آخر یہ کالم نگار جانبدار کیوں ہوتا ہے؟


ہمارا تعلیمی نصاب بقول شخصے جاہلی دور کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تربیت کا فقدان ہے۔ اکثریت کا تہذیب و تمدن سے کوئی رشتہ نہیں۔ جو شخص مختلف نقطہ ہائے نظر کی کتابیں نہیں پڑھتا اور اپنے کنویں سے نکل کر کم از کم چار چھ ملک نہیں دیکھ لیتا، اس کی سوچ کا ایک خاص سطح سے اوپر اٹھنا ممکن نہیں رہتا۔

ایسے لوگ ٹی وی دیکھ کر خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسرے کو بھی کرتے ہیں۔ ۔ ایک بات یہ کہ جو لوگ ٹی وی پر دکھائی دیتے ہیں، وہ خود کس قدر قابل ہیں؟ اوریا مقبول جان جیسے یک رخے، زید حامد جیسے یاوہ گو، عامر لیاقت جیسے بھانڈ، مبشر لقمان جیسے مبالغہ فروش اور شاہد مسعود جیسے نفسیاتی لوگوں کو سن کر قوم کا شعور کتنا بلند ہوسکتا ہے؟
ایک جھوٹ تواتر سے بولا جاتا ہے اور پتا نہیں کس نے لوگوں کے ذہن میں ڈال دیا ہے کہ صحافی غیر جانب دار ہوتا ہے۔ صحافی کبھی غیر جانب دار نہیں ہوتا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی بار آج سے پچیس سال پہلے جنگ کے نیوزروم میں داخل ہوا تو وہاں دیوار پر ایک جملہ بڑا بڑا لکھا تھا:
Government and the Press are natural adversaries
حکومت اور پریس ایک دوسرے کے فطری دشمن ہیں۔ حکومت سے مراد ہے وہ گروہ جو اصل حکمراں ہے۔ یہ حکمراں اگر ولی اللہ بھی ہے تو صحافی کا فرض ہے کہ اس کی خامیاں نکالے اور بتائے۔

مجھے جارج اورویل کا ایک اور جملہ بھی یاد آرہا ہے:
Journalism is printing what someone else does not want printed; everything else is public relations
صحافت ہوتی ہے وہ چھاپنا جسے کوئی روکنا چاہے، باقی سب تعلقات عامہ ہے۔

چنانچہ کسی خبر سے کوئی خوش ہورہا ہے تو وہ صحافت نہیں۔ کوئی ناراض ہورہا ہے تو عین صحافت ہے۔ کسی کو ناراض کرنے کے لیے ضروری ہے اس کے خلاف خبر چھاپی جائے۔ لیکن یاد رہے کہ ٹیبل اسٹوری نہیں بلکہ سچ۔

صحافی وہ ہوتا ہے جو فطری طور پر حق پرست ہو، سچ کا علم بردار ہو، انصاف کا داعی ہو، انسانی حقوق کا کارکن ہو، عوام کا نمائندہ ہو، مظلوموں کا پشت پناہ ہو۔ سچ، حقوق اور مظلوم کا ساتھ دینے کے لیے حکومت، ریاست اور مذہب تک کے خلاف کھڑا ہوسکتا ہو۔

صحافی کہاں غیر جانب دار ہونا چاہیے اور کہاں نہیں؟ اگر کوئی سمجھنا چاہے تو مکرر عرض ہے۔ اخبار اور نیوز ویب سائٹ پر خبروں کے صفحات پر خبر کو غیر جانب دارانہ انداز میں لکھنا چاہیے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے نیوز بلیٹنز میں خبروں کی پیشکش کو غیر جانب دارانہ ہونا چاہیے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ٹاک شوز کے میزبان کو بھی غیر جانب دار رہنا چاہیے۔

لیکن اخبار کے کالم اور ویب سائٹ کے بلاگ میں کسی کا غیر جانب دار ہونا ضروری نہیں۔ کوئی صاحب رائے کیسے غیر جانب دار ہوسکتا ہے؟ ریڈیو اور ٹی وی کے ٹاک شوز میں بطور مہمان شرکت کرنے والا صحافی بھی اپنی رائے کا بے لاگ اظہار کرسکتا ہے۔

کالم، بلاگ، کہانی، نظم، ٹاک شوز میں بطور مہمان گفتگو، جلسے یا سیمینار میں تقریر اور سوشل میڈیا کی تحریر، ان سب میں کسی رائے کا اظہار کرنے والے صحافی پر جانب دار ہونے کا الزام لگانا احمقانہ حرکت ہے۔

سوشل میڈیا سب سے بڑھ کر ذاتی رائے کے اظہار کا مقام ہے۔ یہ ہر شخص کی ڈائری کی طرح ہے، خود کلامی کی طرح ہے۔ کوئی شخص اپنے آپ سے گفتگو کرتے ہوئے غیر جانب دار کیسے رہ سکتا ہے؟ اپنے آپ سے زیادہ سچ آپ کسی اور سے نہیں بول سکتے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 97 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi