بزرگوں سے سوال مت کرو


چونکہ ریاست ماں اور حکومت مائی باپ ہوتی ہے لہذا مشرقی اقدار کا تقاضا ہے کہ خطاِ بزرگان گرفتن خطا است‘‘۔ میری تو تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوئی ہے کہ بزرگوں کی محفل میں اول تو بولنے کی ہمت ہی نہ ہوتی تھی اور جب کوئی بزرگ کہتا کہ میاں تم بھی توکچھ پھوٹو، منہ میں گھونگنیاں ڈالے بیٹھے رہتے ہو۔تب بھی گویا ہوتے ہوئے ایسی گھگھی بندھ جاتی کہ کوئی نہ کوئی بزرگ تنگ آ کے کہہ دیتا میاں تم چپ بیٹھے ہی زیادہ اچھے لگتے ہو۔

اور کسی بزرگ سے کوئی سوال یا بحث ؟ استغفراﷲ۔ بدتمیز بڑوں سے سوال کرتا ہے ؟ ابے تو کیا اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب اپنے سے بڑوں سے بحث کرے گا۔چل چپ بیٹھ۔بقراط بننے چلا ہے۔

اس تربیتی ماحول کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی بڑے نے کہہ دیا کہ یہ سیاہ ہے تو ہم نے منڈی ہلا دی۔ارے بیٹا معاف کرنا یہ سیاہ نہیں گہرا نیلا ہے ، ہم نے پھر کہہ دیا درست فرمایا۔ میاں نگاہ کمزور ہو گئی ہے ہماری ، یہ اودا ہے اودا ، بتقاضائے عمر اب تو اودا بھی سیاہ ٹپائی دینے لگا ہے کیا کہتے ہو تم ؟ جی بجا فرمایا یہ اودا ہی ہے۔اور پھر ہم اپنی سعادت مندی کی بزرگوار سے داد وصول کر کے گھر چلے آتے جہاں ایک اور بزرگ ہمیں کوئی کام تھمانے کے منتظر ہوتے۔

اسکول میں بھی یہی سعادت مند ساز ماحول اور ایسا ہی نصاب نصیب ہوا۔دوسری جماعت کے قاعدے میں لکھا تھا ’’ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے صدر ہیں، انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں‘‘۔اگلے برس اس عبارت میں بس اتنی سی تبدیلی ہوئی کہ ’’ جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے صدر ہیں، انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں ‘‘۔تین برس بعد اسی قاعدے میں لکھا تھا ’’ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر ہیں انھیں ہر وقت ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں‘‘۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

یہی سعادت مندانہ درس تیسری جماعت کی معاشرتی علوم سے بھی چھلکا پڑتا تھا۔اس میں پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں پورا باب تھا جو تقریباً ہر بچے کو زبانی رٹایا گیا تھا۔ جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر چوروں کی طرح پاکستان پر حملہ کردیا اور پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی ، مسلح افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کردیے اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

سن بہتر میں بھی تیسری جماعت کی معاشرتی علوم میں پینسٹھ کی جنگ کا باب جوں کا توں موجود تھا۔بس آخر میں ڈیڑھ سطر بڑھا دی گئی تھی کہ ’’ پینسٹھ کی جنگ کی شکستِ فاش کا بدلہ لینے کے لیے دشمن نے اپنی سازشیں تیز کر دیں جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا ‘‘۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

پھر بزرگوں نے کہا فخرِ ایشیا ، قائدِ عوام ، تیسری دنیا کا لیڈر، تہتر کے آئین کا خالق ، ایک لاکھ قیدی چھڑا کے باعزت لانے والا ، احمدیوں کو اقلیت قرار دینے والا ، گھاس کھا کے بھی ایٹم بم بنانے کا نعرہ لگانے والا جئیے ذوالفقار علی بھٹو صدا جئیے۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

پھر بزرگوں نے کہا بھٹو فاشسٹ ، ملک کو دولخت کرنے والا، مغربی ثقافت کا دلدادہ، عریانی و فحاشی کا سرپرست، اسلام دشمن ، معیشت کا دشمن۔نواب احمد خان کا قاتل۔بھٹو اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پھانسی دو پھانسی دو۔۔۔ آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا روسی ٹینکوں کو بحیرہ عرب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے جہاد ضروری ہے ، جہادی روح ، قانونِ شریعت کے نفاذ کے بغیر بیدار نہیں ہو سکتی۔افغان مجاہدین ہمارے بھائی ہیں ، مہاجرین کے لیے دروازے کھول دو ، روس کی کمر توڑ دو،امریکا زندہ باد، شاہ خالد زندہ باد، شاہ فہد زندہ باد، عرب مجاہدین زندہ باد۔

عالمِ اسلام کا بطلِ جلیل مردِ حق ضیا الحق، دیکھو ضیا شہید کے جنازے میں ہر آنکھ اشکبار، حسین حقانی اور اظہر لودھی بھی اشک بار، پاکستان یتیم ہوگیا۔ہم نے بھی اشکبار کہا آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا ضیا الحق کے دس سال پاکستان کے تاریک ترین سال تھا۔کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر، عرب جہادی، طالبان، القاعدہ ضیا الحق کے تحفے ہیں، افغان مہاجرین بوجھ ہیں۔طالبان ہمارے بچے ہیں، بے وفا امریکا مردہ باد، ہم پاکستان کو سعودی ایرانی جنگ کا اکھاڑہ نہیں بننے دیں گے۔

بے نظیر بھارتی ایجنٹ جس نے سکھ خالصتانی حریت پسندوں کی فہرستیں راجیو گاندھی کے حوالے کر دیں ، بے نظیر بھٹو کرپٹ ، آصف زرداری ٹین پرسنٹ، قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، حمید گل زندہ باد۔آمنا و صدقنا۔

پھر ہم سے کہا گیا کہ نواز شریف اور بے نظیر لوٹ کے کھا گئے ، سب سے پہلے پاکستان،گڈ گورننس، اتاترک کا پاکستان، دہشت گردی کی جنگ ہماری جنگ،جہادی تنظیمیں غیر قانونی ، امریکا پھر زندہ باد، طالبان، القاعدہ مردہ باد،لال مسجد نہیں چلے گی، افتخار چوہدری نہیں چلے گا، شوکت عزیز چلے گا، چوہدری شجاعت چلے گا،ایم کیو ایم چلے گی، ایم ایم اے چلے گی،کشمیر کا نیا فارمولا چلے گا، نیا بلوچستان چلے گا، اعتدال پسند پاکستان چلے گا۔ہم نے کہا آمنا و صدقنا۔

بے نظیر بھٹو شہید، قاتل مشرف، عمران خان، نیا پاکستان، تیسری بار قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں، امریکا مردہ باد، پاک چین دوستی زندہ باد، پاک روس دوستی شاد باد،اینٹ سے اینٹ بجانے والا زرداری زندہ باد، صادق سنجرانی زندہ باد ، نیب زندہ باد، عدلیہ زندہ باد، ڈان لیکس مردہ باد ، سعودی عرب منزلِ مراد، خادم رضوی زندہ باد،ہم چالیس سال سے جاری پالیساں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،آرمی چیف کا یہ بیان زندہ باد، منظور پشتین مردہ باد ،کرپٹ نواز شریف مردہ باد، مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔آمنا و صدقنا۔

مجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا، ترکِ وفا یا عہدِ محبت جو چاہو سو آپ کرو، اپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گے؟ بڑوں سے چھوٹے سوال نہیں کرتے، بے ادبی ہوتی ہے، خطائے بزرگان گرفتن خطا است تو ہماری گھٹی میں ہے، ہماری سعادت مندی کی طرف سے بے فکر ہو جائیے مائی باپ۔ہم بہو بیٹیاں کیا جانیں ، جیسے رکھو کے ویسے رہ لیں گے۔ہمارا کیا ہے ؟ آج بابل کے تو کل کابل کے اور پھر بابل کے ، ہمارا بکنا کیا خریدنا کیا۔آمنا و صدقنا۔

بشکریہ ایکسپریس

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں