رمضان کا چاند اور غریب کی چمکتی تھالی


روشن تو چاند ہوا کرتا ہے، میں نے سنا ہے کچھ چہرے بھی چاند جیسے ہوتے ہیں، جوانسان کے ذہن میں کسی خوبصورت خواب کی طرح محفوظ ہوجاتے ہیں اور جب انسان یاد کرنا چاہے بس چند لمحے میسر ہونے چاہیئیں اور وہ چند مہتاب آپ کے دل و دماغ کے گرد طواف کرنا شروع کردیتا ہے، اسی لیےچہرے کو چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے اور دلکش و حسین چمکتے چہروں کو کبھی ماہ پارہ، ماہ رخ یا ماہ جبین جیسے نام تحفہ کردیئے جاتے ہیں، مگر چاند کو کیا پتا کے اس کے نصیب میں کیا لکھا ہے، رات کا اندھیرا، یا سورج کی پکھلا دینے والی شعائیں؟ چاند بھی کبھی خاک ہوا ہے کیا؟ بھلا چاند کو سورج سے کیا خوف؟ آخر وہ بھی تورات کو چاندنی کی چادر اڑھاکر اس کو تاریکی سے بچاتا ہے اور ان ستاروں کو چمکنے کا موقع دیتا ہے جو سورج کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت و حوصلہ نہیں کرسکتے لیکن چاند یہ جانتا ہے کے اس کی روشنی اندھیرے کی محتاج ہے، جب تک اندھیرا نا ہوگا چاند کی زندگی کو بقاء نہیں۔

پورا سال رمضان کی آمد کا انتظار کرنے والا غریب اس چاند کی جھلک کا منتطر اس لیے نہیں ہوتا کے اس نے پورا سال رب کی عبادت نہیں کی بلکہ وہ تو پورا سال ہی روزے سے ہوتا ہے، کبھی کسی بازار میں ویٹ مشین لے کر کے کوئی دس روپے دے دے اور اس کو ایک چاند کی طرح گول روٹی نصیب ہوجائے تو کبھی ٹشو پیپر کے چھوٹے چھوٹے لفافے بسوں میں بغیر چپل کے پیچنے کی کوشش کرکے جن کو ہم اور آپ دھتکار کر جھڑکنے میں ہی سکون محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ہم بہت تھکے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر بسوں میں خواری علیحدہ ذہنی و جسمانی اذیت کا باعث بن رہی ہوتی ہے، ہمیں اپنے گھر اور کمرے میں پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اور ہم اس سکون کی تلاش میں جو کچھ منٹ یا گھنٹے کی دوری پر ہوتا ہے، سامنے والے شخص اور اس کی پکار کو سن ہی نہیں پاتے، وہ ہمیں نظر ہی نہیں آرہا ہوتا، یا تو ہمیں بھوک ستا رہی ہوتی ہے یا سورج کی سخت تپش جو ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ زبان پر بھی اثر کررہی ہوتی ہے اور اسے انتہائی تلخ کردیتی ہے، نا ہم سوچنا چاہتے ہیں نا ہی بولنا، ہمیں سامنے کھڑا ہر شخص ناگوار لگنا شروع ہوجاتا ہے چاہے وہ کوئی پین یا ٹشو پیپر پیچنے والا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

ہم ہر سال روزے رکھتے ہیں، قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں لیکن ہماری پلیٹ کے سائز میں کمی نہیں آتی وہ بڑھتا ہی رہتا ہے کیونکہ ہم نے تو عبادت کی ہوتی ہے، تو خدا کی نعمتیں ہمارے لیے نہیں تو اس فقیر و مسکین شخص کے لیے ہونی چاہیئیں جو پورا دن بھیک مانگنے میں سرف کرتا ہے؟ نا روزہ رکھتا ہے نا قرآن پاک کی تلاوت؟

اگر اس نے روزہ رکھا ہوتا اور قرآن پاک کی تلاوت کی ہوتی تو اس کی پلیٹ میں بھی بھر پور رزق ہوتا اور وہ کبھی بھی نہ چمکتی۔ کیا آپ کی پلیٹ میں رمضان کا چاند اترتا ہے؟ کیا آپ کی تھالی بھی غریب کی تھالی کی طرح چمکتی ہے؟ جب پہلا روزہ رکھیں تو اپنی تھالی میں وہ چاند ضرور تلاش کرئیےگا جس کو رمضان کا چاند کہ کر مناتے ہیں اور جو صرف غریب کے نصیب میں لکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی تھالی ہی خالی ہوتی ہے! تو عبادت تو اس نے کی نا کے آپ نے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں