اصل دفاعی تجزیہ کار کی رائے


بھارت کو امریکہ نے ہمارے خطے کا تھانیدار بنا دیا ہے۔ خود امریکہ بھارت کو تھپکی دینے کے لیے افغانستان میں آ کر بیٹھ گیا ہے۔ یہ جلدی جانے کے ہرگز کسی موڈ میں نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ایسا کوئی پلان ہے ہی نہیں۔

ہماری پوزیشن یہ ہے کہ ہم نے اسی کی دہائی امریکہ سے مل کر روس سے ایک جنگ لڑی تھی۔ امریکہ نے ہمارے ساتھ کچھ معاہدے کیے تھے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو امریکہ نے ہم پر پابندیاں لگا دیں۔ پائپ لائین میں موجود ترقیاتی امداد تو ہمیں دی۔ لیکن دفاعی معاہدے کینسل کر دیے۔

ہم لوگ اکیلے اس قابل نہیں تھے کہ جنگ کے لیے تیار کردہ ایک بڑے انتظام کو اکیلے سنبھال سکتے۔ کشمیر کا محاذ گرم کر لیا گیا۔ ہماری پرائیویٹ جنگی مشین کا سائز بڑا ہوتا گیا۔ افغانستان میں طالبان آ گئے۔ ستمبر گیارہ ہو گیا۔ امریکہ واپس آ گیا۔ صورتحال بدل بھی گئی الجھ بھی گئی۔

ہمارے لیے اپنی تیار کردہ پرائیویٹ جنگی مشین کو سنبھالنا بھی اک مسئلہ بن گیا۔ اپنے قومی موقف پر قائم رہنا دوسرا مسئلہ تھا۔ اپنے ریجنل ڈیزائن جس میں اب ہم ایک بڑے فریق تھے۔ ان پر عملدرآمد ایک تیسرا اور اہم ترین مسئلہ تھا۔ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو جاتی ہے۔ چین سی پیک لے کر آ جاتا ہے۔

نوازشریف سول کی رٹ منوانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ وہ سیاسی انتظام ایسے کرتے ہیں کہ بہت سوچ سمجھ کر اختیار کیا گیا سیکیورٹی ڈیزائین بری طرح ہلنے لگتا ہے۔ نوازشریف کا سیاسی ماڈل بہت سیدھا سادہ ہے۔ جو جہاں جیتے اسے وہاں اقتدار دے دو۔ تاکہ وہ صبر سے اپنی باری کا انتظار کرے اور حکومت ہٹانے کے لیے اتنا اتاولا نہ ہو جائے کہ سسٹم ہی جاتا رہے۔ سارے سیاستدان ہی فارغ ہو جائیں۔

جب پرانے سیاستدانوں نے یہ حکومت چلانے کا یہ مستحکم انتظام کامیابی سے کر لیا۔ اس کا فائدہ تو ہوا لیکن نقصان یہ ہوا کہ وہ سیکیورٹی ڈیزائن کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ گئے۔ اختیار کے لیے ہونے والی اس سول ملٹری لڑائی کی قیادت سیاستدانوں کی جانب سے نوازشریف کر رہے ہیں۔ ان کو تمام سیاسی پارٹیوں اور پرانے سیاستدانوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

حمایت کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ نوازشریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف ان کے قریبی ساتھی چوھدری نثار اس لڑائی میں شروع سے ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ سیکیورٹی ڈیزائن کے ساتھ ہیں، خیر۔

ایسے میں ضرورت تھی کہ ایک نئی پارٹی نئی قیادت سامنے لائی جائے جو اس اتحاد کو توڑے۔ یوں عمران خان سامنے آتے ہیں۔ اپوزیشن کے لیے دستیاب سپیس کو کامیابی سے فل کرتے ہیں۔ پاپولر ووٹ کی قیادت کرتے ہوئے نوازشریف کو چیلنج کرتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت وہ سیکیورٹی ڈیزائن کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

نوازشریف مقامی سیاست اس وقت عالمی مزاج (آپ امریکی مزاج یا سوچ پڑھیں) سے قریب رہتے ہوئے کر رہے ہیں۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ بھارت کو تھانیداری مل چکی ہے۔ امریکہ افغانستان میں آ کر بیٹھ گیا ہے۔ ہمارا فائدہ اس میں ہے کہ ہم اس ڈیزائن کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں اپنے لیے معاشی سیاسی اور قومی فوائد حاصل کریں۔

نوازشریف جب تیسری بار اقتدار میں آتے ہیں تو بڑے فیصلے کرنے کی پوری تیاری کر کے آتے ہیں۔ میڈیا سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ اپنی فیصلہ ساز کمیٹی کو مزید مختصر کر لیتے ہیں۔ اس کو اتنا اوجھل رکھتے ہیں کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ فیصلے کر کیسے رہے ہیں۔ بیوروکریسی سے کام لینے کے لیے وہ پہلی بار چین آف کمان کا سسٹم نافذ کرتے ہیں۔ وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری احکامات دیتا اور ریزلٹ لیتا ہے۔ وفاقی سیکرٹری پرانے مشاورتی سسٹم کی بجائے ایک سینیر افسر کے زیر کمان آ جاتے ہیں۔

نوازشریف نے جو کام بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا وہ جب پھنستے ہیں تو اسی میں۔ نوازشریف نے اپنی خاندانی جائداد کا بٹوارہ کرتے ہوئے۔ اپنا سارا کاروبار پاکستان سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وجہ بڑی سادہ تھی کہ پاکستان میں کاروبار کریں گے تو باتیں ہوں گی۔ سوال اٹھیں گے کام بھی متاثر ہو گا اور پریشر بھی مستقل رہے گا۔ کاروبار میں بہت کچھ زبان پر چلتا ہے۔ ٹیکس بچانے کو منافع بڑھانے کو وہ گنجائش بھی نکال لی جاتی ہے جو قوانین کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ نوازشریف پانامہ میں پھنس گئے، اقامہ میں نا اہل ہو گئے۔
نا اہل انہیں پہلے کر دیا گیا ہے۔ سزا سنانے کو کیس اب چل رہے ہیں۔

اب اک کھلی لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ بات بہت ہی صاف سیدھی اور سادہ ہے۔ نوازشریف کو اس لیے نہیں نکالا گیا کہ وہ واپس آ جائیں۔ ان کی واپسی کا ہر امکان ختم کیا جائے گا۔ وہ واپس آتے ہیں تو نکالنے والوں کو رکھ رکھ کے ٹکریں ماریں گے اپنی طبعیت کے عین مطابق۔

نوازشریف اب خیر سے جیل جا رہے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے وہ چاہیں گے کہ ان کی سزا کی نوعیت اور اس کا تاثر بدل دیں۔ وہ لوگوں کو یقین دلا دیں کہ انہیں کرپشن میں سزا نہیں ہوئی۔ انہیں اس لیے نکالا گیا کہ وہ سیکیورٹی ڈیزائن کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔

وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکی افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ بھارت ان کا علاقائی تھانیدار ہے۔ آج کل امریکہ بھارت میں بہنوں والا پیار بھی ہے۔ تو ایسے میں انہوں نے ممبئی حملے یاد کرا کے صرف اتنا کیا ہے کہ امریکیوں کو بھارتی بھی یاد کرائیں کہ بندہ ٹھیک تھا۔ ہمارے والی باتیں کرتا تھا۔

وزیرستان میں شدت پسند واپس آ رہے ہیں۔ مفاہمت کی پالیسی کے تحت انہیں واپس لایا جا رہا ہے۔ کون کون آ چکا ہے نام لکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ ان سب کو یہ سوچ کر واپس لایا جا رہا ہے کہ افغانستان میں بیٹھیں گے تو پرائی باتوں میں آ کر اپنے وطن میں نہ آگ بھڑکائے رکھیں۔

شدت پسند مفاہمت کر کے ہی واپس آ رہے ہوں۔ ایسے میں ہمیں منظور پشتین کی قیادت میں سرگرم فاٹا کے نوجوانوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ معاملہ نازک ہو گیا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آئی تو نوازشریف کے بیان میں نان سٹیٹ ایکٹر کے ذکر پر غور کر لیں۔

اصلی دفاعی تجزیہ کاروں نے بہت کچھ بتایا لیکن بات لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اس پر بات کرتے رہیں گے ابھی بات یہیں تک ہی  ختم کرتے ہیں۔ جاتے جاتے  اسلام آبادی گپ سن لیں جو یہ ہے کہ نوازشریف پانامہ کے جاری کیس میں اپنا بیان دینے والے ہیں۔ اس میں وہ کپتان کے دھرنے اور اس کے پس پردہ کہانیاں، کرپشن الزامات کی حقیقت اور بہت سی آڈیو ٹیپ پیش کرنے والے ہیں۔

اب وہ بولنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت سے جا چکے ہیں۔ جیل جا رہے ہیں۔ الیکشن انہیں جیتنے نہیں دیا جائے گا۔ کپتان اگلا وزیر اعظم آ رہا ہے۔ کتنے دن چل سکے گا؟ اللہ ہی جانے۔

نوازشریف کو جتنا کٹ ٹو سائز کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کے نتائج وہ تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کے حالیہ انٹرویو اور آنے والے بیانات اس بات کو یقینی بنا دیں گے کہ ہمارے الیکشن کی عالمی ادارے بہت تفصیلی مانیٹرنگ کریں۔
تو پھر اس کے بعد کیا منظرنامہ بنے گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 331 posts and counting.See all posts by wisi