تفصیلی مشاورت سے جاری کردہ خصوصی مفاداتی بیانیہ !


سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کا بمبئی حملوں سے متعلق بیان اس وقت پاکستان میں اور بین الاقوامی سطح پر مختلف انداز میں نہایت اہمیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے اور دیکھا بھی کیوں نہ جائے۔ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے قائد کا بیان ہے جو کہ مختلف اوقات میں تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ بھارت کو بھی موقع ملا ہے کہ اس اہم موقع پر اس بیان سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور پاکستان کے پہلے سے کمزور خارجہ سیکٹر کو مزید دبا سکے۔ میاں نوازشریف کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے ان کی جماعت کے قائدین بالخصوص میاں شہبازشریف جن کو حال ہی میں جماعت کی صدارت کا قلمدان سونپا گیا ہے، کہتے ہیں کہ میاں صاحب کے بیان کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ وہ عام سا اور کمزور سا دفاع ہے جسے عموماً سیاستدان جوشِ خطابت میں کچھ کہنے کے بعد جب ہوش میں آتے ہیں یا ان کے صلاح کار انھیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ آپ کچھ غلط کہہ گئے ہیں تو استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب بھی مشترکہ دفاعی کونسل کی میٹنگ میں مذمتی بیان جاری کرنے پر اتفاق کرنے کے بعد الفاظ کی جادوگری سے اپنی پوزیشن اور میاں صاحب سے وفاداری کو بچانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں مگر اہل نظر اسے ناکام کوشش کہہ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بیان سے میاں نوازشریف کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے تھے یا ہیں اور اس وقت ان کی جماعت پر اس کا کیا اثر ہو گا۔ اس بات سے ہٹ کر کہ پاکستان جو کہ پہلے ہی ان معاملات میں دفاعی پوزیشن میں ہے اسے گرے لسٹ میں ڈالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں بل کہ چھے ماہ کا وقت مزید دیا گیا تھا جو کہ قریباً ختم ہونے کو ہے اس بیان سے ملک کو سخت ترین نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ کسی صورت بھی کوئی محب وطن یا پاکستان سے ہمدردی رکھنے والا شخص اس طرح کا بیان نہیں دے سکتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ میاں نوازشریف نے نہ صرف پاکستان کو مشکل میں ڈالا ہے بل کہ اپنی جماعت کو بھی سخت ترین مشکل میں ڈال دیا ہے کیوں کہ لوگ اب اس بیان کے بعد جہاں میاں نوازشریف کو محب وطن نہیں سمجھ رہے ان کی جماعت بھی اس لائن میں گنی جا رہی ہے۔ میاں شہباز شریف جن کے کاندھے پر جماعت کو الیکشن میں مضبوط جماعت کے طور پر اتارنے کی ذمہ داری تھی وہ بھی ڈانواںڈول نظر آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں میاں نوازشریف نے حالات کے ہاتھوں مجبوراً نہ چاہتے ہوئے میاں شہباز شریف کو جماعت کی صدارت سے نواز دیا مگر دونوں بھائی بل کہ خاندان اندر کی خلش کو ختم نہ کر سکے اور نہ ہی چھپا سکے اور نہ ہی ایک پیج پر آ سکے۔ کیوں کہ میاں نوازشریف جتنے بھی جلسے کر رہے ہیں، ان میں میاں صاحب کے ساتھ ان کی دخترِ نیک اختر بھی نظر آتی ہیں یا وہ لوگ نظر آتے ہیں جن کے بارے میں میاں شہبازشریف نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ کچھ غلط مشیروں نے اپنے مفاد کے حصول کی خاطر میاں نوازشریف کو غلط مشورے دے کر اس مشکل صورتِ حالات میں لا کھڑا کیا ہے۔ جب کہ حمزہ شہباز اور میاں شہباز شریف کا توان جلسوں میں نام تک بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف ایک تجربہ کار منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ کیا یہ بات ان کے منہ سے یوں ہی نکل گئی ہے یا نکل سکتی ہے۔ ایسا شخص جو کہ عرصہ قریباً35 سال سے عملی سیاست میں ہو، تین دفعہ ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہو، کیا اس طرح کے بیان کی اہمیت کو نہیں سمجھتا یا اس بات کو مدنظر نہیں رکھتا کہ اس کے اس بیان سے کون کون سے تار حرکت میں آئیں گے، ملک کا کیا فائدہ یا نقصان ہو گا اور میری ذات کو اس سے کیا فائدہ یا نقصان ہو گا۔ بل کہ اسے یوں کہہ لیجیے کہ ایسے حالات میں کوئی اہم بیان دیتے وقت کیا یہ بات ان کے پیش نظر نہیں ہو گی کہ اس بیان سے مَیں یہ فائدہ حاصل کر سکوں گا۔ یقینا ایسا ہی ہے اور یہ بیان انھوں نے تفصیلی مشاورت کے بعد جاری کیا ہے۔ اور اس سے خصوصی فائدہ حاصل کرنے کے لیے یہ بیان دیا ہے۔ وہ خصوصی فائدہ کیا ہے، مَیں اسے اس انداز میں دیکھتا ہوں کہ میاں نوازشریف اس وقت اپنے آپ کو مختلف مقدمات میں گھرا ہوا دیکھ رہے ہیں اور انھیں نظر آ رہا ہے کہ ان مقدمات میں سے اکثر و بیشتر کے فیصلے ان کے خلاف ہوں گے جس میں زیادہ تر کرپشن کے کیسز ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے اس بیانیے سے وہ دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایک یہ کہ ملک میں ایک نئی بحث شروع ہو جائے اور جو میڈیا پہلے ان کے کرپشن کے کیسز کے حوالے سے ہر وقت ان کو کرپٹ گردان رہا ہے، وہ اس موضوع پر آ جائے اور کرپشن والا موضوع دفن ہو جائے۔ جس میں وہ ابھی تک کامیاب نظر آتے ہیں کیوں کہ اب تمام کیسز الگ اور موضوعِ بحث موجودہ بیان ہی چل رہا ہے۔ اور دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ میاں نوازشریف پاکستان کے ان اداروں کو جو کہ ملک کا ہر سطح پر تحفظ کرتے آئے ہیں اور اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کو زیرِ بار لانا چاہتے تھے۔ کیوں کہ وہ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ میرا مقابلہ عمران خان یا زرداری سے نہیں بل کہ خلائی مخلوق سے ہے۔ یہ اشارہ انھیں اداروں کی طرف ہے۔ اور اس بیان سے وہ ان اداروں پر بین الاقوامی طاقتوں کا دباو ڈلوا کر اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اس بار وہ الیکشن سے فارغ ہو چکے ہیں لہٰذا کسی طرح سے ان مقدمات کی متوقع سزاؤں سے اپنے آپ کو بچا لیا جائے اور پاکستانی عوام چوں کہ بہت جلد بھول جانے کے عادی ہیں یہ ساری کہانیاں جلد بھول جائیں گے اور اگلی باری پھر مَیں لے سکوں گا۔

میرے خیال کے مطابق ان کے مشیروں میں جو لوگ شامل تھے اور جنھوں نے انھیں یہ مشورہ دیا انھوں نے میاں نوازشریف کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھا اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازش میں میاں نوازشریف کو بھی شامل کر لیا۔ میرے اندازے کے مطابق پاکستان کے ادارے اس وقت یہ سودابازی نہیں کریں گے اور ایسی تمام برائیوں کو ختم کر دیں گے جو کہ پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ اور اس بہت بڑی سازش کو اپنے پیش نظر رکھ کر اس کا بھی ہمیشہ کے لیے سدباب کریں گے، کیوں کہ بمبئی حملے کے حوالے سے پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو تعاون کی پیشکش کی جب کہ بھارت نے اس کی طرف بالکل ہاتھ نہ بڑھایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کا یہ سب اپنا کیا دھراتھا۔ مسلم لیگ (ن) کے جو زعما میاں نواز شریف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھیں اس وقت محب وطن پاکستانی ہوتے ہوئے مشورہ امانت جانتے ہوئے میاں صاحب کو بتانا چاہیے کہ اب بھی وقت ہے قبلہ درست کر لیں ذاتی منفعت کی خاطر ملک کے خلاف ایسے بیانات داغنے سے گریز کریں جس سے ملک کو نقصان پہنچے یا ملک کی عزت پر حرف آئے۔ اگر آپ سے ہی کوئی سوال کرے کہ آپ چار سال سے زائد عرصہ حال ہی میں ملک کے وزیراعظم رہے، آپ نے اس بارے میں کیا کیا! تو آپ کے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔ آپ کا بیانیہ کہ مَیں بہت سے راز اگل دوں گا۔ آپ ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ بحیثیت وزیراعظم آپ کے پاس اگر کوئی راز ہے بھی تو آپ اس کے امین ہیں، اور آپ نے ملک کے مفاد میں ان رازوں کو اپنے سینے میں رکھنے کا حلف دیا تھا۔ جو احسان آپ ملک و قوم پر ایٹمی دھماکوں کا جتلاتے ہیں، سر آنکھوں پر کہ آپ نے ایک بڑی طاقت کے سامنے سرنڈر نہیں کیا تھا مگر اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ اس میں آپ کے ساتھ ملک کے دفاعی ادارے اور قوم شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ اور ان دھماکوں میں بھی اہم کردار ملکی عسکری اداروں کا ہے جو اپنی جانوں کے نذرانے بھی دیتے ہیں اور سرٹیفکیٹ ملک میں امن قائم کرنے کا آپ سیاستدانوں کے نام جاری کرواتے ہیں۔ ہمارے لیے سب سے اہم پاکستان ہے جس کے لیے ہر پاکستانی ہر قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
مرزا خادم حسین جرال کی دیگر تحریریں
مرزا خادم حسین جرال کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں