گرمی کی شدت،پانی کی کمی اور گردے کی بیماری


میں نے پچھلے سال ایک کالم میں پاکستانی حکومت سے اپیل کی تھی کہ مزدوروں اور سٹریٹ ورکرز کیلئے گرمی میں رمضان میں بھی پانی پینے کی سہولت مہیا کرنا چاہیے۔ ان ورکروں میں بیکری اور تندوروں پر کام کرنے والے، کھیتوں میں کام کرنے والے، فیکٹریوں خصوصاً بوائلر روم اور سرنگوں اور کانوں میں کام کرنے والے بھی شامل کیے جائیں۔ گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والی حالتوں کی تفصیل اس کالم میں پڑھی جا سکتی ہے۔

گرمی سے پیدا ہونے والی حالتوں کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات بچ جانے کی صورت میں گردے فیل ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان حالتوں کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ اگر گرمی میں مزدوری کرنا اور جسمانی شدت کا کام کرنا اشد ضروری ہو تو ہر پندرہ سے بیس منٹ کے وقفے سے کم ا ز کم ایک کپ ٹھنڈا پانی پینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ گرمی میں مزووری کے دورانیے کو کم کرنے کے علاوہ سائے میں بار بار ریسٹ کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا ڈاکٹروں کیلئے امریکہ کی ایجنسی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف آکو پیشنل ہیلتھ اور سیفٹی کی ویب سائٹ پر گرمی سے پیدا ہونے والی حالتوں کی تشخیص اور علاج اور اُن کے روک تھام کی تدابیر بہت تفصیل سے درج ہیں۔ اس سائٹ پر ورکرز، اُن کے آجروں اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے باقی لوگوں کو گرمی سے پیدا ہونے والے ان حالات سے نمٹنے کیلئے طریقہ کاربہت تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس سائٹ کا مندرجہ ذیل ایڈریس ہے۔

https://www.cdc.gov/niosh/docs/2016-106/pdfs/2016-106.pdf

اس کالم میں میں ایک حالت ریبڈومائیولائیسز Rhabdomyolysis کے بارے میں بات کروں گی۔ ریبڈو مائیولائیسز کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں جسم پر شدید چوٹ لگنے، انفکشن ہونے، دوائیوں کے کھانے خصوصا کولیسٹرال کے کم کرنے کی ادویات، نشہ آور دوائیوں کے اثر اور پٹھوں کی موروثی بیماریاں شامل ہیں۔ مگر اس کی سب سے بڑی وجہ جسمانی مشقت کے دوران مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ہے۔ اس حالت میں جسم کے پٹھوں کے خلیوں کے اندر توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے اور ان میں سے پروٹین نکل نکل کر جسم کے باقی خلیوں کے کام پر برے طریقے سے اثر انداز ہو تی ہے۔ یہ پروٹین گردوں پر خصوصا اثر کرتی ہے۔ اور گردوں کے فیل ہونے کا باعث بنتی ہے۔ اگر اس حالت کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو گردے مستقل طور پر فیل ہو جاتے ہیں۔ امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق یہ اس ملک میں کم ازکم پندرہ فیصد گردوں کے فیل ہونے کا سبب ہے۔ یہاں اس حالت میں پہنچنے والے زیادہ تر جوان اور ویسے صحت مند فوجی ریکروٹ، آگ بجھانے والے عملے اور پولیس کی ٹریننگ کے دوران ہوتے ہیں۔ ویسے تو یہ حالت کسی بھی موسم میں ہو سکتی ہے مگر گرمیوں میں زیادہ عام ہے۔

اس حالت کے مریض کو پٹھوں کا درد اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات پھیپھڑوں پر اثر کی وجہ سےسانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ سینے میں درد اور دل کے دھڑکنے کا شدید احساس بھی ہو سکتا ہے۔ بعض دفعہ الٹی آنے کی کیفیت اور پیٹ میں درد بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی خصوصی بات یہ ہے کہ اس کے مریض کا پیشاب بہت گہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ساری علامات دوسری بیماریوں میں بھی ہوتی ہیں لہذا اس کے لیے فوری طبی امداد ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک بلڈ ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے۔ مگر ضروری ہے کہ ڈاکڑ تشخیص کے وقت یہ کیفیت بھی ذہن میں رکھے۔ بعض دفعہ اس کی کوئی علامات نہیں ہوتیں مگر یہ پھر بھی گردے کو خراب کر دیتی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس حالت میں پہنچنے سے پہلے ہی اس کی روک تھام کی تدابیر کی جائیں۔

پاکستان میں گردوں کی بیماری بہت عام ہے۔ باقی ملکوں کے برعکس یہاں گردوں کی بیماری جوانوں اوربچوں میں بھی زیادہ ہے۔ گرم موسم کی سختی کی وجہ سے ریبڈومائیولائیسز گردوں کے فیل ہونے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ مگر یہاں بہت اچھی کوالٹی کی پاپولیشن سٹڈیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری وجوہات کا مکمل علم نہیں ہے۔

پاکستان میں عموما گردوں کے فیل ہونے کے ابتدائی وقت کا علم نہیں ہو پاتا کہ لوگ اُسی وقت ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جب وہ بیمار ہوتے ہیں۔ اور اس کا علم عموماً اسی وقت ہوتا ہے جب مریض آخری سٹیج پر ہوتا ہے اور اُس کو ڈائیلسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ گردوں کے فیل ہونے کی وجوہات میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، گردے کی انفکشن، بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے دردوں اور دیگر بیماریوں کی گولیاں لمبی مدت تک کھاتے رہنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ بہت کیسز میں گردے کے فیل ہونے کی وجہ کا علم نہیں ہوتا مگر اس کی وجہ یہاں پر پڑنے والی سخت گرمی میں مناسب مقدار میں اور بار بار پانی نہ پینا شامل ہے جو کہ جسم میں پانی اور نمکیات میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

پا کستان میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اب گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا پبلک ہیلتھ کی طر ف سے لوگوں میں گرمی سے پیدا ہونے والی حالتوں اور گردوں کے نقصان کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی مہم چلانا چاہیے۔ اس کیلئے حکومت، میڈیکل ڈاکٹروں اور پبلک ہیلتھ کے آفیشلز کو ملک کے علما کے ساتھ مل کر اس بات کا حل تلاش کرنا چاہیے کہ اس شدت کی گرمی میں جان بچائو اور گردے بچائو مہم کو کیسے کامیاب بنایا جائے۔ خصوصاً رمضان میں چونکہ زیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور باقی بیماریوں اور اُن کی دوائیوں کی وجہ سے گردوں کے فیل ہونے کے چانسز زیادہ ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کو اول تو رمضان میں روزے نہ رکھنے کی ہدایت کی جائے یا پھر روزے رکھنے کی صورت میں روزے کے دورانیے میں ائیر کنڈیشنڈ گھروں اور دفتروں میں ہی رہنے کی تلقین کی جائے۔ مزدورں، مستریوں، کسانوں، بیکری اور تندوروں پر کام کرنے والوں،گلیوں میں صفائی کرنے والوں، فیکٹری اور کانوں میں کام کرنے والوں کی جان اور گردے بچانے کیلئے علما کو فتوے دینا چاہئیں کہ سخت گرمی میں رمضان میں بھی اُن کو کام کے دوران باربار ٹھنڈا پانی کی پینے کی اجازت ہونی چاہیے۔

روزے رکھنے کا ایک مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس سے ان غریب لوگوں کی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے جنہیں بعض دفعہ دو وقت کا کھانا بھی نہیں ملتا۔ اگر ہم ان غریب جوان مزدوروں کی حالت کا اندازہ لگا کر بھی ان کی مدد کو تیار نہیں ہیں تو ہمیں اپنے مذہب کی روح سے کوئی آشنائی نہیں ہے۔ زیادہ تر علما اور حکومتی طبقے کے افراد چونکہ سڑکوں، کھیتوں، گلیوں، تندورں، کانوں اور فیکٹریوں میں کام نہیں کرتے اور انہیں رنگ رنگ کے کھانے سحری اور افطاری میں دستیاب ہیں لہذا ان کے لیے ان مزدوروں کی حالت سمجھنا آسان نہیں ہے۔ میری ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنے مذہب کی روح کے عین مطابق ان کام کرنے والوں کی مدد کریں۔ یہ مزدور نہ صرف اپنے لیے اس گرمی میں محنت کرنے پر مجبور ہیں بلکہ ان کے بچے اور بسا اوقات ان کے بوڑھے ماں باپ بھی ان کے آسرے پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گردوں کی بیماری کی صورت میں ان کے پاس علاج کی بھی اتنی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔

پاکستانی حکومت نے پچھلے سال روزوں میں کھانے پینے والوں کیلئے سخت قوانین کا اعلان کیا تھا۔ اُس کے تناظر میں حکومت سے اپیل ہے کہ یا تو وہ ان سب لوگوں کو ایک ماہ کی تنخواہ دے تاکہ وہ اس شدت کی گرمی میں گھروں میں رہ کر روزے رکھیں یا پھر ان ورکرز کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیں کہ حکومت کا بنیادی فرض بہرحال شہریوں کی جان اور صحت کی حفاظت ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 30 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi