سائبر ٹرولنگ پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے


سائبر بُلنگ

پاکستان میں بدھ کو ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جو کہ سائبر بُلنگ کے متعلق ہے۔

#SayNoToCyberBullying کس نے شروع کیا اور یہ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اس کے متعلق تو پتہ نہ چل سکا لیکن لوگوں کے ٹویٹ دیکھ کر اور کل ہی بی بی سی اردو کی رپورٹ کو، جس میں لاہور میں انسانی حقوق کی کارکن دیپ سعیدہ کا سائبر بلنگ کے حوالے سے انٹرویو کیا گیا تھا، سامنے رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سائبر بُلنگ پاکستان میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

لیکن ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے ’پرانے ٹوئٹر‘ کی بات بھی کی اور اسے کسی نہ کسی طرح سائبر بُلنگ سے جوڑا ہے۔ آخر لوگ اتنے ‘نوسٹالجک’ کیوں ہیں اور کیوں ماضی یاد کیا جا رہا ہے۔

سنا تو یہ تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب/ چھین لے مجھ سے حافضہ میرا۔ لیکن ٹوئٹر پر ٹرینڈ تو کچھ الٹا ہی نظر آ رہا ہے۔ آئیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی ٹوئیٹس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف عمارا لکھتی ہیں کہ ‘سائبر ٹرولنگ پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے۔ اسے فوراً روکنا چاہیے کیوں کہ یہ حدیں پار کر چکی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو خدو خال اور شکل کی وجہ سے ٹرول کرتے ہیں جو کہ کسی طور قبول نہیں۔’

فائقہ کے مطابق ‘سوشل سائٹس آج کل لوگوں کو ہراس کرنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹول ہے۔ انٹرنیٹ کو رابطے اور معلومات کے لیے استعمال کرنا چاہیے، دوسروں کو آزار پہنچانے کے لیے نہیں۔’

ایک اور صارف عمر ٹوئٹر کا گزرا ہوا زمانہ یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘میں ٹوئٹر کا وہ زمانہ یاد کرتا ہوں جب یہ بس ایک مزہ تھا اور لوگ اسے دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔’

اینی لکھتی ہیں کہ ‘ایک زمانہ تھا کہ جب سب ٹوئٹر کا اچھا استعمال کرتے تھے لیکن اب سبھی اس پر نفرت پھیلاتے ہیں اور سستی ٹرولنگ اور اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔’

ایک اور صارف قادری بھی ٹوئٹر کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وقت تھا جب لوگوں کو ‘سائبر بلی’ نہیں کیا جاتا تھا۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ’ٹوئٹر ایک اچھی جگہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ ‘لائکس’ اور ‘ری ٹویٹس’ کے لیے دوسروں کی بے عزتی کرتے ہیں۔’

طیب میمن لکھتے ہیں کہ ‘سائبر بُلنگ بھی اتنا ہی دکھ دیتی ہے جتنا اصل بُلنگ۔ اسے ہر حال میں رکنا چاہیے۔’

سدرا سائبر بلنگ کی وجہ سے اپنے ڈپریشن کے متعلق لکھتی ہیں کہ ‘جب میں میٹرک میں تھی تو میری تصاویر لیک کی گئی تھیں۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایسا کیسے ہوا اور اسے کس نے کیا لیکن جو مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت میرے دماغ میں خود کشی واحد راستہ دکھائی دیتا تھا۔’

StopCyberBullying# کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

بی بی سی اردو نے یہ جاننے کے لیے کہ یہ ہیش ٹیگ بدھ کو کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اور سائبر بلنگ پاکستان میں کتنا بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن سے وابستہ شمائلہ خان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ آن لائن ہراساں کرنا پاکستان میں ایک مسئلہ ہے اور یہ کافی زیادہ شروع ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر عورتوں اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے اور ایسے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اُس سال انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کی 1551 شکایات سنیں اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انھیں شکایات کالز، ای میلز اور فیس بک پیغامات کی شکل میں ملیں اور شکایات کرنے والوں میں 67 فیصد نے خود کو خواتین جبکہ 45 فیصد نے مرد بتایا۔

رپورٹ کے مطابق وہ پلیٹ فارم جس پر سب سے زیادہ ہراساں کیا گیا وہ فیس بک ہے۔ تقریباً 45 فیصد کالرز نے بتایا کہ انھیں فیس بک پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہراس کرنے کے طریقوں میں جعلی فیس بک پروفائل، بغیر اجازت کے معلومات افشا کرنا، بلیک میلنگ اور بغیر اجازت کے پیغامات بھیجنا شامل ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3786 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp