انڈونیشیا: گرجا گھروں پر حملہ کرنے والا خاندان کون تھا؟


Family said to have carried out church attacks

Handout
پولیس کے مطابق اتوار کو چرچوں پر حملہ کرنے والا خاندان یہ تھا

انڈونیشیا میں سورابایا شہر میں تین گرجا گھروں پر خود کش حملے کرنے والا ایک ہی خاندان تھا جن میں ماں باپ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھے۔

پولیس کے سربراہ ٹیٹو کارناویان کے مطابق ماں اور اس کے دو بچوں نے ایک چرچ میں خود کو اڑایا جبکہ باپ اور دو بچوں نے دوسرے چرچوں کو نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں ماں باپ کا ساتھ دینے والی بچیوں کی عمریں محض نو اور 12 سال تھیں جبکہ لڑکوں کی عمریں 16 اور 18 سال تھیں۔

پولیس سربراہ ٹیٹو کارناوین کے مطابق اس حملے میں پہلی مرتبہ کامیابی سے ایک خاتون خود کش بمبار کو استعمال کیا گیا۔

اسی بارے میں

انڈونیشیا: ماں، باپ اور بچوں کے گرجا گھروں پر خود کش حملے

اگرچہ گذشتہ برس ایک خاتون نے صدارتی محل پر بم حملے کی منصوبہ بندی تو کی تھی لیکن وہ پکڑی گئی تھی اور اسے جیل ہو گئی تھی۔

چھ افراد پر مشتمل اس خاندان کے بارے میں پہلے حکام نے کہا تھا کہ یہ شام میں جاری لڑائی کے باعث واپس آنے والے سینکڑوں انڈونیشیئن باشندوں میں شامل تھا۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ یہ لوگ شام نہیں گئے تھے۔

ان حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں انڈونیشیا میں ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے خاندان کا سربراہ ڈیٹا اوئیپریتو انڈونیشیا میں دولتِ اسلامیہ سے متاثرہ گروہ جے اے ڈی کی مقامی شاخ کا سربراہ تھا۔

دونوں نوجوان بیٹوں نے موٹر سائیکل پر چرچ پر خودکش حملہ کیا۔ جبکہ باپ نے بارود سے بھری گاڑی سے دوسرے چرچ میں دھماکہ کیا۔

ماں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چند منٹ بعد تیسرے چرچ میں خود کش حملہ کر دیا۔

ان حملوں کے علاوہ اتوار کی رات کو ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ لوگ بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہاں سے پولیس کو پائپ بم ملے۔

Afghan children run to see the largest Afghan flag after an inauguration ceremony at Wazir Akbar Khan hill in Kabul on September 10, 2014.

AFP
اس سے پہلے بھی شدت پسند تنظیمیں بچوں کو حملوں میں استعمال کر چکی ہیں

جکارتہ پوسٹ نامی اخبار کے مطابق ان کے علاوہ پولیس نے چھ مزید افراد کو بھی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

بچوں سے خود کش حملے کروانا نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے کے علاوہ نائجیریا میں بوکوحرام ایسا کر چکی ہے۔

غریب گھرانوں اور پناہ گزین کیمپوں سے بچوں کو بھرتی کرنے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ انھیں اس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ تاہم پورے کے پورے خاندان کا ایک ساتھ ایسا منظم حملہ کرنا ایک نئی بات ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp