عدم برداشت ،چائے خانہ اور بازوؤں والے


rashid-ahmad-2w

صحرا میں زندگی سرشام ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتی ہے۔ جس وقت شہروں میں حقیقی معنوں میں زندگی جاگتی ہے گاوں دیہاتوں اور خاص کر صحرا میں اس وقت زندگی کی رونقیں دم توڑ رہی ہوتی ہیں۔ دوائے دل بیچنے والے اپنی دکانیں بڑھانے لگتے ہیں۔ ہمارے آس پاس چونکہ کوئی بڑا شہر نہیں اور نہ ہی صحرا میں کوئی ایسی دیوار ہے جس سے سر پھوڑنے کی تمنا غالب نے بھی کی تھی،اس لئے ہمیں دستیاب ایک ہی چائے خانے سے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ چائے خانہ بس نام ہی کا چائے خانہ ہے ورنہ چائے خانے کے نام سے جڑا کوئی بھی رومانس اس میں قطعاً مفقود ہے۔ چونکہ ہم چائے پینے اور پلانے کو فنون لطیفہ کا درجہ دیتے ہیں اس لئے بادل نخواستہ ہمارا اس چائے خانے میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چائے خانے کا مالک ہمیں ’’ادیب‘‘ سمجھتا ہے اور ہماری بڑی عزت کرتا ہے،مگر پھر ایک دن اس خوش فہمی کے غبارہ سے ہوا نکل گئی۔

اب چونکہ کوکا کولا اور پیپسی ’’اسمگل‘‘ کرنے والوں نے صحرا کا راستہ بھی دیکھ لیا ہے اس لئے کچھ عرصہ سے اس چائے خانے کی رونق میں چند فریج نما چیزیں بھی اضافہ کرنے لگیں تھیں اور ہماری قسمت یوں پھوٹی کہ ایک دن چائے جیسی نعمت غیر مترقبہ کو چھوڑ کر چائے خانے کے مالک سے آئس کریم کا مطالبہ کر بیٹھے۔ اب اس کم ظرف مالک کے فرشتوں کے علم میں بھی نہیں ہوگا کہ آئس کریم کس بلا کا نام ہے۔ وہ بیچارہ تو چند ایک سستی قسم کی بوتلیں اس میں سجا کر دل پشوری کررہا تھا۔ ہمارا اس سے آئس کریم کا مطالبہ اس کی نازک طبیعت پر گراں گزرا اور موصوف ہمیں کھا جانےوالی نظروں سے گھورنے لگے اور چونکہ ہمیں بھی اڑتے قسم کے تیر لینے کا شوق ہے تو اس لئے دوسرا سوال داغا کہ سائیں اگر آئس کریم نہیں ہے تو ایک ٹھنڈی ملائی والی قلفی ہی کھلا دیں۔

چائے خانے کے مالک نے جب یوں خود اور اپنے فریج نما ڈربوں کو ’’ایکسپوز‘‘ ہوتے دیکھا تو ہم سے باقاعدہ لڑائی کرنے لگا کہ آپ کا دماغ خراب ہے جو آپ مجھ سے اس طرح کے سوالات پوچھ رہے ہو۔ آپ کو شرم نہیں آتی کہ چائے خانے سے آئس کریم اور قفلی (موصوف فرط جذبات میں قلفی کو قفلی کہہ گئے مگر دیکھیں ظالم نے غصہ میں بھی اصل لفظ ہی بولا۔ جی ہاں قلفی نہیں درست لفظ قفلی ہے۔ ملاحظہ ہو فرہنگِ آصفیہ) کا مطالبہ کر رہے ہو۔ میں نے کہا جناب یہ کون سا خلاف شرع یا خلاف عقل سوال ہے جس پر آپ سیخ پا ہورہے ہیں۔ فریج موجود ہیں تو ایسا سوال کرنا قرین قیاس ہے،مگرسارا دن گاہکوں سے دو دو روپے پر دانت پیس پیس کر موصوف کا پارہ مریخ پر پہنچا ہوا تھا اس لئے ہم جیسے ’’سلیم الطبع‘‘ گاہک پر بھی گرج برس رہے تھے۔ ہم نے دھیمی آواز میں احتجاجاً کہا بھی کہ سائیں ہم تو آپ کے مستقل گاہک ہیں تو فرمانے لگے کہ کونسا میرے باپ پر احسان کیا ہے تم نے؟میں نے کہا آپ کے باپ پر تو نہیں مگر آپ پر تو احسان ہے کہ نہیں۔ موصوف نے سلیس اردو میں فرمایا کہ تم یہاں سے چلتے بنو۔ میں نے کہا سائیں آپ نے جو طرز تخاطب میں یکدم آپ سے تو کا جو سفر معکوس اختیار فرمایا ہے اس پر ہم احتجاج کرتے ہیں،اس پر صاحب نے فرمایا کہ تم یہاں سے کھسکو وڑنہ(نقل بمطابق اصل) تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہوئے گا۔ ہم نے جب ’’عزت سادات‘‘ یوں بھرے ہوٹل میں جاتے دیکھی تو گردن جھکا کے چل دیئے اور حوصلہ،ہمیں پھر غالب چچا نے دیا کہ

ایسا بھی ہے کوئی کہ سب اچھا کہیں جسے

تو صاحبو یہ کہانی صرف چائے خانے ہی پر موقوف نہیں یہ تو کہانی ہے گھر گھر کی ۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں عدم برداشت کا جن آپ کو اپنی بھیانک شکل سے ڈرائے گا۔ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی کٹائی تو اب سیاستدانوں کےکرتوتوں کی طرح عام ہے۔ بات بے بات گالی بکنا،طعنے دینا اور کسی کا گریبان پکڑنا گویا بچوں کا کھیل ہے اور بچوں کے کھیلوں کی لڑائی میں بڑوں کا کودنا اور ایک دوسرے کی سرپھٹولی کرنا جیسی خبریں تو اب زبان زد عام ہیں۔ دس روپے جیب خرچ نہ ملنے پر طلبہ کی خودکشی کی خبریں بھی اخبارات کی زینت ہیں اور محبوبہ کی بے وفائی سے دلبرداشتہ ہوکر چوہے مار گولیاں کھانے والے کم ہمت نوجوان عشاق بھی ہمارے آس پاس ہیں۔ معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر خونی شتوں کا تقدس پامال کیا جاتا ہے۔ ذرا سی توتکار پر میاں بیوی میں نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے تو ان تمام تباہ کن باتوں کے پیچھے بنیادی وجہ وہی عدام برداشت ہے جس کا شکار وہ چائے خانے والا تھا جس کی گلی سے بڑے بے آبرو ہوکر ہم نکلے تھے۔

اس عدم برداشت کا حل تو دائیں یا پھر بائیں بازو والے بتائیں گے جن کے مکالمے،مغالطے اور بیانئے کے کھیل میں بھی عدم برداشت کا جن بوتل سے باہر نکلا قہقہے لگا رہا ہے۔ صاحبو کچھ علاج اس کا بھی!


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

4 thoughts on “عدم برداشت ،چائے خانہ اور بازوؤں والے

  • 22-04-2016 at 4:09 pm
    Permalink

    زبردست راشد صاحب عدم برداشت. بہت بڑا المیہ ہے ہمارا۔ آپ نے آئینہ دکھا دیا

  • 22-04-2016 at 4:54 pm
    Permalink

    اب ہم کا لکھیں بھا.
    ہم تو خود ایں بیماری کا ہاتھوں بے زار ہے.
    آپکا یہ کالم بکلم خود یہ کہہ رہا ہے برداشت نام کی چیز اب نہیں رہی. اس نے بول کر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا آپ نے لکھ کر.

  • 22-04-2016 at 8:50 pm
    Permalink

    ھاھاھا شفیق صاحب

  • 23-04-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    بہت خوب راشد صاحب

Comments are closed.