیوی کے غوطہ خور لاشوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے اہلکار یاسر جوش کا کہنا تھا کہ حادثے کے مقام سے قریب تر ہونے کے باعث ان کے عملے نے فوری طور پر وہاں پہنچ کر نہ صرف زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی بلکہ انھیں اپنی نگرانی میں مظفرآباد تک پہنچایا۔

یاسر جوش کا کہنا تھا ’سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ پل ناقص تھا لیکن دراصل یہ محض ایک کراسنگ برج تھا۔ اس پر چار لوگوں سے زائد لوگ نہیں چڑھ سکتے تھے۔ تین تنبیہی بورڈ موجود تھے پھر بھی اتنے لوگ اس پر چڑھ گئے۔‘

نیلم

ZEESHAN GILLANI
نیوی کے غوطہ خود لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں

ان کا مزید کہنا تھا ’24 گھنٹے کا وقت گزر جانے کے بعد بہہ جانے والے افراد کے زندہ بچنے کا امکان نہیں ہے۔‘

یہ کشمیر کے دریائے نیلم پر سیاحوں کو پیش آنے والے پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے بھی سیاح نہ صرف دریا میں اترنے کے باعث ڈوب گئے تھے بلکہ سڑکوں سے ناآشنائی کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور دریا میں گاڑیاں گر جانے سے بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

یاسر جوش کا کہنا تھا کہ حادثے کے مقام پر جگہ جگہ تنبیہ ہونے کے باوجود یہ حادثہ پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر آنے والے سیاح کسی بھی مقام پر جاتے ہوئے مقامی گائیڈ کو ہمراہ ضرور لے کر جائیں اس سے وہ کئی حادثات سے بچ سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4911 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp