کرنل جوزف امریکا روانہ ہو گئے


اسلام آباد میں موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارتکار کرنل جوزف امینوئل ہال ’بلیک لسٹ‘ سے نام نکالے جانے کے بعد نور خان ائیر بیس سے امریکی فوجی طیارے میں سوار ہو کر قطر روانہ ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کرنل جوزف امینوئل ہال کا نام ‘بلیک لسٹ’ میں شامل تھا لیکن پیر کو ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا جس کے بعد افغانستان میں موجود بگرام ائیر بیس سے آنے والے امریکی سی 130 طیارے میں سوار ہو کر وہ ملک سے روانہ ہو گئے۔

یاد رہے کہ 12 مئی کو بھی امریکی فوجی طیارہ کرنل جوزف کو پاکستان سے لے جانے کے لیے آیا تھا لیکن ان کا نام ‘بلیک لسٹ’ میں ہونے کی وجہ سے انھیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد امریکی سفارتی عملے اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد پاسپورٹ واپس کر دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے سات اپریل کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی جوزف امانوئل نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

اس سے ایک روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کرنل جوزف کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو کہا تھا کہ وہ دو ہفتے میں فیصلہ کریں کہ آیا ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے یا نہیں۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان عتیق کے والد نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وکلا سے اس بارے میں بات کر کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے کیونکہ ہمیں انصاف تو نہیں ملا۔

‘ہم حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دیں گے کیونکہ انھوں نے کرنل جوزف کے ملک سے جانے کے بارے میں نہ ہی عدالت کو پیشگی آگاہ کیا نہ ہی ہمیں اطلاع دی۔’

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے امریکی اقدام کے جواب میں پاکستان میں امریکی سفارتکاروں پر بھی ویسی ہی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

دس مئی کو تحریر کی گئی اس دستاویز میں کہا گیا کہ امریکہ پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کر رہا ہے سو 11 مئی سے امریکی سفارتکاروں پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت ‘جوابی طور پر محدود’ کر دی جائے گی اور وہ اپنے تعینات کردہ مقام سے 40 کلو میٹر کی حدود میں رہیں گے۔ یہ پابندیاں جمعے سے نافذالعمل ہو گئی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4920 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp