کمپیوٹر کی دنیا کے پیر کاکی تاڑ


وجہ تحریک اس تحریر کی حسنین جمال صاحب کا مضمون “شکر کریں آپ لڑکی نہیں ” ہے۔ مضمون میں کچھ اضافہ کرنا چاہوں گی۔ اس موضوع پر لکھنا تو بہت پہلے سے چاہ رہی تھی لیکن ڈر تھا کہ یہ اعتراض نہ آ جائے کہ آپ پاکستان سے دور بیٹھ کر پاکستان کے اس stalking behavior پر بات کرنے والی کون ہوتی ہیں۔ ہماری مرضی ہم جسے چاہیں، جب چاہیں اور جتنا چاہے گھوریں۔ آپ جائیں اپنی راہ لیں۔ تو بس حسنین جمال، آپ کا شکریہ۔ آپ کے کندھے کی آڑ لے کر کچھ فائر میں بھی مار ہی لوں۔ امید ہے برا نہیں مانیں گے۔

پندرہ سال سے غیر اسلامی ملک میں رہائش پذیر ہوں۔ باہر نکلتے وقت موسم کی مناسبت سے کپڑے منتخب کرتی ہوں۔ شدید سردی ہو تو گوریاں بھی اپنے اونی سکارف کو نقاب کی صورت پہنے ہوتی ہیں۔ گویا سردیاں کینیڈا میں بڑا ہی اسلامی ماحول لے کر آتی ہیں۔ گرمیوں میں حال یہ ہوتا ہے کہ گنے چنے چند دن شدید گرمی ہوتی ہے جب دیسی حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ جتنی زیادہ گرمی پڑے اتنا اچھا ہے کیوں کہ اس سے ذوق نظارہ کی تسکین ہوتی ہے۔ پاکستانی، پاکستانی ہی ہوتا ہے۔ محل وقوع بدلنے سے کوئی تبدیلی آنا کافی صبر آزما مرحلہ ہے۔ یہ الگ بات کہ یہاں stalker کے لئے پولیس بھی بلا لی جاتی ہے لہٰذا حفاظتی تدابیر کے بعد ہی گھورنے کی مشق کی جاتی ہے۔ سن گلاسز اور دوربین بھی بیچ پر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ سن گلاسز تو آنکھیں دھوپ سے بچانے کے لئے اور دوربین، دریا کے دوسری طرف دیکھنے کے لئے۔ خوش گمانی بھی بہت اچھی چیز ہے۔

اب چلتے ہیں پاکستان۔ بازار جانے کے لئے محتاط لباس منتخب کرنا ہوتا ہے۔ اگر چادر نہیں پہنی اور لپ سٹک بھی لگا لی ہے تو رکشے والے سے لے کر مانگنے والے تک گھورنا اپنا فرض اولین سمجھے گا۔ کینیڈا سے پاکستان آنے کے بعد پہلے ہی بیرونی دورہ شاپنگ میں مجھ پر انکشاف ہوتا ہے کہ میں ابھی بھی گھوری جا سکتی ہوں۔ ہرچند کہ لڑکی نہیں پھر بھی میرا دل رکھنے کو شاید۔

اب آ جائیں کچھ ڈیجیٹل ورلڈ میں۔ جس دن ڈی پی پر کوئی اچھی تصویر لگا دوں بغیر میوچل فرینڈ کے بھی فرینڈ ریکویسٹ نازل ہو جاتی ہیں۔ مجھے خبریں پڑھنے کی بھی بیماری ہے اور اکثر اوقات نہ چاہتے ہوے بھی کمنٹ سرزد ہو جاتا ہے۔ صبح ایک ہاتھ میں ناشتہ اور دوسرے میں فون لئے کہاں کہاں کومنٹ کئے تھے ان کا سراغ لگانا بہت آسان ہے۔ اگر فرینڈ ریکویسٹ جنوبی پنجاب سے آئی ہوں تو اس کا مطلب ہے دو گھنٹے پہلے رؤف کلاسرا کی پوسٹ پر کمنٹ کیا تھا، اگر ساٹھ ریکویسٹ ایک ساتھ آ جائیں تو اس کا مطلب ہے ریحان الله والا کی پوسٹ پر کمنٹ ہوا تھا، اگرموٹیویشنل اسپیکرز کی مہربان ریکویسٹ آئیں تو کمنٹ نعمان خان عظیمی یا اشرف چوہدری کی پوسٹ پر ہوا تھا اور ہاں اگر مجھ سے بہت زیادہ پڑھے لکھے خوبصورت لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ نظر آئیں تو میں سمجھ جاتی ہوں یہ حشام سرور کے فالورز ہیں جو فری لانسنگ سکھا کر پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب لانے کے خواہشمند ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سننے میں آتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے اور وہ سوشل میڈیا استعمال بھی کرتی ہیں لیکن مجھے بہت دکھ ہے ان ساری غیر متوقع فرینڈ ریکویسٹ میں خواتین یا لڑکیوں کی ریکویسٹ نہیں ہوتیں۔ آخر میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ لڑکیاں مجھے دوست بنانا نہیں چاہتیں، اور اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ کہ میں نے ایسا کیا کیا کہ دوسری طرف سے لگاتار آمد جاری ہے۔ بس قصّہ مختصر یہ کہ پبلک پوسٹ پر کمنٹ فرینڈ ریکویسٹ کو دعوت عام دینا ہے۔ یہاں اگر ناراض نہ ہوں تو عرض کر دوں کہ با لکل انجان لوگوں کی پوسٹ اگر آپ کو پسند آ رہی ہیں تو کسی جھنجھٹ میں پڑے بغیر فالو کا آپشن استعما ل کر لیں۔ اس سے ساری پبلک پوسٹ آپ کو ملتی رہتی ہیں۔ کچھ عرصے بعد آپ اپنا تعارف کروا کر دوست بھی بن سکتے ہیں۔

کچھ لوگ اچانک میسنجر پر ہیلو لکھ دیتے ہیں آگے کچھ نہیں۔ بھائی اگر کوئی کام کی بات پوچھنی ہے تو سوال ہی پوچھ لو، یہ ہیلو کا کیا جواب دیا جائے اور آپ کیسی ہیں بھی نہ پوچھیں، میں بالکل ویسی ہوں جیسی میں ہوں۔

آن لائن stalking بھی بڑی توجہ طلب ہے۔ اس میں ڈی پی کو زوم کرنا۔ ساری تصویروں کا بغور معاینہ کرنا اور ایکٹو ہونے کے ٹائم کا حساب رکھنا شامل ہے۔ بھلا ہو ایکٹو ناؤ (Active Now) کے فیچر کا جس کی بدولت کسی کے سونے جاگنے کے وقت کا بھی باآسانی حساب رکھا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں ایکٹو ناؤ کا مطلب ہے available for chat۔ یہ دونوں قطعا برابر نہیں۔ ہم خواتین ملٹی ٹاسک کرتے ہوئے دوران شاپنگ، ڈرائیونگ کرتے ہوے اور روٹیاں بیلتے وقت نوٹیفکیشن چیک کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نکالنا کہ ہم بالکل سکوں سے فارغ بیٹھے ہیں بالکل غلط ہے۔

 بھلا ہو unseen app کا جس کی مدد سے ہم میسج چیک بھی کر لیتے ہیں اور مارک بھی نہیں ہوتا۔ کیا کریں میسج پڑھ لو تو بھی یہ ہی سننے کو ملتا ہے کہ ہر وقت آن لائن ہوتی ہو۔

اب ایک لطیفہ یاد آ گیا چلیں وہ بھی سن لیں۔ ایک خاتون اپنے میکے تشریف لے گئیں۔ فرج کھولا تو اس میں ایک سپر ماڈل کی تصویر رکھی دیکھی۔ ماں سے پو چھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ میں نے اس لئے رکھی ہے کہ انسپریشن لوں اور زیادہ نہ کھاؤں۔ بیٹی نے پوچھا پھر اثر ہوا۔ ماں نے جواب دیا میرا وزن نو کلو کم ہو گیا ہے اور تمھارے ابّو کا وزن بائیس کلو بڑھ گیا ہے ہر وقت فرج کا دروازہ کھولے کھڑے رہتے ہیں۔

ویسے گھورنے والوں کو زیادہ برا بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی مشاہداتی حس تیز ہو۔ اور وہ مشاہدے سے ریسرچ کر رہے ہوں۔ میرا خیال ہے یہاں مضمون کو سمیٹتی ہوں۔ اگلی بار گھورنے والوں کے لئے رہنما اصول لکھوں گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں