ابوالکلام آزاد: حالیہ بحث سے متعلق چند گذارشات


Hafiz_Jawad_Hafeez

محترم عابد بخاری صاحب نے اپنے کالم ’ابوالکلام آزاد، قائد اعظم اور پاکستان‘ میں آزاد سے متعلق کچھ سوالات قائم کیے ہیں۔ اگرچہ مخاطب اول تو شکیل چودھری صاحب ہیں تاہم حسن بحث کی خاطر چند قابل غور باتیں ہماری جانب سے بھی قارئیں کے لیے پیش خدمت ہیں۔

۔1۔عابد صاحب نے سوال اٹھایا کہ کیا ابو الکلام آزاد نے منظر نامہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی؟

ایک ضمنی سی بات ادب کے ساتھ عرض ہے کہ یہی سوال قائد اعظم کے متعلق بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ پاکستان بننے کے ستر سال بعد کے دگرگوں حالات کے پیش نظر اس سوال کی شدت و اہمیت اور بھی محسوس ہوتی ہے۔ آخر کچھ تو وجہ ہے کہ نہ صرف نیشنل لیول کے ٹی وی چینلز ابوالکلام کے نقطہ نظر کو پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں پیش کرتے ہیں بلکہ ڈاکٹر قدیر خان صاحب جیسے لوگ بھی ابوالکلام کی مدح سرائی پر مجبور نظر آتے ہیں۔ (چاہے بعد میں وضاحتیں ہی کرنی پڑیں)۔

۔2۔ کچھ مقامات پر مکالمہ شدید خلط مبحث کا شکار ہو گیا ہے ۔مثلاً عابد صاحب فرماتے ہیں کہ ’کیا آزاد اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے؟ اگر نہیں تو اس تناقصِ فکری پر آپ کیا کہتے ہیں؟ وہ کون سا اسلام چاہتے تھے؟ ‘

اس بات کی وضاحت درکار ہے کہ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا ’قائد اعظم اور پاکستان‘ سے کیا تعلق ہے۔ اس سوال کا جواب ہمارے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

۔3۔ فرمایا گیا کہ ’یہ درست ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور ابوالکلام آزاد کا اندازہ بھی درست ہو گیا لیکن 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی سچائی بدستور قائم ہے۔ 16دسمبر 1971 کو بنگالی پاکستان سے علیحدہ ہو گئے لیکن اس سب کے باوجود کئی بنگالی دانشور آج بھی کیوں کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ ختم نہیں ہوا؟ وہ کیوں کہتے ہیں کہ بنگالیوں نے بنگلہ دیش بنا لیا۔ ہندوستان میں واپس نہیں گئے اور آج بھی کچھ بنگالی دانشوروں کو کیوں یقین ہے کہ ایک دن مغربی بنگال بھی بنگلہ دیش کا حصہ بن جائے گا؟‘

سلیس اردو میں لکھا جانے تو یہ قدرے طویل اقتباس یوں ہوگا کہ آپ نے ملک بنایا، توڑا اور ایک لمحہ رکے بغیر ایک نیا ملک بنانے چل پڑے۔

یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ ’یہ درست ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور ابوالکلام آزاد کااندازہ بھی درست ہو گیا‘ کچھ توقف کرنا چاہیے۔ ہم اگر اپنے دل و دماغ کو کچھ دیر کے لیے مطالعہ پاکستان کی درسی کتب سے آزاد کر دیں تو ہو سکتا ہے کچھ نیا سوچنے سمجھنے کا موقع ملے اور اگر کہیں بھول چوک ہوئی ہے تو اس کی تصحیح کا سامان ہو سکے۔

تاہم بجائے اس کے کہ بحیثیت قوم اپنا محاسبہ کیا جانے ہم اگلے ہی لمحے ’قائد بنگال‘ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوۓ۔ باہم متضاد دلائل سے جب بھی سامنا ہو تو فرائیڈ کی وہ کہاوت یاد آ جاتی ہے جو ہمسائے سے ادھار لی جانے والی ایک چینک کے بارے میں ہے۔

میں نے تم سے چینک ادھار لی ہی نہیں۔
جب میں نے تمہاری چینک واپس کی تو وہ صحیح سلامت تھی۔
میں نے جب تم سے چینک ادھار لی تو وہ پہلے سے ہی ٹوٹی ہوئی تھی۔

بقول ژیژک کے اس طرح کی منطق وہ ہی چیز ثابت کردیتی ہے جس سے یہ انکاری ہوتی ہے۔ یعنی کہ میں نے تمہیں ایک ٹوٹی ہوئی چینک واپس کی۔

۔4۔ جناب کا فرما نا ہے ’آزاد کی یہ پیش گوئی بھی آپ کو یاد ہو گی کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے‘۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار نہیں ہے؟ آزاد کے خوابوں کا مرکز شاید بھارت نہیں مریخ تھا کیونکہ ہندستان کے 14 صوبوں میں تو علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔‘

اس قسم کا استدلال پیش کرتے ہوۓ ہمیں نجانے اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ یہ طرز استدلال دنیا میں ہماری جگ ہسائی کا سامان فراہم کرتا ہے ۔ او بھائی ’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو‘۔

ہم نے ملک لیا اور پچیس سال کے عرصے میں ابوالکلام آزاد کی کم از کم ایک پیش گوئی کو جس کا اعتراف آپ نے بھی کیا ہے، سچ کر دکھایا۔ مولانا آزاد کی باقی ماندہ پیشگوئیوں کے لیے دعا ہے کہ وہ غلط ثابت ہوں۔ رہی دشمن ملک کی بات تو بھائی وہ جتنے بھی اندرونی خلفشار سے دوچار ہے اور آپ کے بقول اس کی 14 ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں، لکن پھر ہبی وہ بدستور ویسے کا ویسے ہی سالم کھڑا ہے۔ ہم اگر اپنا ملک سنوارنے سے زیادہ دوسرے ملک ٹوٹنے کے خواب دیکھنے کی خواہش ترک کر دیں (کم از کم کچھ عرصہ کے لیے) تو شاید کچھ افاقہ ہو۔

۔5۔ اب آگے سنیے۔ سید سردار احمد پیرزادہ صاحب کی تحریر سے ایک حوالہ دیا گیا جس کی تفصیل کے لیے اصل مضمون پڑھا جا سکتا ہے میں یہاں صرف اس دیے گئے حوالے کا حاصل کلام عرض کروں گا۔ آپ کا سوال ہے ’ کیا تنقید نگار (شکیل چودھری ) پیرزادہ صاحب کے ان الفاظ سے بھی اتفاق کرتے ہوئے سیکولر مودی کو موذی سمجھتے ہیں؟‘

اچھا بھی چلیں مودی نہ صرف موذی بلکہ ’موذی مودی بر وزن یہودی‘ بھی سمجھ لیا۔ اب اس سے سارے منظر نامے میں کیا فرق پڑ گیا۔ بھارت پھر بھی مستقبل قریب میں دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا ہوتا نظر آ رہا ہے اور ہم سے ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ ہماری ’اسلامی سٹیٹ‘ کی ’اسلامیت‘ کا درجہ کہاں سے شروع ہو اور کہاں ختم ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو پورا ’ ٹوپی برقع‘ پہننا چاہیے یا منہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ ریاست کی داڑھی ایک بالشت ہو یا خشخشی بھی چلے گی۔ ریاست نے شلوار پہننی ہے یا مغربی پینٹ کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔ لیکن ایک بات میں واضح کرتا چلوں تاکہ کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہے کہ ’کافروں اور مشرکوں کو کامیابی صرف اس دنیا میں ہی نصیب ہو سکتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنی کامیابی کا یقین آخرت پر ہی رکھنا چاہیے۔ اگر غیر مسلم ممالک دنیوی لحاظ سے ترقی کی دوڑ میں آگے نظر آ تے ہیں تو اس پر ہمیں زیادہ کڑھنے کی ضرورت نہیں‘۔

۔6۔ اسی ابوالکلام آزاد جس کے نقطہ نظر اور پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے آپ نے کالم پہ کالم لکھ مارے، آخر میں پناہ ملی تو پھر انہی کی دعا میں جو انہوں نے پاکستان کے بارے میں نیک خواہشات کی صورت میں کی۔ آپ ہی کا لکھا دوہرا دیتا ہوں۔ ابوالکلام آزاد کہا کرتے تھے کہ ’پاکستان وجود میں آ گیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا‘۔

ابوالکلام جسا آدمی اگر پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا گو ہے تو بھائی ہماری تو یہ ’سر زمین‘ ہے۔ ہم بھلا اس کی مخالفت کیوں کریں گے۔ ہاں ہمارے اور آپ کے نکتہ نظر میں اختلاف ضرور ہے اوررہے گا جب تک کہ بنیادی باتوں کا تسلی بخش جواب نہ مل جاتے

آخر میں عرض ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ طرز استدلال ایسا اپنایا جاتے کہ کسی کتاب کے حوالے کی ضرورت نہ پڑے اور آپ کے ’دھاک بٹھانے یا نہ بٹھانے‘ جسے طعنوں سے بچا جا سکے۔

مضمون کی طوالت کے پیش نظر آپ کے سارے سوالوں کے جواب ایک ہی کالم میں نہیں دیے جا سکتے لیکن یقیناً صحت مند مکالمہ جاری رہنا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

9 thoughts on “ابوالکلام آزاد: حالیہ بحث سے متعلق چند گذارشات

  • 22-04-2016 at 5:04 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ۔ اچھے سوالات اٹھائے ہیں۔

    اب دیکھتے ہیں عابد صاحب ان سوالات کا کیا جواب دیتے ہیں، خاص طور پر جب کہ اب ان نام بھی صحیح لکھا گیا ہے اور وہ اس علمی دلیل اور بہانے کی آڑ بھی نہیں لے سکتے کہ سوالات ان سے نہیں پوچھے گئے۔

  • 22-04-2016 at 10:25 pm
    Permalink

    جواد حفیظ صاحب‘ آپ نے بہت اچھے اندازمیں انتہائی فکرانگیزسوال اٹھائے ہیں۔ اس بحث کے حوالہ سے اچھی بات ہےکہ اس میں کچھ خوش آیند وسعت آئی ہے۔ اللہ کرے زورقلم اورزیادہ۔

    بخاری صاحب ایک طرف تو مکالمے کو آگے بڑھاناچاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ ہمیں اس کے نتائج سے تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ وہ چاپتے ہیں کہ مسلم لیگی رہنماؤں اورخاص طور پر جناح صاحب کو تنقید سے بالاتر قراردینے کے بعدکھل کر مکالمہ کیا جائے۔ مکالمے کا یہ تصورصرف پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ ان سے اختلاف کرنے والے بانیان پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر‘ قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔

    وہ نوجوان نسل کو اس گمراہی سے بچانے کے لئے بہت فکر مند ہیں جو’’سرکاری سچ‘‘ سے اختلاف کرنے والےپھیلاتے ہیں۔ ان کے بقول یہ وہ نوجوان نسل ہے جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا‘ اس نسل کو پاکستان سے بدظن کرنے والوں‘ عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کو مشکوک کر نے والوں اور تنقید اور تنقیص کے معنی سے ناآشنا نوم چومسکی اورارون دھتی رائے بننے والے دانشوروں کی برین واشنگ سے بچانے کی سخت ضرورت ہے۔ ان ارشادات کے بعد مکالمے کی کیاضرورت رہ جاتی ہے؟ ہمیں dissent کرنے والے صرف غیرملکی اچھے لگتے ہیں۔

    ویسے انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ ہندوذہنیت کیا چیز ہے؟ یہ اصطلاح کب اور کس نے وضع کی؟ کیا تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زیادہ ہندو ایک سا ذہن رکھتے ہیں؟ کیا مسلم ذہنیت بھی اپنا وجود رکھتی ہے؟ جسٹس جاوید اقبال نے جو کچھ ’زندہ رود ‘میں جو کچھ لکھا ہے کیا اس سے ہندوذہنیت آشکار ہوتی ہے؟ جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ اقبال کو ہندوﺅں سے کوئی تعصب‘ دشمنی یا عناد نہ تھا بلکہ ان کی ترقی اور کامیابی پر خوش ہوتے تھے۔ سر فرانسس ینگ ہسبنڈ کے نام ایک خط میں تحریر کرتے ہیں: ’براہ کرم یہ نہ سمجھیں کہ مجھے ہندوﺅں سے کوئی تعصب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ایثاروجرِأت کی جو سپرٹ انہوں نے دکھائی ہے اس کی میں بڑی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے زندگی کے میدان میں ممتاز افراد پیداکئے ہیں اورمعاشی اور معاشرتی راستوں پر تیزی سے گامزن ہیں۔‘

    فرزند اقبال مزید لکھتے ہیں کہ ’ہندوﺅں اور سکھوں کے مذہبی اوتاروں اور بانیوں سے انہیں دلی عقیدت تھی۔ رام چندر جی کی مدح میں نظم لکھی اورانہیں امام ہند‘ چراغ ہدایت اورملک سرشت کہا۔ اسی طرح بابا گرونانک کو پیغمبر توحیدوحق ‘ توحید پرست اور نور ابراہیم کہہ کر خطاب کیا۔ گوتم بدھ کو بھی پیغمبر کا مرتبہ دیا۔ رام چندر جی کی مدح میں نظم تو بالآخر کفر کے فتوے پر منتج ہوئی۔ رامائن اور گیتا کا منظوم ترجمہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے دشمن کبھی بھی نہ تھے۔مہاراجہ کشن پرشاد سے تمام عمران کے گہرے روابط رہے۔ سوامی رام تیرتھ کے ساتھ ان کے زندگی بھرمخلصانہ تعلقات قائم رہے۔ سر تیج بہادر سپرو کے وہ مداح تھے۔ اور نہرو خاندان بالخصوص پنڈت جواہر لعل نہرو سے توواقعی محبت کرتے تھے۔ راقم نے اپنی آنکھوں سے انہیں پنڈت جواہر لعل نہرو سے شفقت کا اظہار کرتے دیکھا تھا۔ گھر کے نجی ماحول میں اقبال نے راقم کی ابتدائی تعلیم کے لئے اسے ایک ہندو استاد جناب ماسٹر تارا چند کے سپرد کررکھا تھا جس پر انہیں بہت اعتماد تھا۔ زندگی کے آخری چارپانچ سالوں میں اقبال کے معالج ایک ہندو ڈاکٹر جمعیت سنگھ تھے۔ اور اقبال کی وفات کے بعد جب تک وہ زندہ رہے بغیر کسی معاوضے کے خاندان اقبال کی خدمت کرتے رہے۔‘

    بخاری صاحب اپنے اصل مقدمہ سے کافی دورچلے گئے ہیں۔ ان کا اصل مقدمہ یہ تھا کہ مولانا آزاد نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دیا ۔ ’’انہوں نے سر زمینِ ہند میں مسلمانوں کے قلب و نظر میں غلامی کے تصور کو راسخ کرنے میں ناقابلِ بیاں حد تک اہم کردار ادا کیا۔ بہت سلیقے کے ساتھ کانگریس، ہندوؤں اور انگریزوں کا ساتھ نبھایا۔‘‘ اس کے جواب میں نے گزارش کی تھی کہ آزادی کے لئے گیارہ برس انگریز کی جیل میں گزارنے والے پر یہ الزام لگانا کہ اس نے غلامی کے تصور کو راسخ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ نبھایاتاریخ کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

    اب انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’کبھی موقع ملے تو مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ان 30 صفحات پر بھی کچھ لکھیں جو ان کی وفات کے 30 سال بعد شائع ہوئے اور جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر شپ کی منافقت اور مسلم دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔‘‘ انہوں نے ان صفحات میں سے کوئی ایسا اقتباس پیش نہیں کیا جس سے ان کے اصل مقدمہ یا موجودہ دعوے کو تقویت مل سکتی ہو۔ ایک طرف بخاری صاحب کا یہ دعویٰ ہے اور دوسری طرف وہ مولاناآزاد پر کسی جانے والی ایک ناشائستہ پھبتی سےایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

    ؓؓبخاری صاحب نے شیخ عبداللہ صاحب کی کتاب آتش چنار سے بہت سے حوالے دئے ہیں لیکن انہیں نقل کرتے وقت پوری طرح دیانت داری سے کام نہیں لیا۔ شاید ان کاخیال تھا کہ کوئی ان کے حوالوں کی تصدیق کا تردد نہیں کرے گا۔ اس کے ثبوت کے لئے اس کتاب کے۲۰۱۲ ایڈیشن کا صفحہ نمبردوسو اکتالیس ہی دیکھنا کافی ہوگا۔ انہوں نے شاید یہ کام قومی خدمت سمجھ کر سر انجام دیا ہے۔

  • 22-04-2016 at 11:01 pm
    Permalink

    مولاناابوالکلام آزاد:جواب آں غزل
    جناب عابدبخاری صاحب نے’مولاناعبدالکلام آزاد،منظرنامے کوسمجھنے کی غلطی‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ کے حوالے سے بہت سی باتیں لکھی ہیں اورسوال اٹھائے ہیں۔موصوف نے عنوان میں ہی مولاناکانام غلط لکھاہے پھر متضاد اور مبہم ساطرزِتحریر ہے۔پڑھناشروع کیاتولگاکہ مولاناکے حق میں لکھاہواہے اور موصوف مولاناکے حوالے سے پائے جانے والے منفی رویے پر بات کرناچاہتے ہیں مگر آگے کی چند سطریں پڑھ کر اندازہ ہواکہ موصوف خودبھی مولاناسے بہت نالاں ہیں۔پہلے لکھتے ہیں کہ مولانا کی زندگی کامقصد مسلمانوں کو غلامی کادرس دیناتھاپھر آگے فرماتے ہیں کہ مولاناکی زندگی بے مقصد تھی۔خودفرماتے ہیں کہ ایسے علم وتقویٰ سے پناہ مانگنی چاہئے جس کاحامل شخص قوم کوغلامی کادرس دیتاہومگر آگے مولانامودودی رحمہ اللہ کی بات کاسہارالے کر مولانا کے تقویٰ پرخود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کی نمازوں کا یہ حال تھا۔خود ہی لکھتے ہیں کہ مولانا نے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مولانا نے انگریز کی حمایت کی۔
    مضمون نگار کی نگارشات کا حاصل کچھ یوں ہے’’ہندوستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار کے سب سے زیادہ ذمہ دارمولانا آزادہیں۔مولانانے پاکستان کے حالات کی تصویرکشی کی مگر ان کی بصارت بھارت کے مسلمانوں کی حالت نہ دیکھ سکی۔مولانابہت بڑے عالم تھے مگر بے عمل علم کاکچھ فائدہ نہیں۔انہیں کعبۃاللہ کی بجائے گاندھی کے یہاں سکون ملتاتھا۔مولانا کی زندگی کا مقصد مسلمانوں کو انگریزکی غلامی کادرس دیناتھااور زندگی کاحاصل وزارت تعلیم۔مولانانے انقلابی تصورات اوراسلام کابوریابسترلپیٹ کرسیکولرانڈیاکی بنیادوں کواپنالہودیا۔مولانافکری انتشار کاشکاررہے۔ ‘‘
    موصوف کے مطابق مولاناہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ حالت کے ذمہ دارہیں۔جناب !مولانا آزاد نے تقسیم کی مخالفت ہی اسی بنیاد پر کی تھی کہ اس سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔قائدِاعظم رحمہ اللہ جب ہندوستان سے پاکستان آنے لگے تو مولانا آزاد کا بنیادی سوال ہی یہ تھا کہ اکثریتی علاقوں میں بسنے والے مسلمان تو پاکستان کاحصہ بن گئے ہیں مگر ادھر رہ جانے والے مسلمانوں کاکیاہوگا۔؟ مولاناکامؤقف یہ تھاکہ تقسیم کی وجہ سے مسلمان کمزور پڑجائیں گے اس طرح نہ پاکستان میں وہ مقصد حاصل کرسکیں گے جس کے لئے پاکستان بنائیں گے اور نہ ہی ہندوستان کے مسلمان اپنے حقوق آسانی سے حاصل کرسکیں گے۔یہ اعتراض کہ مولاناکی نگاہِ بصیرت پاکستان کے حالات کو دیکھ سکی مگر ہیندوستان کے کیوں نہ دیکھ سکی ۔؟جناب آپ نے جس جگہ پاکستان کے بارے میں مولاناکی پشین گوئیاں پڑھیں وہیں بھارت کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔یہ پشین گوئیاں زیادہ ترشورش مرحوم کے لئے گئے انٹرویومیں موجودہیں جسے شورش مرحوم کی مولانا آزاد پرلکھی گئی کتاب ’ابوالکلام آزاد‘میں پڑھاجاسکتاہے۔اس تصویرکشی میں مولانانے جہاں پاکستان کے بارے میں بات کی وہیں بھارت کی بھی تصویرکشی کی۔مولاناکاایک جملہ ہی اس بھیانک منظرنامے کی تصویرکشی کرتاہے جواب ہمیں دکھائی دے رہاہے۔مولانانے پاکستان بننے کے بعد فرمایاتھا’’آج کے بعدپاکستان میں اسلام کی خیر نہیں ہوگی اور ہندوستان میں مسلمان کی۔‘‘اسی طرح مولانا نے فرمایاتھا’’دونوں ممالک اپنا زیادہ تربجٹ دفاعی اخراجات پر خرچ کریں گے جبکہ تعمیروترقی اورتعلیم ان کے نزدیک ثانوی حیثیت کی حامل ہوگی۔دونوں ممالک کے درمیان ہروقت جنگ کاخطرہ منڈلاتارہے گا جس سے خطے میں امن کی صورتحال اطمینان بخش نہ ہوگی۔‘‘مولاناکے علم سے مسلمانوں کوفائدہ نہ پہنچنے اورمولانا کے ہندوستان سے اسلام اور انقلابی تصور کابوریابستر لپیٹنے کی بات سمجھ سے بالاترہے۔البلاغ اورالہلال کے بارے میں مسلم لیگ کے ہی راہنماء مولانا ظفر علی خان ہی فرماتے ہیں کہ یہ قرنِ اولیٰ کی آواز تھے ۔مولانا نے اپنے فکری انتشارکے بارے میں ترجمان القرآن میں لکھا ہے اور فرمایا’ لوگ قرآن کے مطالعے سے سیرت کے مطالعے کی طرف آتے ہیں مگرجب میں سیرت کے مطالعے سے قرآن کی طرف لوٹاتومیرے ذہن کاہرکانٹاصاف ہوچکاتھا۔‘مولانا علم پرکتناعمل کرتے اس کی گواہی کے لئے آپ کی ضرورت نہیں بلکہ شیخ الہند محمود الحسن رحمہ اللہ جیسے عالم دین نے ہی مولانا کوامام الہند کالقب دیاتھااور فرمایا’ہندوستان میں اگرکوئی ایساشخص ہے جومسلمانوں کی امامت کااہل ہے تووہ ابوالکلام کے علاوہ کوئی نہیں۔‘مولاناکی زندگی کامقصدانگریزوں کی غلامی کادرس ہی دیناتھاتومولانانے قیدوبندکی صعوبتیں کس جرم کی پاداش میں برداشت کیں ۔؟انگریزوں کے خلاف اٹھنے والے ہرقدم سے قدم ملاکرچلنے والے شخص پر یہ الزام کس قدر مضحکہ خیزہے۔چلئے یہ مان ہی لیں کہ مولانانے انگریز کی حمایت کی توکوئی مراعات بھی توبدلے میں ملی ہوں گی ان کی کوئی تفصیلات۔؟مولاناکے نزدیک ریاست سیکولر ہوتی ہے اوراس کا کوئی مذہب نہیں ہوتااسی نظریہ کے تحت انہوں نے سیکولربھارت کی حمایت کی ۔پھر بھارت کے مسلمانوں کی بقاء ہی اسی میں ہے کہ بھارت ایک سیکولرریاست رہے کبھی یہ سوچئے کہ اگر بھارت میں ہندومذہب بھارت کاسرکاری مذہب قراردے دیاجائے تو وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیاسلوک ہوگا۔؟مولانامودودی رحمہ اللہ کی بات سے ملتی جلتی باتیں سن کر ہی ایک شخص مولانا سے ملنے گئے اورپوچھا’مولانا!سنا ہے کہ آپ نماز میں غفلت کرتے ہیں ‘ تومولانا نے جواب دیا ’’بھائی میں اس حدیث کاقائل ہوں کہ بلاعذرنمازچھوڑنامنجملہ کفر ہے۔‘
    بخاری صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جیسے یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ کسی شخص کا علمی مقام ہمیں حق گوئی سے بازرکھے اسی طرح یہ بھی قابلِ افسوس ہی ہے کہ ہم کسی کی مخالفت میں آکران کے بارے میں لکھتے اوربولتے وقت تعصب کامظاہرہ کرنے لگیں۔مولانا کی باتوں سے ان کے کام سے اختلاف کی گنجائش ہے کہ وہ اسی زمانے کے ہی شخص تھے مگراس میں کچھ اعتدال ہوناچاہئے۔ان کی شخصیت،ان کی خدمات ،جدوجہداورہندوپاک سے متعلق ان کے مؤقف سے آگہی کے لئے ان پرلکھی گئی چند کتب کا ہی مطالعہ کرلیں تو آ پ کا ذہن کم از کم نفرت سے پاک ہوجائے گا۔

  • 23-04-2016 at 9:57 am
    Permalink

    شکیل چودھری صاحب عزت افزائی کا شکریہ. آپ کے تفصیلی کومنٹ سے معلومات میں مزید اضافہ ہوا. ایک اور بات قابل غور ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا کہ کس طرح ہماری نوجوان نسل کے زہن میں غیر ضروری طور پر ہندوؤں کا انتہائی منفی تاثر قائم کیا جاتا ہے. اور اس کیلیے “ہندو مکار، ہندو چالاک، ہندو بنیا” جیسے الفاظ بلکہ بعض اوقات اس سے بھی شدید الفاظ استعمال کیے جاتے ہے. کسی بھی دوسرے فریق یا قوم کے بارے میں اختیار کیا جانے والے اس طرح کے رویے سے لگتا ہے کہ ی آپ ایک کمزور جگہ پر کھڑے ہیں اور آپ کے پاس دلیل کی کمی ہے.

  • 23-04-2016 at 10:07 am
    Permalink

    محترم عمار احمد صاحب — بہت خوب. خاص طور پر مندرجہ ذیل تحریر کیلئے…
    “جناب آپ نے جس جگہ پاکستان کے بارے میں مولاناکی پشین گوئیاں پڑھیں وہیں بھارت کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔یہ پشین گوئیاں زیادہ ترشورش مرحوم کے لئے گئے انٹرویومیں موجودہیں جسے شورش مرحوم کی مولانا آزاد پرلکھی گئی کتاب ’ابوالکلام آزاد‘میں پڑھاجاسکتاہے۔اس تصویرکشی میں مولانانے جہاں پاکستان کے بارے میں بات کی وہیں بھارت کی بھی تصویرکشی کی۔مولاناکاایک جملہ ہی اس بھیانک منظرنامے کی تصویرکشی کرتاہے جواب ہمیں دکھائی دے رہاہے۔مولانانے پاکستان بننے کے بعد فرمایاتھا’’آج کے بعدپاکستان میں اسلام کی خیر نہیں ہوگی اور ہندوستان میں مسلمان کی۔‘‘

  • 24-04-2016 at 12:11 pm
    Permalink

    شکیل چوہدری اور ”آزاد اونٹ”
    جناب شکیل چودھری صاحب کی خدمت میں گزارش کی تھی کہ مکالمہ کو آگے بڑھائیں مگر ان کی سوئ ابھی تک ایک ہی جگہ اٹکی ہے۔
    ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا
    طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرن ے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیر ہ وغیرہ پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی جناب عالی میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس زمانے کے اساتذہ میرے ساتھ ایسے ہی ظلم کرر ہے ہیں جیسے اونٹ کے ساتھ ہورہا ہے لوگ ان کے حقوق کو پامال کررہے ہیں ان سے کام بھی لیتے ہیں اور ان کو مارتے بھی ہیں۔اور ہاں اونٹ کا گوشت نہایت ہی لذیذ ہوتا ہے۔ اس کا گوشت کبھی آپ نے کھایا ہے اگر نہیں تو چلو میرے ساتھ میرے علاقے میں آپ کو کھلاتا ہوں۔ اور کبھی اونٹنی کا دودھ بھی آپ نے پیا ہے۔ یہ بہت ہی عمدہ اور صحت کیلئے مفید ہوتا ہے۔ اگر آپ میری درخواست پر غور کریں تو میں آپ کو اونٹنی کا دودھ پلانے کا وعدہ کرتا ہوں۔

    والسلام
    ایک طالب علم

    • 24-04-2016 at 11:19 pm
      Permalink

      ایک طالب علم صاحب‘ کیاآپ کا کوئی نام نہیں ہے؟ یااخلاقی جرأت کی کمی ہے؟ اپنے تعصب کوunlearn کرنے کی کوشش کریں۔ کیا وجہ ہے کہ آپ کے علاوہ کسی اورقاری نے میری باتوں کو غیر متعلقہ قرارنہیں دیا ہے؟ کیاجوادحفیظ صاحب کی باتیں بھی غیرمتعلقہ ہیں؟ اتنی لمبی لمبی کہانیاں سنانے کے بجائے موضوع سے متعلقہ کوئی بات ہے تو کریں۔ آئین بائیں شائیں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کچھ اورنہیں تویہ ’’ہندوذہنیت‘‘ والامعمہ ہی حل کردیں۔

  • 25-04-2016 at 10:26 pm
    Permalink

    Aik Talib Ilm Sahib…. It is funny that you are writing comments under this column and did not say a word about the questions which Mr Jawad Hafeez raised in
    column, instead asking Mr Shakeel to respond
    I read Mr Abid Bukhari’s column and also read Shakil Chaudhry and now this one written by Jawad Hafeez.It is interesting discussion and should continue further and someone should answer the questions Mr Jawad Hafeez raised
    I will request both sides, please do not make it “manazra”. Let’s try to keep it academic and hopefully people like me, will learn something from this discussion

  • 29-04-2016 at 10:56 pm
    Permalink

    ایک طالبعلم صاحب:
    آپ کو اپنے نام کے مطابق تاریخ ، اصول تنقید، منطق، اور سیاسیات کے بالکل بنیادی کورسز میں فورا سے پہلے داخلہ لینا چاہیے اور چاہیں تو اپنے ساتھ ہمارے محترم عابد بخاری صاحب جنھوں نے خود ان کے اپنے تئیں ایک طے شدہ بات کو بغیر کسی کی دعوت کے موضوع بنایا جس کے جواب میں شکیل صاحب اور پھر جواد حفیظ صاحب نے مضامین لکھے
    امید ہے عابد صاحب کو دبستان ڈاکڑ صفدر محمود یا اس طرز کے کسی اور گروپ کی طرف سے سرپرستی مل گئی ھوگی اب تک کیونکہ ان کا اس بحث شروع کرنے کا اور کوئی محرک سمجھ نہیں آتا جبکہ وہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ کی یہ ایک طے شدہ مسئلہ اور تاریخی حقیقت ہے کہ مولانا آزاد غلط تھے، تو بھئی اگر غلط تھے تو آپ کو ۷۰ سال سے کس کو اور کیوں بار بار یہ یقین دھانی کرانے ضرورت پیش آتی ہے ؟ آخر کیوں، کہیں آپ لوگوں کا خود اپنا ایمان اس ’ تاریخی حقیقت ‘ پر ڈانواں ڈول تو نہیں ؟؟ عابد بخاری صاحب جیسے لوگوں کے قیام پاکستان کے بارے میں مضامین اور موقف کو فلسفہ اور منطق کے کسی بھی استاد سے پڑھوا لیا جائے تو وہ یہ فیصلہ دے گا کہ ایسا مضمون لکھنے والا خود پاکستان کے وجود اور اس کے قیام کے بارے میں تشکیک اور خدشات میں مبتلا ہے، یقین نہ آئے تو چیک کروا لیجیے اس بات کو

Comments are closed.