کیا آپ معذور انسانوں کی عزت کرتے ہیں؟


کیا ہم سب کسی نہ کسی حوالے سے معذور ہیں؟

کیا معذور لوگ ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں؟

کیا معذور لوگ باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟

بعض انسان کیسے اپنی معذوری کے باوجود مشہور ہو جاتے ہیں؟

جب میں ان سوالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن کی سطح پر کئی واقعات ابھر آتے ہیں۔ جن میں سے ایک واقعہ کا تعلق میرے بچپن سے ہے۔

جب میں ایک بچہ تھا تو میرے والد کہا کرتے تھے کہ دو معذور انسان ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر وہ ایک واقعہ سناتے تھے جس میں جب ایک گائوں میں آگ لگ گئی تو سب دیہاتی جان بچانے کے لیے بھاگے لیکن ایک نابینا شخص درخت کے نیچے آرام سے بیٹھا رہا۔ اس کے پاس ایک لنگڑا شخص آیا اور کہنے لگا کہ تم نابینا ہو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ گائوں میں آگ لگ گئی ہے اور اس آگ میں تم جل جائو گے۔ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن میں بھی لنگڑا ہوں میں بھی اپنی معذوری کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتا۔ میں بھی تمہاری طرح آگ میں جل جائوں گا۔ میرا ایک مشورہ ہے جس سے ہم دونوں آگ سے بچ سکتے ہیں۔

’وہ کیا مشورہ ہے؟‘ نابینا شخص نے پوچھا۔

لنگڑے شخص نے کہا ’اگر تم مجھے اپنی کمر پر اٹھا لو تو میں تمہاری آنکھیں بن جائوں گا اور تم میری ٹانگیں اور ہم دونوں گائوں سے بھاگ جائیں گے‘۔

اس طرح دو معذوروں نے ایک دوسرے کی مدد کی اور اپنی جان بچائی۔

کینیڈا میں پچھلے چند برسوں میں حکومت اور عوام نے DISABLED لوگوں کی ضروریات کو سمجھا بھی ہے اور انہیں کچھ سہولتیں بھی مہیا کی ہیں جن میں ڈس ایبلڈ لوگوں کے لیے پارکنگ اور ریمپ سرِ فہرست ہیں تا کہ معذور لوگ بھی زندگی میں بھرپور اور حتی المقدور حصہ لے سکیں۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں چند سال پیشتر جب سوشلسٹ پارٹی کی حکومت تھی تو ان کے پریمیر BOB RAE نے یہ مشورہ دیا تھا کہ ایک قانون ایسا بنایا جائے جس کے مطابق ہر سرکاری ادارہ اپنی ملازمتوں کا دس فیصد معزور لوگوں کو دے۔ اس قانون کے پیچھے فلسفہ یہ تھا کہ کوئی بھی شخص ہر پہلو سے معذور نہیں ہوتا اگر وہ ایک حوالے سے معذور ہوتا ہے تو کئی حوالوں سے قابل ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ ایک حوالے سے معذور ہونے سے اس شخص میں کسی اور حوالے سے غیر معمولی صلاحتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر ایک شخص ویل چیر پر ہے اور کمپیوٹر ٹیکنولوجی کا ماہر ہے تو ہمیں اسے کمپیوٹر کی مہارت کی وجہ سے ملازمت دینی چاہیے نہ کہ ویل چیر کی وجہ سے اسے ملازمت سے محروم رکھنا چاہیے۔ ہمیں ہر معذور شخص کو یہ موقع فراہم کرنا چاہیے کہ وہ اپنی عزتِ نفس برقرار رکھے اور باعذت زندگی گزارسکے۔

جب ہم معذور لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض نے زندگی میں بہت سے کارنامے انجام دیے اور بہت مشہور ہوئے۔ میں یہاں صرف دو مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی مثال مشہور سائنسدان سٹیون ہاکنگ کی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ بیماری MOTOR NEURON DISEASE کا شکار تھے جس نے آہستہ آہستہ ان کے سارے جسم کو مفلوج کر رکھا تھا لیکن اس کے باوجود ان کی سائنس کی خدمات سے کون واقف نہیں۔ اب ہم سٹیون ہاکنگ کی سائنسی تحقیقات کی وجہ سے عزت کرتے ہیں اور ان کی ویل چیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

bORGES

اسی طرح ارجنٹینا کے مشہور ادیب بورخیز‘ جو بونازارس کی ایک لاکھ کتابوں کے ہیڈ لائبریرین تھے‘ جب چالیس برس کے ہوئے تو نابینا ہو گئے۔ انہوں نے اپنی معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بنایا بلکہ نابینا ہونے کے بعد نئی زبان سنسکرت سیکھی بدھ ازم پر تحقیق کی اور ساری دنیا میں لیکچر دیے۔ ایک دفعہ ایک برطانوی لکھاری پول تھورو ان سے ملنے گئے۔ دونوں نے ادب اور فلسفے پر تبادلہِ خیال کیا۔ پھر بورخیز نے تھورو سے کہا کہ آپ میرے مہمان ہیں آپ میرے ساتھ کھانا کھانے چلیں۔ پول تھورو کہتے ہیں کہ وہ پہلا موقع تھا کہ ایک نابینا شخص میرا خضرِ راہ تھا۔ جب بورخیز اپنے پسندیدہ رسٹورانٹ میں داخل ہوئے تو سب حاضرین ان کی عزت میں کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ بورخیز اپنی پسندیدہ کرسی پر جا کر بیٹھ نہیں گئے۔ تھورو نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی وزیر یا صدر کی لوگوں کو اتنی عزت کرتے نہیں دیکھا تھا جتنا اس شام ان لوگوں کو بورخیز کی عزت کرتے دیکھا۔ یہ عزت بورخیز کے ادب پاروں کی وجہ سے تھی۔

Borges and Octavio Paz

بعض لوگ معذور لوگوں پر رحم کھاتے ہیں اور بعض ان کی تہہِ دل سے عزت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ بھی معذور لوگوں کی عزت کرتے ہیں یا نہیں؟

میں مشی گن کی سوشل ورکر اور سوشل ایکٹیوسٹ گوہر تاج صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس اہم موضوع پر ’اجالوں کے سفیر‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور یہ ہماری خوش بختی ہے کہ اس اہم کتاب کی تقریبِ رونمائی کا فیملی آف دی ہارٹ نے کینیڈا میں اہتمام کیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail