نواز شریف کا بیان اور قربت کے لمحات


پال جوزف گوئبلز گذشتہ صدی میں جرمنی کا ایک صحافی اور سیاست دان گذرا ہے۔ یہ ہٹلر کا پروپیگنڈا منسٹر تھا۔ اس عہدے کو پاکستان میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کہا جاتا ہے۔

گوئبلز نے ایک بڑی زبردست تکنیک بیان کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ جو جھوٹ ایک بار بولا جائے وہ جھوٹ ہی رہتا ہے مگر جو جھوٹ ایک ہزار مرتبہ بولا جائے وہ سچ بن جاتا ہے۔ اگر جھوٹ کو تواتر سے دوہرایا جائے تو لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ خود جھوٹ بولنے والا بھی اس بات کو جھوٹ کی بجائے سچ مان لیتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس طرح سے پروپیگنڈے سے متاثر کیا جانا چاہیئے کہ وہ اس بات پر توجہ ہی نہ دے سکیں کہ انہیں جان بوجھ کر پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس لیے پروپیگنڈا ہمیشہ انتہائی سادہ اور متواتر یا مسلسل ہونا چاہیئے۔

گوئبلز نے یہ باتیں اس نے آج سے ستر یا اسی برس قبل کہی تھیں۔ آج یہ باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ آج کی دنیا پروپیگنڈے کی دنیا ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی مقبولیت نے گوئبلز کی تکنیک کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی تمیز نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایک عام فرد بھی اس کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ آپ اپنی مثال لے لیجیئے۔ آپ کو فیس بک، ٹویٹر یا واٹس ایپ پر کوئی ویڈیو یا کوئی میسیج موصول ہوتا ہے تو آپ میں سے کتنے لوگ اس کی تصدیق کے تردد میں پڑتے ہیں؟ فارورڈ ایز ریسیوڈ لکھ کر کتنے مزے سے آگے بڑھا دیتے ہیں۔

ہم بنیادی طور پر ایک ذہنی طور پر مفلس اور فکری طور پر قلاش قوم سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ ہمارے ہاں بے بنیاد چیزیں انتہائی سرعت سے “وائرل” ہو جاتی ہیں۔ اور جو چیز ایک مرتبہ وائرل ہو جائے وہ سند یافتہ قرار پاتی ہے اور اس کی دلیل یہ لائی جاتی ہے کہ کوئی غلط چیز بلاوجہ تو وائرل نہیں ہو سکتی نا۔ ضرور اس میں سچائی ہو گی۔ چنانچہ دھڑادھڑ ہم اس ٹاپ ٹرینڈ یا وائرل “معلومات” کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ ہماری انا ہمیں اس کی سچائی کی تصدیق کرنے سے روک دیتی ہے۔ اگر کوئی ہماری معلومات کو چیلنج کر دے تو بعض اوقات نوبت مرنے مارنے تک پہنچ جاتی ہے۔

ہمارا ہمسایہ بھارت کافی عرصے سے ہمارے خلاف یہ پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی سرحدی خلاف ورزیاں مسلسل کی جاتی ہیں اور دہشت گرد ہماری سرحد پار کر کے بھارت کے اندر “گھس” کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ بھارت کا پاکستان کے ساتھ اصل مسئلہ کشمیر کا ہے۔ ویسے تو بھارت نے اپنے قیام سے ہی پاکستان کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا مگر یہ کڑوا گھونٹ اسے پینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس کا بدلہ وادیِ کشمیر پر جبری قبضہ کر کے لیا گیا۔ گذشتہ ستر سال سے مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔ کشمیر کے رہنے والے اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں استصواب رائے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان ان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی بات بھارت کو چبھ رہی ہے چنانچہ اس کی یہ کوشش ہے اور رہی بھی ہے کہ کسی طرح کشمیریوں کو پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے بھی محروم کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں وہ مسلسل پاکستان پر اپنی سرحدی خلاف ورزیوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کا الزام دھرتا رہتا ہے۔

بھارت کے مسلسل پروپیگنڈے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رفتہ رفتہ عالمی برادری بھی بھارت کی ہم آواز ہوتی جا رہی ہے۔ گوئبلز کے مطابق ایک جھوٹ کو ایک ہزار مرتبہ بولا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف ناکام ریاست، دہشت گردی کی حمایت اور دوغلی پالیسی کا اس قدر تواتر سے پرچار کیا جاتا رہا ہے اور ہنوز کیا جا رہا ہے کہ بیرونی دنیا تو رہی ایک طرف پاکستان میں بھی لوگ پاکستان کو ایک ناکام ریاست سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایسے میں جلتی پر تیل نواز شریف نے چھڑک دیا جب 12 مئی 2018 کو انہوں نے ڈان اخبار کو ایک انٹرویو میں ایک ایسا بیان دے دیا جس کی ان سے کم از کم اس موقع پر ہرگز توقع نہیں کی جا رہی تھی۔

بیرونی دنیا کے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈے سے متاثر نواز شریف کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر یہ مؤقف اپنایا کہ آخر نواز شریف نے کون سی نئی بات کر دی ہے۔ یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں مسلح تنظیمیں متحرک ہیں اور پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمیں دنیا کی بات مان کر اپنا گھر پہلے صاف کرنا چاہیئے۔ تو ایسے میں اگر نواز شریف نے یہ بات کر دی تو کون سی غلط بات ہے۔

تو جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف نے جو کہا ہے یہ ریاست پاکستان کا مؤقف بالکل نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے مخالف ملکوں کا مؤقف ہے۔ دشمن کے مؤقف کو اپنانا یا اس کی تائید کر دینا کسی بھی ایسے لیڈر کو زیب نہیں دیتا جو ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکا ہو۔

نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو پارلیمانی سیاست سے تاحیات نااہل کیا جا چکا ہے۔ ان پر بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے مقدمات چل رہے ہیں اور ان کا فیصلہ بہت جلد متوقع ہے۔ نواز شریف اپنی اس حالت کا ذمہ دار پاکستان کے ریاستی اداروں کو ٹھہراتے ہیں اور مسلسل عدلیہ اور فوج پر حملہ آور ہیں۔ اس کا انجام کیا ہو گا یہ آنے والا وقت ہمیں دکھا ہی دے گا۔ فی الوقت تو صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں نواز شریف سے منسوب بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کر دی ہے۔ دوسری طرف نواز شریف نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ مسترد کر دیا ہے۔ یوں اب نواز شریف اور ریاست پاکستان ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

اور دوسری بات یہ کہ کل سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے ایک پوسٹ کی جو قابل اشاعت بنا کر یہاں لکھ رہا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ایک مرد اور عورت کا جنسی ملاپ ہوتا ہے تو پھر بچے کا جنم ہوتا ہے۔ یہ ایک عالمی سچائی ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی دیکھا، سنا یا پڑھا ہے کہ کوئی اولاد بھرے چوک میں کھڑے ہو کر اپنے والدین کی قربت کے لمحات کی من چاہی کہانی دنیا کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے؟ کیا اس پر بھی یہی کہا جائے گا کہ ایسا تو سب کرتے ہیں اور سب جانتے ہیں تو اس میں ایسی کون سی غلط بات ہے؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 70 posts and counting.See all posts by awais-ahmad