نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اعلامیہ افسوسناک ہے


نواز

AFP

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

منگل کو احتساب عدالت میں غیر رسمی بات چیت کے دوران انھوں نے پیر کے روز ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کیا۔

انھوں نے کہا ’ملک کےاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس رکھی تھی۔‘

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

‘لگتا ہے منصوبہ ساز بہت بے تاب ہیں‘

’قومی سلامتی کمیٹی نے غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘

’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘

خیال رہے کہ فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ہی جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

12 مئی کو ڈان اخبار میں سابق وزیراعظم کا انٹرویو شائع ہوا جس کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘عسکریت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔ آپ انھیں نان سٹیٹ ایکٹرز کہہ لیں۔ کیا ہمیں انھیں اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد پار کریں اور ممبئی میں 150 لوگوں کو مار دیں۔’

کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ غلط معلومات یا شکایات پر مبنی رائے کو حقائق کو نظرانداز کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی

PM HOUSE

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق ان کی جماعت کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے۔

تاہم پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے اور اُنھوں نے کہا ہے کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔

وزیراعظم عباسی نے کہا کہ وہ یہ وضاحت نہ تو آرمی چیف اور نہ ہی نوا ز شریف کی ایما پر دے رہے ہیں۔

احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انھوں نے سوال کیا ’آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟‘انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5673 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp