غزہ میں قتل عام اور ہم مسلمان


یہ دو دن پہلے کی کہانی ہے، جب ایک طرف جشن کا سماں تھا اور دوسری طرف انسانوں کا قتل عام کیا جارہا تھا، القدس میں نئے امریکی سفارتخانے کی افتتاحی تقریب جاری تھی، اسرائیلی وزیر اعظم نےٹرمپ کی خوبصورت بیٹی کے ساتھ ملکر مزیدار کھانا کھایا، اس کے بعد ہال میں بیٹھے ہوئے تمام افراد نے تالیاں بجائیں، جشن کا ماحول پیدا کیا، پھر ٹرمپ کی بیٹی نے نئے امریکی سفارتخانے کا افتتاح کیا، سینکڑوں کی تعداد میں بیٹھے امریکیوں اور اسرائیلیوں کے شہرے پر قاتلانہ خوشی رقص کررہی تھی، شراب میں دھت اعلی حکام قہقہے بکھیر کر دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے، دنیا والو سنا ہم ہی طاقت والے ہیں، جو چاہیں کریں، کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اسی وقت دوسری جانب غزہ میں مظاہرے ہورہے تھے، اسرائیلی فوجی کمزور اور نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسا رہے تھے، اسرائیلی فوجیوں نے لمحوں میں ساٹھ سے زائد فلسطینی شہید کردیئے، تین ہزار سے زائد افراد گولیوں سے زخمی ہو کر زمین پر گرے پڑے تھے۔ مرنے والوں میں بچے بھی تھے، صحافی بھی تھے، خواتین بھی تھیں۔ وہ مررہے تھے اور ٹرمپ کی بیٹی سینکروں خونخوار مردوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر مزیدار کھانے کھارہی تھی۔ ملک ایک تھا، مناظر دو تھے، ایک طرف کمزور اور غلیل والے اور دوسری طرف طاقتور اور ایٹم بم والے۔ کہا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں نے اسرائیلی شہریوں پر بٹر فلائی بلٹس کا استعمال کیا، جو اس وقت سب سے خطرناک بلٹس ہیں، یہ بلٹس جب جس کے کسی بھی حصے میں لگتی ہیں تو کھل جاتی ہیں اور جسم کی ہڈیوں اور گوشت کو پیس کر رکھ دیتی ہیں۔

میڈیا کے مطابق جب القدس میں امریکی سفارتخانے میں جشن عروج پر تھا، اس وقت غزہ میں فلسطینیوں کی لاشیں سرد خانوں میں منتقل کی جارہی تھی، سرد خانے کم پڑ گئے، زخمیوں کی تعداد بڑھ گئی، دوائیاں ختم ہو گئی، لیکن ٹرمپ کی بیٹی کی خونی مسکراہٹ جاری تھی۔ ہزاروں زخمی زخموں سے چیخ و پکار کر رہے تھے، لیکن ایمبولیینسز نہیں تھی، ادھر دنیا کا عظیم صدر ٹرمپ ویڈیو خطاب کرکے اسرائیلیوں کو مبارکباد پیش کررہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ امریکہ مشرق وسطی میں امن کے لئے کاربند رہے گا، اور دوسری طرف قتل عام ہورہا تھا۔ شاید اسی کو وہ امن سمجھتا تھا۔ وہ شاید یہ کہنا چاہا رہا تھا جس دن یہ سارے فلسطینی مر جائیں گے، صرف اسرائیلی رہیں گے، امن قائم ہو جائے گا۔

شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے

غزہ میں گزشتہ روز ان اکسٹھ افراد کی تدفین کی گئی، اقوام متحدہ نے اس قتل عام کی مذمت کی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اس قتل عام کی مذمت کی، سیکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرار داد پیش کی گئی جو امریکہ نے ویٹو کردی، فلسطین میں اب تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے، عرب دنیا میں سنا ہے سکتے کا عالم ہے، وہ بھی مذمت کررہے ہیں، عرب لیگ نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس قتل عام پر افسوس ہو ا۔ یورپ نے تو اس قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔ اسرائیل نے قتل عام کے بعد کہا ہے کہ انہوں نے تو بہت تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن قتل عام کرنا ان مجبوری تھی، یہ جو کچھ ہوا ہے حماس کی وجہ سے ہوا ہے، انہوں نے تو صرف گولیاں برسائی تھی۔ سعودی عرب نے تو کمال کردیا کہا عالمی برادری فلسطینیوں کو تحفظ دے۔

ایک اسرائیلی وزیر نے تو یہ کہہ دیا کہ گولیاں اس لئے برسائیں گئی کہ اتنے فلسطینیوں کو کیسے جیل میں بند کیا جاسکتا تھا۔ اب ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ امریکہ جاچکی ہیں۔ اور وہاں بیٹھ کر کہہ رہی ہیں کہ انہیں اس قتل عام کا بہت افسوس ہے۔ بچھلے سات ہفتوں میں 114 فلسطینی مارے جاچکے ہیں، بارہ ہزار فلسطینی زخمی ہیں، لیکن دنیا کے لئے یہ خبر ہی نہیں کیونکہ یہ تو پیدا ہی اس لئے ہوتے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مر کر شہید ہو جائیں اور مسلم دنیا کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ان کی موت پر مذمتیں کریں اور اس طرح دنیا کا ضمیر جھجھوڑیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں