اسد محمد خاں سے چند باتیں


پار سال اسد محمد خاں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے، پہلی بار ملاقات ہوئی، بہت شفیق اور وضع دار شخصیت، نہایت اطمینان سے گفتگو کرتے اور اس گفتگو میں اُن کی آنکھیں اور چہرے کے تاثرات ایسے مزے سے شامل رہتے کہ ہم مسلسل اِسی دبدھا میں رہے کہ اُن کو دیکھیں یا اُن سے بات کریں۔ باتوں باتوں میں خیال آیا کہ کیوں نہ اِن باتوں کو آپ سب کے واسطے محفوظ کر لیا جائے، اسد صاحب سے عرض کی تو بکمال شفقت اُنہوں نے اگلے روز ناشتے پر مدعو کر لیا۔ لیجے صاحب، اگلے روز پوری تیاری کے ساتھ خاکسار حاضر، اب گفت گو جو ہوئی، وہ پیشِ خدمت ہے؛

سوال: اسد صاحب، دنیا کے حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور خاص طور جو صورتحال اس وقت پاکستان کی ہے اُسے کس نظر سے دیکھئے گا؟

اسد محمد خاں: عمومی طورسے میں یہ سمجھتا ہوں، کہ، یہ جو کھینچا تانی ہے، چلتی رہی ہے دنیا میں، اور چلتی رہے گی! مثلاً اب ایک ہی سپریم طاقت ہے، پہلے دو طاقتیں تھیں، جو ایک دوسرے سے توازن بھی رکھتی تھیں، بس دور سے ایک شائبہ تھا کہ یہ آپس میں بھڑی ہوئی ہیں۔ لیکن ان کا آپس میں بھڑنا صرف ایک دھمکی کی حد تک تھا۔ روس کے خاتمے کے بعد یہ دنیا یونی پولر ہو گئی ہے اور بس ایک ہی طاقت رہ گئی ہے۔ ہاں، یہ شکر ہے کہ یہ خبر سننے کو ملی ہے کہ ان کے ہاں مالیاتی بریک ڈاؤن ہوا ہے جس پر اوباما بہت شور مچا رہے ہیں۔ واللہ علم وہ ڈرامہ ہے یا کیا، کیونکہ مالیات میرا شعبہ نہیں ہے، میں اس میں زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن ہو گا یہ کہ اگر یہ سپریم پاور اس طرح کے مسئلے میں گرفتار ہواور کام کرنے والے لوگوں کو روزی نصیب نہ ہو جیسا کہ اب شروع ہو گیا ہے، تو وہی جیسے انقلاب روس یا انقلاب فرانس ہوا، کچھ نہ کچھ ایسا ہو جائے گا کہ یہ اپنے توازن میں رہیں۔

سوال : لیکن ان کے توازن میں آنے سے پاکستان پر کیا اثر ہو گا؟

اسد محمد خاں: ہمارے حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہو ں گے جب تک ہندوستان کی طرح ہم ایک Self Respecting قوم نہ بن جائیں۔ شروع میں، ہمارے وزیراعظم کو، سب سے (امریکہ اور روس) ملاقات کرنی چاہیے تھی، نہ کی۔ صدر ایوب نے روس کا وزٹ کیا تھا اور جو پریشر ڈالا گیا وہ آپ جانتے ہیں کہ ایک تاریخ ہے۔ مجبور اً یہ سب نہیں کیا گیا اور ان کو یہ دھمکی دی گئی کہ ساری امداد روک دی جائے گی اور ابھی تمہارے پاس تو مسائل ہیں مہاجروں کے اور مالیاتی مسائل، اور کچھ ہے ہی نہیں تمہارے پاس۔ ظاہر ہے ایک جما ہوا سسٹم تھا کہ جو ہندوستان کو ملا۔ یہ ایک پوری پسماندہ بیلٹ، جب بھی تھی اور اب بھی کئی حد تک ہے، یعنی پنجاب کو چھوڑ کر۔ اور سندھ کی صورتحال تو آپ کو معلوم ہے، سندھ جو تھا، وہ بمبئی صوبے کا حصہ تھا۔ اور ایک خودمختاری تھی جو پنجاب کے پاس موجود تھی لیکن صنعتیں اس پنجاب میں تھیں زیادہ تر، کہ جو اب 47 ء کے بعد ہندوستان کا حصہ ہے۔ ہمارے پاس مسائل بے شمار تھے۔

اب امریکہ نے ہماری طرف ہاتھ بڑھایا، روس نے بھی بڑھایا، اگر ہم ایسا کوئی توازن کر لیتے اور ان سے کہتے کہ آپ اپنے ہوش و حواس میں رہیے، ہم نہ آپ کے سائے میں آنا چاہتے ہیں نہ دوسری سپر پاور کے، تو یہ بہتر تھا، یہ کیا بھی جا سکتا تھا۔ اس لیے، کہ میں جہاں سے آیا ہوں میں نے وہاں دیکھا کہ پہلے سٹیل مل قائم کیا روس نے، اور انہوں نے اس کا شکریہ بھی ادا کیا، لیکن اُس سے اِس طرح کی ڈیل نہیں کی کہ ان کے کہنے پر اپنے سارے معاملات سے دستبردار ہوجائیں کہ جیسی ماسکو سے خبر آئے گی ویسا ہم کریں گے۔ انہوں نے واشنگٹن سے بھی کہا تھا کہ ہم ایک زندہ اور آزاد قوم بن چکے ہیں، تو اپنے حساب سے چلتے رہے اور کسی کا ڈکٹیشن قبول نہیں کیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں چھوٹا ہی تھا تو سٹیل مل کا ایک سلسلہ چل رہا تھا علیحدگی سے پہلے ہی، سروے ہو رہا تھا اور وہ سٹیل مل قائم ہو گیا شاید 50 ء میں اور جو انہوں نے جو انویسٹ کیا تھا قرضے کی صورت میں، یا جس بھی صورت تھا وہ سب واپس کیا۔ سٹیل مل اب آزاد اِدارہ ہے۔ یہ ہم بھی کر سکتے تھے، بہت آسانی سے کر سکتے تھے!

اور وہ جنگ جو جنرل ایوب خان نے لڑی امریکا کی طرف سے روس کے خلاف اور یہاں سے طیارہ بھی اڑا، وہ بھی ایک تاریخ کا حصہ ہے تو وہ ہم نے برا کیا۔ کسی بھی سپر پاور کو اتنا نہیں خفا کرنا چاہیے اورنہ دوسری کو اپنا ان داتا بنا لینا چاہیے۔ اس کو اپنی اوقات میں رکھنا چاہیے۔ اور ہم خود چونکہ ایک چھوٹی قوم تھے، ہمیں انڈسٹری کی طرف جانا چاہیے تھا فوری طور پر جو ہم نہیں گئے۔ پنجاب میں کام ہوا، بڑی اچھی بات ہے اور صدر ایوب نے کچھ صوبہ سرحد میں کام کیا ان لوگوں کو روزگار ملا۔ اب صور تِ حال یہ ہے کہ خود پنجاب اپنی انڈسٹری سے اپنے ہی لوگوں کو نہیں سنبھال سکتا، فیڈ نہیں کر سکتاکیونکہ اب سارے مسائل ہیں انرجی کے، گیس کے ہیں۔ صنعتیں پنجاب کی مشکل میں ہیں، درجنوں کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ تو وہ کیا کرے گا صوبہ سرحد سے بلوچستان سے جا کر لوگوں نے کراچی میں صنعتیں لگائیں۔ لیکن اب بدامنی کی وجہ سے یہ صنعتیں واپس جا رہی ہیں، انرجی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر بیوپاری باہر اپنا کام کر رہے ہیں۔

یہ ایک الم ناک صور تِ حال ہے۔ ہم نے بہت برا سٹارٹ لیا تھا۔ کم سے کم اپنی ایک آزادانہ روش پہلے دن سے قائم کرنی چاہیے تھی اور تعلیم پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ تعلیم پر خاک نہیں ہوا اور طالبان نے آکر چند ہزار سکول رہنے دیے اور سندھ کے سکولوں کا حال میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کئی سو سکول جو ہیں وہ، وڈیروں کی بھینسیں باندھنے کے کام آتے ہیں اور بلوچستان میں خدا مغفرت کرے بگتی صاحب اور دوسرے ان کے ہم عصر سرداروں کی، یہ بحث ایک زمانے میں چلی تھی کہ تم نے میرے علاقے میں چار سکول کھولے ہیں میں تمہارے علاقے میں چالیس سکول کھولوں گا۔ تمہارا حشر نشر کر دوں گا، تو جہاں یہ حال ہو، وہاں کیا کیا جا سکتا ہے۔

سوال: آپ کی کہانیوں میں جیسے شہر کوفے کا ایک آدمی یا ایک بے خوف آدمی میں، جہاں تک میں نے محسوس کیا، آپ کے آس پاس کے لوگ، آپ کا ماحول سب نظر آتا ہے، کچھ اس بارے فرمائیے؟

اسد محمد خاں: میرے ایک بہت اچھے بلوچ دوست تھے جنہوں نے شروع سے ملازمت ہی کی، اور میری کتاب میں ان کا ذکر ہے، بلکہ ایک بلوچ اور ایک پختون بھائی دونوں کا۔ پختون نے تو بحیثیت مزدور کام شروع کیا اورپھر ماسٹرز کیا اس نے، اور سپروائزر بھرتی ہوکر انسپکٹر ریٹائر ہواجو چنگلی سوات کا رہنے والا تھا۔ میری کتاب کا پہلا افسانہ ہے ایک بے خوف آدمی کے بارے میں۔ تو وہ بے خوف آدمی وہی تھاہمارا دوست جو پختون تھا۔ اور دوسرے ہمارے بلوچ دوست ہیں۔ وہ سیلف میڈ آدمی ہیں عبدالغفور۔ میں نے ایک کہانی ان کے نام کی ہے۔ عبدالغفور صاحب ایک سیلف میڈ آدمی ہیں۔ بلوچ ہیں، اور ساری دانش، عزت نفس جیسا کہ بلوچوں میں ہوتی ہے ان میں موجود ہے۔

کراچی جیسے شہر میں انہوں نے بسوں میں سفر کیا اور فرنچ سیکھی۔ انگریزی میں ان کا بڑا اچھا معیار ہے۔ مجھے انہوں نے کمال کتابیں دیں۔ پھر انہوں نے سنسکرت بھی سیکھنا شروع کی اور بہت روانی سے وہ پڑھتے تھے۔ انہوں نے سنسکرت کے بڑے شاعروں کے مجموعے مجھے دیے۔ انگریزی سے شغل ہوا تو اسد محمد پکتھال کا جو ترجمہ ہے، وہ میرے پاس موجود تھا، ایک وہ بھی میرے لیے لے آئے تو میں نے کہا کہ بھئی غفور، یہ میرے پاس موجود ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں یہ بھی آپ رکھئے۔ میں نے اپنا والا نسخہ پھر والد کو بھیج دیا۔ اچھا والد صاحب نے ایک ہندو دوست کی فرمائش پروہ ترجمہ اُن کو دے دیا اور آخر دو سال بعد وہ صاحب مسلمان ہو گئے۔ والد صاحب کہتے تھے کہ پکتھال صاحب کو اللہ اس کا اجر دے گا، تو نے جو کتاب بھیجی تو صفحہ بہ صفحہ وہ پڑھتے رہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اب اصل مجھے پڑھائیے۔

اس طرح والد صاحب کے وہ دوست اور ان کی بیگم دونوں مسلمان ہو گئے۔ ایک خوف تھا۔ کیونکہ وہ اس بات پر تلے تھے کہ وہ ڈی کلیئر کریں گے اور مسجد میں علامہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کریں گے، تو لوگوں نے مصلحت سمجھائی کیونکہ کچھ بلوے ہو چکے تھے تو انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے تم نہ ڈی کلیئر کرو۔ خیر وہ مسلمان ہو گئے اور کھلم کھلا کہتے تھے کہ ہاں بھائی ہوں میں مسلمان، مجھے یہ چیز چاہیے، یہ چیز چاہیے۔ میں یہ نہیں کھاتا۔ اپنے گاؤں والوں اور رشتہ داروں سے انہوں نے کہہ دیا تھا کہ میں اور میری بیوی بیمار ہیں، جب ہم مریں گے تو ہماری میت گاؤں لائی جائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ بھی انہوں نے طے کر لی تھی اور وہیں پر ان کو دفن کیا گیا۔

یہ چیزیں تھیں اور ان کے ڈانڈے میں جب بھی ملاتا ہوں، تو میں غفور سے کہتا ہوں کہ تم نے مجھے کتاب دی جو میں نے والد صاحب کو دی اور انہوں نے آگے دے دی اور یہ ایک اچھی بات ہو گئی۔ تو یہ وہ بلوچ دوست تھے۔ اب۔ ۔ ۔ جس علاقے میں ہم اور وہ جاتے تھے اور سارا سارا دن چھٹی کا گزار دیتے تھے ان کے ساتھ، اب وہاں گولیاں چلتی ہیں اور جو دو گروپ ہیں، وہاں آپس میں لڑ رہے ہیں۔ وہی لیاری کا پورا جو المیہ آپ نے سنا ہو گا۔ اس شہر نے مجھے بہت سنبھالا، بہت تربیت کی میری اور ظاہر ہے کہ وہ میں نے لکھا بھی کہ کراچی میں جب آیا تو ہمارے کزن نے ایک پلاٹ خرید کر وہاں جھونپڑی بنائی اور اس کے بعد وہ ایک ایک پلاٹ ہمیں مل بھی گیا۔ وہاں ہم نے ایک کچا سا مکان بھی بنا لیا تھا ہم نے، تو خیر یہ حالات تھے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 450 posts and counting.See all posts by husnain