کیا ہر عورت کے لیے ماں بننا ضروری ہے؟

ارم عباسی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن


حاملہ خاتون

BBC

کیا ہر عورت کے لیے ماں بننا ضروری ہے۔ جہاں بیشتر خواتین کے لیے بچے پیدا کرنا آج بھی اہم ہے وہیں ان خواتین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو بچوں کے بغیر زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

پیو سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق 1976 کے بعد سے ان خواتین کی تعداد دگنی ہوئی ہے جو بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔ امریکہ میں آج ہر پانچ میں سے ایک عورت بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔

مگر بچے پیدا نہ کرنے والی خواتین کو بیشتر معاشروں میں آج بھی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تنگ نظر معاشروں میں تو آج بھی عورت کو تب تک مکمل نہیں سمجھا جاتا جب تک کہ وہ بچہ پیدا نہ کریں۔

گو کہ امریکہ میں بسنے والے بیشتر جنوبی ایشیائی خاندانو ں کے لیے بچوں کو بہتر تعلیم دینا سب سے اہم ہے مگر اس کے بعد شادی اور پھر بچے پیدا کرنے کی ہی تلقین کی جاتی ہے لیکن بیشتر لڑکیاں اب اس سوچ کو چیلنج کر رہی ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کی رہائشی 31 سالہ زینب امین کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ امریکہ سات سال پہلے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئیں اور اب ایک کمپنی کے ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میری خوشی اسی میں ہے کہ میری زندگی میں بچے نہ ہوں۔ ضروری تو نہیں کہ گھر بنانے کے لیے بچے پیدا کیے جائیں۔‘

زینب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سے لوگ صرف اپنی خوشی کے لیے بچے پیدا کرتے ہیں۔ ’یہ سوچے بغیر کہ اس کی تمام ضرورتیں کیسے پوری ہوں گی۔ جیسے بچے خودبخود ہی بڑے ہو جائیں گئے۔ یہ محض خودغرضی ہے۔‘

زینب کے لیے ان کی آزادی سب سے اہم ہے۔ ‘میں اپنی زندگی کسی اور کے مطابق نہیں گزار سکتی۔ میں بچے پیدا کرنے کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتی۔ میرے لڑکے دوست مجھے کہتے ہیں کہ ایسے تو کوئی لڑکا مجھ سے شادی نہیں کرے گا مگر میرا جواب انھیں یہی ہوتا ہے کہ میں بھی کسی ایسے بندے سے شادی نہیں کرنا چاہتی جو مجھ پر میرے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو فوقیت دے۔‘

لاہور میں رہنے والے زینب کے والدین ان کی اس سوچ سے متفق نہیں مگر وہ زینب پر دباؤ بھی نہیں ڈال رہے اور اس کی ایک وجہ دوری بھی ہے۔ زینب کے لیے پاکستان میں رشتہ داروں کے سوالات سے بچنا ناممکن ہے سو بچے کے بغیر زندگی گزارنے کی قیمت ان کے لیے وطن سے دوری ہے۔

’میں اس لیے بھی پاکستان نہیں جا سکتی کیونکہ وہاں تو ایسی بات کرنے والی عورت کو بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ مرد شادی نہ کرے تو وہ مرد ہے مگر ایسی عورت کو بری عورت ہی کہا جاتا ہے۔‘

’کوئی معنی خیز کام بھی اتنا ہی اہم ہے جتنے کہ بچے‘

33 سالہ حرا تاجور کے خیالات کچھ ایسے ہی ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی حرا کو امریکہ میں رہتے ہوئے سات سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ ان کی بڑی بیٹی ساڑھے سات برس کی ہیں جبکہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا چھ مہینے کا ہے۔

وہ اپنے تینوں بچوں سے بے حد پیار کرتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ان خواتین کی حمایت بھی کرتی ہیں جو بچے پیدا کرنے کے حق میں نہیں۔

’بچے پیدا کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو سب کے بس کی بات نہیں اور کچھ کے لیے بچوں کا ہونا ہی زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے مگر شاید میرے لیے نہیں۔ اپنا کریئر بنانا، دنیا میں کوئی معنی خیز کام کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا بچے۔‘

حرا نے لاہور میں لمز سے گریجویشن کی مگر شادی کے بعد سے حرا خاتونِ خانہ ہیں۔ بچوں کی پیدائش کے بعد طے ہوا کہ پہلے شوہر اپنی پی ایچ ڈی مکمل کریں گے۔ اب بچے کچھ بڑے ہوئے ہیں تو حرا نے ماسٹرز کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے اور وہ ابھی پہلے سیمسٹر میں ہیں۔

’مجھے غلط مت سمجھیں۔ میں اپنے بچوں سے بےحد پیار کرتی ہوں لیکن میں ایک مشین بن کر رہ گئی ہوں۔ صبح پہلے ایک بچے کو سکول چھوڑوں پھر دوسرے کو۔ اگر میری بیٹی ایک مخصوص وقت پر ہوم ورک نہ ختم کرے تو وہ تنگ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ میرے شوہر بہت مددگار ہیں لیکن ان پر بچے سنبھالنے کا دباؤ اتنا نہیں تھا اور وہ مکمل اپنی پڑھائی پر فوکس تھے لیکن میرے لیے ایسا کرنا ناممکن ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’ہر عورت ماں بننے کے لیے نہیں بنی۔ لیکن ہمارا معاشرہ ابھی اس نہج پر نہیں پہنچا کہ ایسی عورتوں کو مکمل تسلیم کر سکے۔‘

’یہ معاشرے کا دوغلا پن ہے کہ بچہ پیدا نہ کرنے کی وجہ دیں‘

تنوی رستوگی تو کہتی ہیں کہ آخر وہ معاشرے کو جواب ہی کیوں دیں کہ انھیں بچے کیوں نہیں چاہیے۔

وہ 36 برس کی ہیں اور سوشل میڈیا پر برینڈنگ کا کام کرتی ہیں۔ انھیں بہت شروع سے ہی معلوم تھا کہ وہ بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں اور جیون ساتھی بھی ایسا ملا جو بچوں کے بغیر ہی بہت خوش ہے۔

تنوی کی شادی کو لگ بھگ دس برس ہو چلے ہیں۔ ان کا تعلق نئی دہلی سے ہے اور انھیں بھی امریکہ آئے سات برس ہو چلے ہیں۔

’یہ معاشرے کا دوغلاپن ہے کہ بچے پیدا کرنے والے تو کوئی وجہ نہ دیں مگر مجھے اور میرے شوہر کو وجوہات بتانی پڑتی ہیں کہ ہم ایسے کیوں ہیں۔ ہم اپنی زندگی سے بہت خوش ہیں تو پھر ہم اسے بچے پیدا کر کے تبدیل کیوں کریں۔‘

ان دونوں میاں بیوی کو دنیا کی سیر کا بہت شوق ہے۔ ’لوگ بچوں کے ساتھ گھوم لیتے ہیں مگر میں ایسا نہیں کر سکتی۔ یہ میرے بس کی بات نہیں اور پھر اگر بچے ہو گئے تو ان کا بھی تو خرچہ اٹھانا پڑے گا۔‘

دونوں کے والدین نے شروع میں احتجاج کیا مگر اب وہ ان کے مرضی قبول کر چکے ہیں۔

’ہم دونوں نے اس پر کافی بات جیت کی کہ آخر بچے پیدا ہونے سے ہو گا کیا، تو بس پھر ہم اسی نتیجے پر پہنچے کہ سوائے خاندان کو خوش کرنے کہ اور کچھ نہیں۔ اس لیے ہم اپنی خوشی کو دیکھ رہے ہیں۔‘

لیکن اس فیصلے کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ دونوں اپنے دوست کھوتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے بچے ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی تبدیل ہو چکی ہے۔

’مجھے لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ عورت ہونے کے ناطے میں بچہ نہ پیدا کروں؟ دوست کہتے ہیں کہ ماں بننا بہت خوبصورت عمل ہے۔ میں کہتی ہوں کہ میں اس کے بغیر ہی مطمئن ہوں۔‘

تنوی ایسی مزید لڑکیوں سے ملنا چاہتی ہیں جو ان جیسی سوچ کی حامل ہیں۔

’شوہر جنتا بھی آچھا ہو، بچے کی پیدائش کا اثر ماں کے جسم اور ذہن پر ہی زیادہ ہوتا ہے، عورت ہی کے کریئر پر بھی اثر پڑتا ہے۔ پھر دنیا ویسے بھی کوئی اتنی اچھی جگہ نہیں بنتی جا رہی کہ میں تکلیف پہنچانے کے لیے مزید ایک جان کو دنیا میں لے آؤں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5686 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp