ریاست کی مدارس سے بے اعتنائی


zafar sbان دانشوروں، اہل قلم، اینکر پرسن اور تجزیہ کاروں سے چند سوالات جو مدارس اور مولوی کو تمام مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور بلا سوچے سمھجے یا تصویر کا ایک رخ دیکھے یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ مدارس کے تعلیم یافتہ جاہل ہوتے ہیں۔ ان تجزیہ کاروں کے دعوے میں کتنی صداقت ہے اور اصل خرابی کہاں ہے اس کا جواب ہم آئندہ سطور میں دیں گے۔

کیا ہمارے ہاں رائج نظام تعلیم میں غریب اورناداربچوں کی تعلیم کا انتظام موجود ہے؟ اس کا جواب قدرے بحث طلب ہے کیونکہ ملک میں رائج نظام تعلیم تین طرح کا ہے ایک سرکاری تعلیمی ادارے، دوسرے پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور تیسرے مدارس دینیہ، سرکاری تعلیمی اداروں کی اول تو کارکردگی ایسی ہے کہ کم لوگ ہی اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیں۔ جن کے پاس پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوانے کی گنجائش ہوتی ہے وہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہوئے عار محسوس کرتے ہیں۔

موجودہ دور میں غریب عوام کی جو مالی صورتحال ہے اس کے پیش نظر عوام کے سامنے صرف دو آپشن ہوتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے اور مدارس، سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی چونکہ کچھ خرچہ ہوتا ہے مثلاً یونیفارم، کتابیں، سکول بیگ، روزانہ آنا جانا، رہائش اور کھانے کے پیسے جیب سے ادا کرنے ہوتے ہیں اور جو سرکاری ادارے قدرے اچھے ہیں جیسے ایف جی سکول جو فیڈرل گورنمنٹ کے تحت آتے ہیں تو ان میں ایڈمیشن جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ گزشتہ دنوں ایک جاننے والے نے کہا پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں، میں اپنے بچے کو تعلیم دلوانے کی سکت نہیں رکھتا، گھر کے پاس ہی ایف جی سکول ہے اس میں ایڈمیشن دلوا دیں، میں نے کہا وہ تو سرکاری ہے آپ خود جاکر بات کریں، بولا ایڈمیشن کے لئے سکول گیا تھا، بچے کا تحریری امتحان بھی لیا گیا لیکن ایڈمیشن نہیں ہوسکا، میں سمجھا بڑی کلاس ہوگی، نمبرات کم ہونے کی وجہ سے ایڈمیشن نہ ہو سکا ہو گا، پوچھنے پر اس نے بتایا پہلی کلاس۔ جونہی اس نے پہلی کلاس کا بتایا میری حیرانی کی انتہا نہ رہی۔ اگر سرکاری تعلیمی ادارے میں پہلی کلاس کے ایڈمیشن میں بھی عوام کو سفارش کی ضرورت پڑے تو یہ ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ایسے والدین جو پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلانے کی سکت نہیں رکھتے، سرکاری تعلیمی اداروں کے دروازے عوام کے لئے بند ہیں تو لے دے کر عوام کے پاس مدارس دینیہ بچتے ہیں کیونکہ اولاد کو جاہل رکھنے سے بدرجہ بہتر ہے کہ انہیں کوئی نہ کوئی تعلیم دلائی جائے سو ایسے غریب والدین کی بہترین چوائس مدارس دینیہ ہوتے ہیں جہاں ان کے بچوں کو قرآن و حدیث اور فقہ کی ضروری تعلیم کے ساتھ ساتھ دو وقت کی روٹی، پہننے کو کپڑا، رہنے کو رہائش اور کتابوں سمیت تعلیم کی دیگر تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں، واضح رہے قوم کے ان نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ریاست مدارس کو کوئی بجٹ جاری نہیں کرتی یہ کام عوام اور صاحب خیر احباب کے زکوة، صدقات اور عشر وغیرہ سے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے ۔ جو لوگ مدارس میں جدید علوم، نصاب کی تبدیلی اور مدارس کے فارغ التحصیل بچوں سے مختلف تقاضے کرتے ہیں انہیں ذرا غور کرنا چاہئے کہ نصاب کی تبدیلی اور جدید علوم کو مدارس میں رائج کرنے کے لئے جو فنڈز درکا ر ہیں کیا ریاست نے مدارس کو وہ مہیا کئے ہیں، اس کا جواب یقینا نفی میں ہے تو پھر ہمیں مان لینا چاہئے کہ جو لوگ مدارس اور مولوی سے بغض رکھتے ہیں وہ ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے، چونکہ مدارس میں پڑھنے والے بچے ایک ہی طرح کے ماحول میں رہتے ہیں ہمارے سماج کا حصہ ہونے کے باوجود اورہمارے بچے ہونے کے باوجود ہم انہیں نچلے درجے کا شہری تصور کرتے ہیں۔ دھیرے دھیرے یہی سوچ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے ذہنوں میں بھی پیوست ہو جاتی ہے بالخصوص جب مدارس کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سماج میں آتے ہیں تو ان کی تعلیم اور سکول و کالج او ر یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم میں واضح تفاوت ہوتا ہے۔ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے انگریزی، سائنسی علوم اور حساب میں بہت کمزور ہوتے ہیں اس لئے جب وہ سماج میں آتے ہیں تو احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ معاشی لحاظ سے ان بچوں کے لئے ہمارے سماج میں انتہائی کم مواقع ہوتے ہیں کیونکہ انگلش میڈیم کے دور میں ہم ناظرہ قرآن سے زیادہ اسلام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ سو روزگار کے مواقع سمیت مدارس دینیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لئے چیلنج ہی چیلنج ہوتے ہیں جو کہ ہمیں بوجھ لگتے ہیں اور ہم میں سے ہی کئی ان بچوں کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں مانا کہ بچے اب بڑے ہوچکے ہیں لیکن سوچیں اور غور کریں جب وہ بچے تھے اور ہم نے ان کی تعلیم کا معقول انتظام نہ کیا وہ مایوس ہوکر مدارس چلے گئے تو اس میں قصور کس کا ہے ریاست کا یا ان بچوں کا جنہیں اچھی تعلیم کی ضرورت تھی لیکن ہم نے انہیں موقع نہ دیا۔ جنہیں آج ہم مولوی کے بچوں کے نام سے تعبیر کرتے ہیں ایک وقت تھا جب یہ مولوی کے بچے نہ تھے بلکہ ریاست کے شہری تھے۔ جو اہل دانش، تجزیہ کار مولوی اور مدارس پر تنقید کرتے ہیں انہیں در حقیقت مدارس اور مولوی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے بغیر کسی لالچ اور مفاد کے قوم کے ان لاکھوں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جنہیں ریاست اور سماج نے مسترد کر دیا تھا ۔

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ریاست کی مدارس سے بے اعتنائی

  • 22-04-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    جزوی طورپر آپ کی بات درست ہے کہ مدارس میں کچھ وہ لوگ بھی اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں جن کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل ہوتا ہے ، یا مدارس میں رہائش ، خوراک اور جیب خرچ کی سہولیات بھی مہیا کی جاتی ہیں تعلیم کے ساتھ ۔
    مگر اس خیال کی اب تصحیح ہوجانی چاہیے کہ مدارس میں صرف غریبوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ، یہاں پڑھنے پڑھانے والوں میں کوئی امیر شامل نہیں ہے ۔ میرے خیال میں ایسی سوچ رکھنے والا شخص مدارس کے نظام تعلیم ، ماحول اور مشن سے یکسر نابلد ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف غریبوں کو پالنے والے ادارے ہیں ۔

    آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ اس معاشرے کو مدارس پر تنقید کی بجائے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے آپ کی قوم کے لاکھوں بچوں کو بلاکسی لالچ اور مفاد کے تعلیم دی اور انہیں معاشرے کا باصلاحیت اور نظریاتی شہری بنایا۔

  • 23-04-2016 at 10:52 pm
    Permalink

    ….zafar sab nay a6a nokata bayan keya

Comments are closed.