کچھ ’’اپنے‘‘ اور’’آپ‘‘ کے بارے میں!


رن مریدی ایک ایسا فعل ہے جو ملک بھر میں صرف ایک نقطے کے فرق سے ہر جگہ روا رکھا جاتا ہے۔ پنجاب میں یہ فعل رن مریدی اور دوسرے صوبوں میں زن مریدی کہلاتا ہے، اگر دیکھا جائے تو رن مرید ہونے میں کوئی حرج نہیں، جب اقبال جیسا فلسفی شاعر اقرار کرتا ہے کہ ’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ تو اس کے بعد اس رونق کائنات کی ناز برداری سے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ’’رن‘‘ اگرچہ عورت کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد بیوی لی جاتی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ جب کسی کو رن مرید کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف ناز برداری نہیں کرتا بلکہ بیوی کے’’تھلے‘‘ لگا ہوا ہے اور آپ کو پتہ ہے ہمارے مردانہ معاشرے میں اگر کوئی بیوی کے ’’تھلے‘‘ لگ جائے تو اسے کتنے طعنے سننا پڑتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر رن مریدی کو ایک احسن فعل سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے گھر میں امن رہتا ہے، نندوں کو شرارت کا موقع نہیں ملتا لیکن میرے اکثر دوست رن مریدی کے حوالے سے خواہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اس عمل کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے،البتہ ایک دوست جو رن مرید ہیں ان دنوں بہت پریشان ہیں مگر وہ بھی خود کو رن مرید ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کا موقف ہے کہ تمام بڑے بڑے فیصلوں کا اختیار ان کی بیوی نے انہیں دیا ہوا ہے اور صرف چھوٹے چھوٹے فیصلے وہ خود کرتی ہے۔ بڑے بڑے فیصلوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسیاں نیز عالم اسلام کا اتحاد وغیرہ آتے ہیں جن کا اختیار ان کی بیوی نے انہیں دے رکھا ہے اور بچوں کی شادی کہاں کرنی ہے، شوہر کی تنخواہ کہاں خرچ ہوتی ہے،شوہر نے کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا کس محفل میں شوہر کو خاموش رہنا اور کس محفل میں اسے بولنا ہے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے فیصلے بیوی نے خود سنبھال رکھے ہیں۔ میرے یہ دوست ا س بات پر تو خوش ہیں کہ ان کی بیوی نے بڑے فیصلے ان کے اور چھوٹے فیصلے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں مگر یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ اس کے باوجود انہیں آزادی کا احساس کیوں نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ صرف میرے دوست کا نہیں تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کا بھی ہے مگر یہاں صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یہاں طالبان اقتدار رن مریدی کے باقاعدہ امیدوار ہوتے ہیں اور قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں ۔ رن اور سپر پاور میں یہی قدر مشترک ہے دونوں کی نظر کرم ضروری ہوتی ہے۔

جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا میں ذاتی طور پر رن مریدی کے حق میں ہوں۔ میرے ایک غیر شادی شدہ دوست اس ضمن میں مجھ سے متفق ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد باقاعدہ اعلان کریں گے کہ وہ رن مرید ہیں ان دوست کا نقطہ نظر وضاحت سے بیان بعد میں کروں گا پہلے ان کی زبان سے ابھی تک شادی نہ کرنے کا فائدہ سن لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ شخص کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ چارپائی کے دونوں طرف اتر سکتا ہے، چنانچہ صرف اس سہولت کے لئے انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی، اب جو وہ شادی پر رضا مند ہوئے ہیں تو صرف اس بناء پر کہ کہیں پڑھ بیٹھے کہ شادی شدہ مردوں کی عمر لمبی ہوتی ہے حالانکہ ہوتی نہیں انہیں عمر لمبی لگتی ہے۔ بہرحال میرے یہ دوست اب تل گئے ہیں کہ وہ شادی بھی کریں گے اور اپنے رن مرید ہونے کا مکمل کھل کر اعلان بھی کریں گے، تاہم ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ اعلان محض اعلان ہوگا صورتحال اس سے بالکل مختلف ہوگی۔ ان کے مطابق جب کوئی گھر میں بھی بڑا معاملہ درپیش ہوگا وہ کہیں گے ملکہ عالیہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے، تعمیل آپ کا یہ خادم کرے گا۔ اس کے نتیجے میں ملکہ عالیہ کوئی فیصلہ صادر فرمائیں گی اور ان کا یہ غلام پانچ منٹ اس فیصلے کے محاسن پر روشنی ڈالے گا بعد میں آہستہ آہستہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے ضمن میں ممکنہ مشکلات کا ذکر کرے گا اور پھر اس کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے بعد آخری جملہ یہ کہیں گا کہ حضور کے وفادار کی حیثیت سے میں نے معاملے کے سارے پہلو آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں فیصلہ بہرحال آپ ہی نے کرنا ہے۔ اس کے بعد ظاہر ہے بیوی بے چاری نے خاک فیصلہ کرنا ہے فیصلہ تو یہ نام نہاد رن مرید ہی کرے گا۔

میں نے اپنی رن مریدی کا ذکر کیا تھا آپس کی بات ہے میں بھی اس قسم کی رن مریدی کا قائل ہوں اور اس تحریر کی حیثیت ایک لحاظ سے’’ ہدایت نامہ شوہراں‘‘ کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حضرات اس سے فیضیاب ہوسکیں اور ممکن ہے تیسری دنیا کے حکمران بھی اس سے کچھ سبق سیکھ سکیں جن کی پتلونیں ایک ٹیلیفون پر گیلی ہوجاتی ہیں۔اور اب آخر میں کیپٹن(ر) عطا محمد خان کی ایک تازہ خوبصورت غزل؎

پھول بن جائیں کبھی پھول اگانے لگ جائیں

ہم اگر تیری محبت میں ٹھکانے لگ جائیں

ٹوٹنا دل کا بہت کار اذیت ہے مگر

کیا ضروری ہے کہ ہم پینے پلانے لگ جائیں

ہم ترا نام بگولوں سے لکھیں ٹیلوں پر

ریت سے ہم تری تصویر بنانے لگ جائیں

یہ ہوائیں بھی ترے شہر کی مجھ جیسی ہیں

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے لگ جائیں

وہ چلا آئے اگر کمبھ کے میلے میں کبھی

ہم دئیے دل کے یہ گنگا میں بہانے لگ جائیں

یہ دروبام شہنشاہوں کے سبھی کانپ اٹھیں

ہم جو انصاف کی زنجیر ہلانے لگ جائیں

یہ محبت ہے یہ ہو جاتی ہے اک پل میں مگر

اس محبت کو بھلانے میں زمانے لگ جائیں

دیکھ لیں گر یہ ستارے مری قسمت کے عطا

میرے دشمن بھی مری ہی مدح میں گانے لگ جائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں