نوجوان صحافی علم اللہ کے سفرنامے پر ان سے خصوصی مکالمہ


اردو میں سفرناموں کی روایت گرچہ نئی نہیں ہے، لیکن معیاری سفرناموں کی کمی ہمیشہ محسوس ہوئی ہے۔ ہمیں حسرت ہی رہی کہ ہمارے یہاں چند درجن اس پائے کے سفرنامے ہوتے، مثلا؛ شبلی، مستنصر حسین تارڑ، ابن انشا، اے حمید وغیرہم نے لکھا۔

ہندی کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی رہا۔ ایک راہل سانکرتیاین ضرور ہیں، انھوں نے اس صنف کو نئی جلا بخشی۔ موجودہ دور میں جب کہ نئے لکھاریوں پر فکشن نگاری بلکہ منٹو بننے کا بھوت سوار ہے؛ کچھ سنجیدہ فکر نوجوان اہل قلم غیر فکشن نثر میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اس فہرست میں ایک اہم نام میرے دوست اور نوجوان لکھاریوں کی بے باک ترین آوازوں میں سے ایک محمد علم اللہ ہیں۔ ایران پر ان کا سفر نامہ گزشتہ دنوں شایع ہوکر کتابی شکل میں سامنے آیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس نوجوان لکھاری سے اس کے تجربات جانے جائیں۔

مالک اشتر: علم اللہ صاحب، آپ بنیادی طور پر صحافی ہیں، سیاسی اور سماجی امور آپ کا میدان ہے ہر چند کہ آپ کہانیاں بھی لکھتے رہے ہیں، لیکن سفرنامہ لکھنے کا خیال کیوں اور کب آیا؟

محمد علم اللہ: میں نے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا ہے، یہ غالبا مکتب چہارم کی بات ہوگی، اس وقت میری عمر سات آٹھ برس کی رہی ہوگی، ابا جی کے گاوں کے اسکول سے تبادلہ ہو گیا تو وہ ضلع پلاموں کے پاکی میں اپنی تدریسی خدمات انجام دینے لگے؛ اس کے بعد وہاں سے بھی ان کا تبادلہ ہو گیا اور وہ گاوں سے قریب لوہردگا نامی شہر کے ایک اسکول ندیا ہندو اچیہ ودھالیے میں اپنی تدریسی خدمات انجام دینے لگے؛ ان دنوں آج کی طرح بسوں اور ٹرینوں کی سہولت میسر نہیں تھی، تو وہ ہفتے کی چھٹی میں گھر آتے؛ غالبا گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں، تو ابا جی اپنے ساتھ مجھے وہاں لے گئے؛ یہ انتہائی سر سبز و شاداب اور معدنیات سے پر علاقہ تھا؛ مجھے یاد پڑتا ہے ابا جی نے مجھے اس شہر کی خوب سیر کرائی اور شام کو جب قیام گاہ واپس لوٹے تو اے فور سائز کی کاپی میں دونوں طرف حاشیہ موڑ کر، پیشانی پر لوہردگا کا سفرنامہ عنوان ڈالا اور سفرنامے کی باریکیاں بتاتے ہوئے، مجھ سے کہا کہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے، اس کو اس میں لکھو؛ مجھے یہ نہیں پتا کہ میں نے اس وقت اس میں کیا لکھا تھا، لیکن ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ ابا جی نے اس کی تعریف کی تھی اور اس کے بعد جن جن لوگوں نے اس کو دیکھا تھا، انھوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا؛ مجھے تبھی سے سفرنامے لکھنے اور ڈائری رقم کرنے سے ایک انسیت سی ہو گئی؛ اب بھی گرچہ میں نے ادب کی تقریبا سارے ہی فنون میں طبع آزمائی کی ہے؛ مجھے سفرنامہ لکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے؛ طالب علمی کے دور میں بھی میں نے جن شہروں کا سفر کیا یا مجھے کسی نئی جگہ جانے کا موقع ملا، تو وہاں کے بارے میں ضرور میں نے کچھ نہ کچھ لکھا؛ ان شا اللہ جلد ہی اندرون ملک کیے گئے سفر اور اس پر لکھی گئی تحریروں کا مجموعہ، قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا۔

اشتر: آپ نے فرمایا کہ آپ کم عمری ہی سے سیر و سفر کی روداد لکھنے میں دل چسپی رکھتے تھے؛ جب آپ کسی سفر یا دید کی روداد لکھتے ہیں، تو آپ کن باتوں کو پیش نظر رکھتے ہیں اور کن چیزوں کی نشان دہی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں؟

علم اللہ: اشتر صاحب! آپ خود ایک اچھے لکھاری ہیں، آپ تو یہ بات جانتے ہی ہیں کہ ہر ایک کے دیکھنے کا نظریہ الگ ہوتا ہے؛ یہ منحصر ہوتا ہے دید بان پر کہ وہ چیزوں کو کیسے دیکھتا ہے اور قاری کو کس انداز میں دکھاتا ہے؛ کوئی چیز کسی کو بہت اچھی لگتی ہے لیکن دوسرے کو وہی شے بالکل ہی بھدی۔ ہر ایک کے حسن کا معیار بھی الگ الگ ہوتا ہے؛ ایسے میں ایک تخلیق کار کے لیے یہ فیصلہ کرنا یقینا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے قاری کو کیا دے؛ عام طور پر ہمارے یہاں چیزوں کو جیسا دیکھا، ویسا ہی پیش کر دینے کی عادت ہے؛ لوگ یہ نہیں جانتے کہ قاری کو کیا دینا ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ بھی جاتی ہیں تو اس کو پڑھنے کے بعد بجائے اس کے طبیعت شگفتہ ہو، اس سے کچھ ملے، ابکائی آنے لگتی ہے۔ اس میں قاری کی دل چسپی باقی نہیں رہتی؛ تحریر میں کیا چیز چھپانا اور کیا چیز چھاپنا اس کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جہاں تک سفرنامے میں کن باتوں کو پیش کرنے اور کن باتوں کا اجاگر کرنے کی بات ہے تو میرے اپنے سفرناموں میں یہی کوشش ہوتی ہے، کہ میں اپنے قاری کو کچھ نیا دوں؛ اس کے لیے آپ کو بہت ہوم ورک کرنا پڑتا ہے؛ پہلے سے اس جگہ کی تاریخ، ثقافت، کلچر، آرٹ، رہن سہن، کھان پان کا کچھ علم ہو تو کچھ نئی بات تلاشنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ سفرنامے میں ہمارے لیے ایک بڑے آدمی سے لے کر انتہائی چھوٹے (یہاں چھوٹے سے مراد نچلے طبقے کے لوگ، کم پڑھے لکھے، یا مزدور طبقہ مراد ہے) آدمی تک کی اہمیت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی وہ شخص جس سے ہم کچھ بھی امید نہیں کرتے کہ وہ ہمیں کچھ معلومات بہم پہنچا سکتا ہے، اس کی ایک عام سی بات قاری کے لیے خاص بن جاتی ہے؛ جیسے ایران ہی کی اگر میں بات کروں تو وہاں چوں کہ ہمارا واسطہ پڑھے لکھے لوگوں سے تھا، تو وہ کسی بھی چیز کو بہت بڑھا چڑھا کر بولتے تھے؛ کمیوں کو چھپا لیتے تھے،ایسی کمیاں اور خامیاں ہم کہاں سے حاصل کریں؛ اس کے لیے ہم نے با ضابطہ طور پر الگ الگ لوگوں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ڈرائیور، مزدور، ریڑھی والے، ٹھیلے والے بہت سے لوگ شامل تھے۔ ایسے لوگوں سے کچھ نئی بات جاننے کو ملتی ہے۔ پھر اپنی بھی آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ کہتے ہیں ناں، کہ کہانیاں تو بکھری پڑی ہیں، بس دیکھنے والی آنکھیں چاہئیں؛ تو یہاں بھی وہی مسئلہ سمجھ لیجیے۔

اشتر: آپ نے بہت سی جگہوں کا سفرکیا ہے ایران میں ایسی کیا بات لگی جو آپ نے اتنا تفصیلی سفرنامہ لکھنے کا ارادہ کرلیا؟

علم اللہ: ایران سے دل چسپی کی کئی وجوہ ہیں؛ ایک سب سے بڑی وجہ تو یہ کہ اس کے بارے میں سنا بہت تھا، دوسری وجہ فارسی زبان و ادب سے تھوڑی بہت دل چسپی ہے؛ شاید اس لیے بھی کہ آنکھیں کھولنے کے بعد عربی اردو کے بعد جس زبان سے شناسائی ہوئی، وہ فارسی ہی تھی۔ ابو فارسی کے استاد ہیں، تو وہ اکثر شیخ سعدی، اخفش اور دوسرے بزرگوں کے قصے سناتے ہیں؛ پھر جب مدرسے میں پڑھنے کے لیے گئے تو وہاں بھی فارسی زبان و ادب کے ایک بڑے ذخیرے سے متعارف ہونے کا موقع ملا؛ اس کے بعد جامعہ ملیہ آیا تو یہاں بھی گریجوایشن کے بعد ایم اے میں میرا موضوع مشرق وسطیٰ کی تاریخ رہی، جس میں فارسی کا معتدبہ خزانہ موجود ہے؛ بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت کی پوری تاریخ فارسی ہی میں ہے۔ گرچہ ان کتابوں کا ترجمہ انگریزی یا دیگر زبانوں میں ہو چکا ہے لیکن اس میں بھی لوگوں نے ڈنڈی ماری ہے۔ اس میں خصوصا میرے اساتذہ میں پروفیسرایس ایم عزیز الدین ہمدانی اور پروفیسر فرحت نسرین ترجموں میں ہوئی غلطی اور اس کی باریکیوں کے بارے میں بتاتیں تو اس زبان سے ایک دل چسپی سے ہوگئی۔ جامعہ آنے کے بعد میرے دوستوں میں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے احباب کی بھی ایک لمبی فہرست رہی جو ایران کو اپنا قبلہ و کعبہ مانتے ہیں؛ ان سے مختلف موضوعات پر میری گھنٹوں گفتگو رہتی، انھی احباب سے میں امام خمینی کی تحریک اور لٹریچر سے واقف ہوا اور اچھا خاصہ ذخیرہ چاٹ ڈالا؛ یہیں مجھے علامہ اقبال اور غالب کے فارسی کلام کو بھی دیکھنے کا موقع ملا تو ایران سے ایک انسیت سی ہوگئی؛ اور آپ تو جانتے ہی ہیں مجھے تاریخ، ثقافت، کلچر اور آرٹ سے کس قدر دل چسپی ہے۔ مجھے ایران میں اس حوالے سے نستعلیقیت خوب نظر آئی۔ بعد کے دنوں میں جب فلمیں بنانے اور باضابطہ طور پر اس پروفیشن کو اختیار کرنے کا موقع ملا تو ماجد مجیدی، عباس کرستامی، ناصر تغوائی، اصغر فرہادی اوران جیسی متعدد شخصیات کی فلموں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ان لوگوں نے ایران میں کٹر اسلام پسندی کے باوجود خوب صورت فلمیں بنائی ہیں۔ ان سب چیزوں کے دیکھ اور ان کے بارے میں جان کر مجھے اس ملک کو قریب سے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا اور جب مجھے واقعی ان ساری چیزوں کو اپنی حقیقی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا تو میں اپنے قلم کو روک نہیں سکا۔ یہ سفرنامہ یقین جانیے میں نے بالارداہ نہیں لکھا ہے بلکہ یہ واحد سفرنامہ ہے جس نے خود بخود اپنے آپ کو لکھوایا ہے۔ آپ نے اس وجہ کی بابت مجھ سے دریافت کی ہے کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ میں ایران کا سفرنامہ لکھنے پر مجبور ہوا تو بھئی کوئی ایک دو وجہ ہو تو بتاوں، اس میں تو وجوہ کی ایک پٹاری ہے۔ جب میں بتانا شروع کروں گا تو آپ سنتے سنتے تھک جائیں گے اس لیے جانے دیجیے۔

اشتر: چلیے، آپ کی کتاب پر آتے ہیں۔ آپ کی کتاب کے کلیدی ابواب کون کون سے ہیں؟

علم اللہ: آپ نے بہت مشکل سوال کر دیا ہے؛ اس کا فیصلہ کرنا میرے لیے ایک امتحان جیسا ہے۔ سچی بات بتاوں تو میں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں؛ اس میں کہانیوں جیسا بھی کوئی معاملہ نہیں کہ میں کہہ دوں میری فلاں کہانی مجھے زیادہ پسند ہے۔ اس کتاب کو لکھتے ہوئے ابواب بندی کا خیال بھی نہیں آیا تھا؛ بس جیسے جیسے واقعات وقوع پذیر ہوتے گئے اور جو کچھ میں نے دیکھا، یا محسوس کیا ہاتھ کے ہاتھ لکھتا گیا۔ اسے آپ ایک بڑی کہانی یا داستان بھی کہہ سکتے ہیں، جو پندرہ بیس دن کی روداد، احساسات، تجربات اورایرانی علم و ادب کے بیانیہ پر مشتل ہے۔ اس میں کوئی ابواب بندی نہیں ہے قاری کی آسانی کے لیے عناوین بعد میں قائم کیے گئے ہیں، تاکہ بات خلط مبحث کا شکار نہ ہو اور پڑھنے والا دل چسپی سے پڑھتا چلا جائے۔ اس میں ہر عنوان ایک دوسرے سے مربوط اور منظم ہے اور ایمان داری والی بات یہ ہے کہ مجھے سارے ہی موضوع پسند ہیں۔ اس میں بہت زیادہ بات کو نہ تو میں نے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی کسی چیز کو کم تر بنا کر دکھانے کی۔ ایک مرتبہ جب آپ سے آپ کے قاری کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں تو آپ کو بہت محتاط ہو کر لکھنا پڑتا ہے۔ میں نے اس میں پوری ایمان داری اور دیانت داری کے ساتھ حالات بیان کرنے کی کوشش کی ہے؛ جس میں ایران اور وہاں کی مذہبی شدت پسندی پر بھی تنقید ہے؛ ان کی بہت ساری کمیوں کی نشان دہی بھی، ان کے اچھے کاموں کی تحسین بھی ہے اور وہاں کی معیشت، سیاست، سماج، تعلیم و تعلم اور ترقی و تنزلی کے اسباب کا بھی ذکر ہے۔ اس میں آپ کو رومانیت بھی ملے گی، ادب بھی، فلسفہ بھی اور مذہب و جدید افکار کا ذکر بھی۔ ہاں اس میں ایک چیز خاصی اہم ہے اور وہ ہے وہاں کے اساتذہ کے وہ لیکچرز جو میں نے وہاں سنے اور تلخیص نقل کر لی۔ یہ لیکچرز انتہائی اچھوتے اور سلگتے موضوعات پر ہیں جو آپ کو ایک جگہ کہیں بھی نہیں ملیں گے۔

اشتر: جہاں تک مجھے علم ہے اس کتاب کے تحریر ہونے اور اشاعت کے درمیان ایک طویل وقفہ رہا۔ اس کا سبب؟

علم اللہ: دیکھیے میں نے پہلے ہی ذکر کیا، کہ جب آپ کے قاری کی توقعات آپ سے بڑھ جاتی ہیں تو آپ کو بہت محتاط ہو کر لکھنا پڑتا ہے۔ جہاں تک کتاب کے تحریر اور اشاعت کے درمیان وقفے والی بات ہے وہ درست ہے، اور کہتے ہیں ناں “ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“، تو میری اس کتاب کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا؛ تحریر کے بعد اس کی کانٹ چھانٹ اور بناو سنگار کا معاملہ بہت کٹھن ہوتا ہے؛ مجھے اس میں بڑا وقت لگ گیا۔ حالاں کہ ابھی مجھے تشنگی کا احساس ہے؛ ابھی میرے ذہن میں بہت ساری ایسی چیزیں ہیں، جسے میں نہیں لکھ سکا؛ بہت ساری باتیں بعد میں ذہن میں آئیں؛ اگر لوگوں نے ہمت افزائی کی اور اس کے دوسرے ایڈیشن کی نوبت آئی تو ان شا اللہ اور بھی کچھ چیزوں کا اضافہ کروں گا۔ یہاں پر میں آپ کو بتاتا چلوں ”کاتا اور لے بھاگے“، کا قائل میں نہیں ہوں؛ حالاں کہ بہت سے مانتے ہیں کہ انھوں نے پہلی مرتبہ جو لکھ دیا، وہ حرف آخر ہے۔ اس میں کسی قسم کی تبدیلی اس کی اصل کو تباہ کرنے جیسا ہے، لیکن میں اس کو نہیں مانتا؛ تبدیلی اور اس میں مزید بہتری کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ میں نے اپنے اساتذہ سے یہی سیکھا ہے؛ اس لیے میں اپنی لکھی ہوئی چیز خصوصا کتاب یا مقالہ وغیرہ فورا شایع نہیں کرتا؛ لکھ کر کچھ عرصے چھوڑ دیتا ہوں، بسا اوقات دوستوں اور اساتذہ سے مشورہ کرتا ہوں اور اس کے مطابق اس میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے لیے مجھے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے؛ یہ عمل صبر آزما بھی ہوتا ہے اور مشقت طلب بھی لیکن اگر آپ کو چیز اچھی بنانی ہے تو محنت تو کرنی ہی پڑے گی؛ اس لیے بھی اس کتاب میں کچھ تاخیر ہوگئی۔

اشتر: آپ کی یہ کتاب شایع ہونے کے بعد کیسا فیڈ بیک رہا؟ لوگوں کے ابتدائی تاثرات کیا ہیں؟ اور ہاں یہ کتاب کہاں اور کتنی قیمت پر دستیاب ہے؟

علم اللہ: فیڈ بیک تو اچھا رہا؛ مجھے پہلی مرتبہ دس کاپیاں ملیں؛ اس کے بعد پھر چالیس کاپیاں؛ پہلے دس کو احباب نے راستے ہی میں چھین لیا؛ اسے میں برا نہیں مانتا بلکہ اسے اپنے دوستوں کی محبت سے تعبیر کرتا ہوں۔ باقی چالیس میں سے تین میں نے ابا جی کو بھجوا دیے، جسے پڑھنے کے بعد انھوں نے مجھے فون کیا اور دیر تک تعریف کرتے رہے۔ اپنی کسی تخلیق پر ابا جی سے داد وصول کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ انھوں نے بہت کم ہی تحریروں پر مجھے شاباش دی ہے؛ انھوں مجھ سے مزید دس کاپیوں کا مطالبہ کیا ہے جو وہ اپنے دوستوں میں تقسیم کریں گے۔ یہ میرے لیے بڑی بات ہے۔ اب تک جن لوگوں نے کتاب پڑھی ہے تعریف ہی کی ہے۔ آج ہی ایک دوست نے فون کیا اور کہا کہ ”میں نے پہلی مرتبہ کسی کتاب کو ایک بیٹھک میں ختم کیا ہے۔ مجھے کتاب اچھی لگی اور میں اس پر جلد ہی تبصرہ بھی کروں گا“۔ قاری کی جانب سے اس قسم کے تبصرے اور تاثرات فن کار کے لیے بڑے حوصلہ افزا ہوتے ہیں؛ اس سے ان کے اندر مزید کچھ نیا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ابھی کتاب لوگوں تک پہنچ ہی رہی ہے، جیسے جیسے پہنچے گی تاثرات بھی موصول ہوں گے۔ اس کی روشنی میں مجھے خود کو بھی جج کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان کے لیے بیس کاپیاں آج ہی میں نے ڈاک سے ارسال کی ہیں؛ دیکھیں وہاں سے کیا فیڈ بیک آتا ہے۔ کتاب کو معروف اشاعتی ادارہ فیروس میڈیا اینڈ پبلیشنگ پرائیویٹ لیمیٹیڈ نے شایع کیا ہے، جو ایک معتبر ادارہ ہے۔ یہ کتاب ایمازون پر بھی ہے؛ جس کی قیمت محض ایک سو بیس روپے ہے۔

اشتر: جہاں تک مجھے علم ہے آپ اپنی اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ خیال کیوں آیا اور ہم کب تک اس کتاب کو انگریزی میں دیکھنے کی امید کریں؟

علم اللہ: اس کتاب کا ترجمہ میں نے نہیں بلکہ میری ایک دوست آستھا کٹیال کر رہی ہے۔ اپنی لکھی ہوئی کسی چیز کا ترجمہ خود کرنے کی اب میری ہمت نہیں۔ میں نے انگریزی میں اپنی اولین کتاب ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ کا ترجمہ کرکے، اپنے ایک دوست مفتح احسن صدیقی جو کہ کلکتہ ٹیلیگراف میں ایڈیٹر ہیں، کو دیکھنے کے لیے بھیجا تھا؛ آج دو سال گزر گئے انھوں نے مسودہ واپس نہیں کیا۔ اس درمیان میں نے اپنے ایک دوست نجم الہدیٰ ثانی سے بھی اُس کتاب کا ترجمہ کرنے کی درخواست کی تھی، ابھی دوچار دن ہوئے انھوں نے بتایا کہ آدھے سے زیادہ انھوں نے ترجمہ کرلیا ہے؛ یہ میرے لیے یقینا خوشی کی بات ہے۔ اب اگر میرا دوست مجھے میرا ترجمہ واپس کر بھی دیتا ہے، تو میں نجم الہدیٰ ثانی ہی کے ترجمے کو ترجیح دوں گا۔ اس لیے نجم الہدیٰ صاحب صرف اردو ہی نہیں بلکہ انگریزی زبان و ادب کا بھی بڑا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ جہاں تک ایران کے سفرنامے کے ترجمے کی بات ہے، تو یہ میرا ارادہ نہیں تھا بلکہ میں نے آستھا کی ایک انگریزی کتاب، جو کہ اس نے ہندوستان میں میڈیا ٹرولنگ کے حوالے سے انگریزی میں لکھی تھی، کا ہندی ترجمہ کیا تھا؛ وہ مجھے اس کا معاوضہ دینا چاہ رہی تھیں، جسے میں نے منع کر دیا تھا؛ اس نے شاید اسی کے بدلے میں اعزازی طور پر میری کتاب کا ترجمہ شروع کیا ہے۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کتاب کب تک آجائے گی، لیکن اس سال کے اخیر تک امید ہے۔ کچھ میری بھی اپنی مصروفیات ہیں اس لیے اس پر میں بھی زیادہ وقت نہیں دے پارہا۔

اشتر: آپ کی تحریروں کے سلسلے میں بعض ناقدین کی رائے ہے کہ آپ بے باکی اور حقائق گوئی میں کبھی کبھی بہت سخت لکھ جاتے ہیں۔ کیا آپ عمدا ایسا کرتے ہیں؟ اور کیا اس کی کوئی جھلک اس کتاب میں ہے؟

علم اللہ: جتنے منہ اتنی باتیں۔ کہنے والوں کی زبان کوئی بند نہیں کرسکتا، سب کو حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ میں اس کو اپنا سرمایہ تصور کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ دروغ گوئی اور جھوٹ مجھ پر گھڑتے ہیں؛ مجھے ایسے لوگوں سے چڑ ہے۔ ان میں سے بیش تر نے میری تحریریں پڑھی ہی نہیں بلکہ کسی نے اڑا دیا کہ میں مولویوں یا مدرسوں کے خلاف لکھتا ہوں، تو وہ اسی کو لے اڑے۔ انھوں نے خود تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کہ حقیقت میں، میں چاہتا کیا ہوں۔ یہ قبیلہ ”کوا کان لے اڑا“ کے بعد ”کان“ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا بلکہ کوے کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیتا ہے؛ ایسے لوگوں کے بارے میں بھلا میں کیا عرض کروں۔ جہاں تک عرض حال میں سخت گوئی کی بات ہے تو میں ایسا جان بوجھ کر کبھی نہیں کرتا بلکہ لکھنے کے بعد اکثر اپنے کچھ احباب اور سینئرز کو دیکھنے کے لیے بھیج دیتا ہوں، کہ اگر کوئی سخت یا غلط بات ہو تو وہ اس کو حذف یا اس کی تصحیح کر دیں؛ لوگوں کی شکایت پر گزشتہ دو تین سال سے باضابطہ طور پر میں اپنی تحریر اپنے اڈیٹڑ کے پاس بھیجتا ہوں اوران کے اوکے کرنے کے بعد ہی اشاعت کے لیے ارسال کرتا ہوں۔ اس کے بعد بھی لوگوں کو شکایت ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ اس کتاب میں ایسی سخت بیانی کی جھلک نہیں ہے بلکہ میں نے انھی شکایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کئی اساتذہ اور معتبر ترین دوستوں سے اس پر نظرثانی کرائی ہے۔ چوں کہ یہ خالص ادبی اور علمی نوعیت کی تحریر ہے تو اس میں بہت زیادہ سخت کلامی کی گنجایش بھی نہیں تھی تو اس حوالہ سے ایسی کوئی بات آپ کو اس میں نہیں ملے گی۔

اشتر: ایک آخری سوال۔ مخالفتوں اور سوشل میڈیا پر اپنے خلاف منظم مہم کے باوجود آپ نے اپنے مباحث سے مراجعت نہیں کی۔ آپ نے خود ایک جگہ لکھا تھا کہ کبھی کبھی خوف اور اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ وہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ مسلسل بے باکی سے لکھ رہے ہیں؟

علم اللہ: بھئی! اگر میں سمجھتا ہوں کہ میں غلط بات نہیں لکھ رہا تو ڈرنے اور خوف کھانے کی کیا بات ہے بھلا؟ ڈر تو محض خدا کا ہے؛ حق اگر آشکار ہو جائے، مراجعت کرنے میں مجھ جیسے خاطی انسان کو بھلا کیا قباحت ہو سکتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں بالکل ہٹ دھرم اور ضدی ہوں بہت سارے معاملوں میں نے اپنی رائے تبدیل کی ہے اور بات سمجھ میں آ جائے پھر بھی اس پر اڑے رہنا میں اس کو دانش مندوں کا عمل نہیں گردانتا۔ خوف اور اندیشے کی جہاں تک بات ہے تو مجھے واقعی کبھی کبھی ڈر لگتا ہے لیکن میرے سامنے حق گویوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں میرے مجازی شیخ محمد علی جوہر، شورش کاشمیری، عامر عثمانی، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور نوجوان و زندہ قلم کاروں میں شاہد الاسلام اور مالک اشتر جیسے لوگ موجود ہیں، جن کو ان کی تحریروں کی پاداش میں شب و ستم برداشت کرنے پڑے؛ اس کے باوجود بھی انھوں نے حق سے منہ نہیں موڑا۔ ان کی ایسی جراتیں مجھے بڑا حوصلہ دیتی ہیں۔ لیکن ادھر ماضی حال میں ہندوستان میں جو ماحول ہے اس سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ پتا نہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ کہیں میری تحریریں مجھے مروا نہ دیں۔ کبھی کبھی میں سوتے میں بھی جاگ جاتا ہوں، مجھے نہیں معلوم ایسا کیوں ہوتا ہے، مگر ہاں ہوتا ہے۔ لوگوں کے انھی رویوں کی وجہ سے کئی مرتبہ سوچتا ہوں اب لکھوں گا ہی نہیں، لیکن یہ نہیں ہوتا کچھ دن اپنے آپ پر جبر کر کے لکھنا چھوڑ بھی دیتا ہوں، لیکن زیادہ دن میں اس پر قائم نہیں رہ پاتا۔ مجھے لکھنا ہے ان کے لیے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں؛ ان کے لیے جو بے زبان ہیں۔

اشتر: بس ایک ضمنی سوال اور، آپ نے ابھی فرمایا کہ کبھی کبھی آپ کو لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے، تو ایسے میں اگر آپ سے کہا جائے کہ غیر فعال پرسکون زندگی اور سرگرم لکھاری کی بے چین زندگی میں سے کسی ایک کو چن لیجئے تو آپ کیا چنیں گے؟

علم اللہ: جناب آپ نے بہت عجیب و غریب سوال کرکے مجھے مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ سچ بتاوں پر سکون زندگی تو سبھی چاہتے ہیں لیکن وہ زندگی ہی کیا جو غیر فعال ہو۔ ایک تالاب بھی اگر غیر فعال ہوجائے تو سڑ جاتا ہے اور اس میں سے بدبو اٹھنے لگتی ہے۔ میں تو ٹھہرا انسان؛ وہ بھی بے چین؛ جسے اس کے خالق نے غیر متحرک نہیں بنایا، تو بھئی! میں سرگرم رہ کر بے چین رہنے ہی کو ترجیح دوں گا؛ اس لیے کہ بغیر سر گرمی کے زندگی کا تصور، میرے لیے محال ہے۔ مجھے مشکلوں ہی میں جینے کا مزا آتا ہے اور اب تو مجھے مشکلوں سے عشق ہو گیا ہے۔ آرام ملے تو میں پریشان ہو جاتا ہوں۔ یہ محض لفاظی نہیں بلکہ سچ مچ ایسا ہے اور آپ تو میرے یار غار رہے ہیں آپ سے اچھا میرے بارے میں اور کون جانے گا۔

اشتر: علم اللہ صاحب! آپ نے ہم سے اپنی نئی کتاب پر گفتگو کی اس کے لیے بہت شکریہ۔ ہم آپ کی کتاب کی مقبولیت اور مستقبل میں مزید قلمی جواہر پاروں کے منتظر رہیں گے۔
علم اللہ: میں بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے یہ عزت بخشی۔ خدا آپ کی زبان مبارک کرے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 79 posts and counting.See all posts by malik-ashter