غزہ: 55 ہلاکتوں کے بعد صورتِ حال کشیدہ، مزید مظاہروں کی تیاری


غزہ

EPA

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں 58 افراد کی ہلاکت کے اگلے روز منگل کو فلسطینی علاقوں میں مزید مظاہروں کی تیاری کی جا رہی ہے۔

غزہ میں سات ہفتے قبل ہنگامے شروع ہونے کے بعد سے منگل کا دن سب سے خونریز تھا۔

منگل کو اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ ہے، یہ وہ دن ہے جسے فلسطینی ‘نکبہ’ قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے تباہی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

غزہ میں 55 ہلاک، ’اسرائیلی فوج نے اپنا دفاع کیا‘

غزہ: اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین میں جھڑپیں

منگل کو بھی غزہ میں کشیدگی کا امکان ہے، اور کل ہلاک ہونے والے مردوں کی تدفین کی جا رہی ہے۔

پیر ہی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس متنازع منصوبے کی بہت سے ملکوں نے مخالفت کی تھی۔

فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت ہے اور وہ اس اقدام کو اسرائیل کے تمام شہر پر قبضے کی امریکی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 27 سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس نے اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ یہ غزہ میں 2014 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے مہلک ترین دن تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی فوج کے اقدامات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ وہ غزہ کی شدت پسند تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع کر رہی تھی۔

غزہ میں کل ہوا کیا؟

فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران 40 ہزار کے قریب لوگ اسرائیلی سرحد پر لگے جنگلے پر 13 مقامات پر مشتعل ہو گئے۔

انھوں نے پتھر اور جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس کا جواب فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں سے دیا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے ‘دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں پر فائرنگ کی ہے نہ کہ مظاہرین پر۔ مظاہرین کو آنسو گیس جیسے عام طریقوں سے منتشر کیا گیا۔’

یروشلم میں امریکی سفارت خانہ

BBC

عالمی رد عمل

امریکہ: وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے کہا: ‘ان افسوسناک اموات کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ حماس جان بوجھ کر یہ ردِ عمل پیدا کر رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس: ان کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ‘اس اقدام سے امریکی انتظامیہ نے امن کے عمل میں اپنا کردار منسوخ کر دیا ہے اور دنیا، فلسطینی عوام، اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے۔’

فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وافا کے مطابق پی ایل او کی ایکزیگٹیو کمیٹی کے رکن وصل ابو یوسف نے فلسطینی علاقوں میں ‘مکمل ہڑتال’ کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین: کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں میں درجنوں فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرتے ہیں۔’

فرانس: کے صدر امانوئل میکخواں نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی جارحیت کی مذمت کی ۔

ایوانکا

Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سفارت خانے کے افتتاح کے موقعے پر اسرائیل پہنچیں

اقوام متحدہ: کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے ‘اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی موت’ کی شدید مذمت کی۔

ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر اس جارحیت کا مشترکہ الزام عائد کیا اور اپنے سفیر دونوں ممالک سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔

ترکی: کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘اندھادھند اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔’

انسانی حقوق کی تنظیمیں: ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیل فوج کی جانب سے طاقت سے استعمال کی مذمت کی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3742 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp