اقتدار کی بھول بھلیاں۔۔۔ کچھ گپ، کچھ تیر تکے


wisi 2 babaمجھے مطالعہ پاکستان،  تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان وغیرہ پر مکمل ایمان ہے۔ پھر بھی کچھ گپیں لگانے کو دل کرتا ہے۔ جسونت سنگھ بہادر نے اپنی کتاب میں قیام پاکستان کی ذمہ داری تنگ دل ہندو قیادت پر ڈال دی تھی۔ ایسا کر کے انہوں نے پچھلی عمرے اپنا مردا جتنا ہو سکتا تھا کامیابی سے خراب کرایا۔  جسونت سنگھ کی  جے ہو۔

متحدہ ہندوستان کی فوج میں فائیٹ فورس میں مسلمانوں کا تناسب پچاس فیصد سے زیادہ تھا۔ یہ تناسب دیکھ  دیکھ کر شدت پسند ہندو قیادت کے دل میں ہول اٹھا کرتے تھے۔ انہوں نے دل لگا کر پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کی۔ مسلمان فوج پاکستان کے حصے میں آئی۔ عام تاثر کے برعکس ایک عدد فوجی دماغ بھی ہوا کرتا ہے۔ فوج نے جب اپنی دفاعی پالیسی ترتیب دی تو اس میں بنیا مہاراج کے ساتھ ایک خنس (مستقل عداوت) اور دشمنی کو بنیادی مقام دیا۔

ایک سیانے حوالدار نے اس پرانی فوجی خنس (عداوت) کی بھرپور داد دی۔ ایسا کرنے کے بعد اس کی وضاحت یوں کی کہ ہماری خنس صرف چھ سات دہائی پرانی ہے۔ بنیا مہاراج کی مسلمانوں لڑاکوں (فوج) سے خنس ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ یہ دو طرفہ محاذ آرائی یہ خنس جیسی بھی غیر حقیقی ہو ، ہمارے خطے کے معاملات کی ڈرائیونگ فورس یہی ہے۔

قائد اعظم نہ رہے تو پیچھے بچی قیادت نے اپنی ہمت اپنے کرتب سے مارشل لا لگوا کر بس کی۔ سیاستدان اپنی رٹ منوانے کی حسرت دل میں ضرور رکھتے رہے لیکن بوجوہ ایسا کر نہ سکے۔ سول بالادستی بذریعہ عوامی قوت منوانے کی تحریک نے قوت پکڑی۔ اس زور آزمائی میں پاکستان کے دو ٹوٹے ہو گئے، ہمیں بھٹو مل گیا۔ بھٹو نے ایک شکست زدہ فوج سے سول رٹ منوائی نتیجے میں ملی پھانسی۔ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

آگے چلیں۔ آج کی بات کرتے ہیں ۔

چار دہائیاں ہونے کو آئیں۔ دو جرنیل بیس سال حکومت کر چکے ہیں۔ فوج اب چار دہائیوں پر مشتمل ایک جنگی تجربے کی بھی حامل ہے۔ یہ اب ایک جدید جنگی مشین میں ڈھل چکی ہے۔ دنیا کے کسی عالمی دارالحکومت سے کوئی سربراہ آئے یا ایلچی، پنڈی جا کر کورنش بجاتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہو ہمیں کسی مہم میں شریک کرنا ہو۔ پنڈی سے آپ کا کیا خیال ہے ضرور الگ سے اور اہتمام سے پوچھا جاتا ہے۔ اب ہم ایک ایٹمی قوت بھی ہیں۔

سیاستدان لگاتار کدو کش ہو ہو کر اب متحد ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی سیانے بھی۔ سیاستدان اب دریا کا وہ گول پتھر ہیں جس سے کبھی پوچھا جائے کہ اتنے پیارے اور گول مٹول کیسے ہو۔ تو پتھر کہتا ہے کہ طوفانوں کے پانیوں نے رگڑ کر کیا ہے۔ سیاستدان اب متحد ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے ان کا ایک مشترکہ قائد بھی ہے۔ اگر اس قیادت کو کوئی چہرہ دینا ہے اس کا کوئی نام رکھنا ہے۔ تو آپ اسے نوازشریف کہہ لیں۔ فوج کا چہرہ تو  اس کا چیف ہی ہوتا ہے۔ اس کی سوچ کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف کرتا ہے۔

پاکستان میں پاور گیم کے نئے اصول طے ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ادارہ ہے جس کی اپنی ایک تاریخ ہے روایت ہے اور سوچ بھی۔ دوسری طرف سیاستدانوں کا نمائندہ ہے۔ اقتدار کی راہداری میں چار دہائی کا تجربہ لے کر سامنے ہے۔ جس کو اپنی کمزوریوں کا پتہ ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اس کے اتحادی تب تک اس کے ساتھ ہیں جب تک انکا سیاسی فائدہ ساتھ رہنے میں ہے۔

یہ فائدہ مستقل رہے اس کا انتظام یوں کیا گیا ہے۔ جس کا جہاں زور ہے اس کو وہاں اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کو زور زبردستی نے یہ سکھایا ہے کہ وسائل کے بغیر سیاست نہیں ہوتی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے لیکن سچ یہی ہے کہ وسائل کے حصول کی خواہش اور ضرورت نے سیاستدانوں کو کرپشن سے اس کے الزامات سے آلودہ کر دیا ہے۔ ہماری دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہ وسائل کے زور پر سیاست میں رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنے وسائل کو طاقتور کی پہنچ سے دور رکھنے کو اپنی مجبوری سمجھتے ہیں۔

سیاستدان اپنی عادت اور اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ابھی اپنی رٹ مستحکم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ لیکن وہ اپنا ایجنڈا پھر بھی رکھتے ہیں۔ جو اتنا پرکشش ہے کہ ان کو بہت سے بڑے کھلاڑیوں کی بیرونی حمایت حاصل ہے۔ طاقت کے حصول اور برقرار رکھنے کے اس جاری کھیل میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔

آرمی چیف نے اپنے ادارے میں دکھائی دینے والا قدم اٹھایا ہے۔ بہت سارے افسروں کا احتساب کر کے اپنے ادارے میں بھی ایک پیغام دیا ہے کہ بہتری کی گنجائش ادھر بھی ہے۔ سیاستدانوں کے لئے اب ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سائیڈ پر دکھائی دینے والے اقدامات کریں۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاور گیم میں وہ زیادہ صاف ستھرے ہو کر سامنے آ سکیں۔ اس کے بغیرسول باللادستی ایک خیال ہی رہے گا۔ تیز رفتار ترقی تبھی ممکن ہے کہ اگر سول بالادستی ہو۔ یہ بالادستی صاف شفاف ہوئے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں


Comments

FB Login Required - comments