عالمی اردو مشاعرہ


عالمی مشاعرہ کراچی کی تہذیبی روائت ہے جو برسوں سے چلی آرہی ہے ۔ یہ شہرِ قائد کی پہچان ، اس کا فخر ہے۔ مشاعرے میں شرکت کے شوقین افراد اس کے انعقاد کا شدت سے انتظار کرتے ہیں ۔ اور جب بھی انہیں اس کے انعقاد کی خبر ملتی ہے وہ جوق در جوق آتے ہیں اور بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ مشاعرے میں ہو ٹنگ کرنے اور بے ساختہ داد دینے والے الگ اپنا رنگ جماتے ہیں ۔ ایسی ولولہ انگیز ادبی فضا میں شاعر کے اندر بھی ایک جوش بھر جا تا ہے، اور وہ بڑے والہانہ انداز سے اپناکلام نذرِ سامعین کرتا ہے ۔ لیکن اب کچھ عرصے سے اس قدیم تہذیبی رویے کو گہن لگ رہا ہے ۔

اس شہر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ادبی سرگرمیوں پر اختیارات کی کشمکش نے عالمی مشاعرے کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ پچھلے سال اس مشاعرے کے انعقاد کی ذمہ داری دو گروپوں نے اپنے ذمے لے لی تھی ۔ اور دو جگہوں پر اس کا نعقاد کیا گیا تھا ۔ دونوں جگہوں پر یہ بڑی کامیابی سے منعقد کیے گئے ۔ اور یقینا! اس کا سہرا منتظمین کے سر جاتا ہے ۔

کوئی دو ماہ قبل کراچی بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے کل پاکستان مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس مشاعرے میں تربیت یافتہ اور بازوق سامعین کی کمی تو تھی ہی لیکن مجموعی طور پر بھی سامعین کی تعداد مایوس کن تھی ۔ خیر اسے ہم نے ایک اتفاق سمجھا ۔ لیکن اس بار جب ہم نے عالمی مشاعرے میں شریک شعرا کی فہرست پر نظر ڈالی تو ایک طرف تو اچھے اور مشہور شعرا کرام کے نام دیکھ کر خوشی ہوئی تو دوسری یہ بھی اطمینان ہوا کہ اس فہرست میں چند ایسے سکہ بند گویے شاعر جو لمبی تانوں کے ساتھ ساتھ سامعین سے گفتگو میں بھی اچھا خاصا وقت ضائع کرتے تھے اس فہرست سے یکسر غائب تھے ۔لیکن کراچی سے نئی نسل کے نمائندہ شعرا کو فہرست میں نا پا کر مایوسی بھی ہوئی، خیال کیا کہ اکثر نام فہرست میں نہیں دیئے جاتے لیکن مشاعرے میں وہ کلام پڑھنے کے لیے موجود ہوتے ہیں ۔

اور ا یساہی ہوا ۔ کئی شاعر ایسے تھے جن کا نام مشاعرے کی فہرست میں نہیں تھا لیکن انہوں نے مشاعرہ پڑھا ۔ مگر افسوس کہ وہ بھی سینئیر شاعر ہی تھے ۔ کراچی میں منعقدہ اس مشاعرے میں کسی نوجوان شاعر کی عدم موجودگی پرمنتظمین سے سوال تو بنتا ہے۔ ڈنر کا انتظام بیچ لگژری میں کیا گیا تھا ۔ ڈنر کے بعد نیشنل میوزیم کے وسیع گراؤنڈ میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ گراؤنڈ میں حاضرین کی تعداد خاصی مایوس کن تھی ۔ خیال تھا کہ آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھنا شروع ہو جا ئے گی ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جتنے لوگ شریک ہونے آتے رہے اس سے زیادہ لوگ گھروں کو لوٹتے رہے ۔

مشاعروں میں وقت گزرنے کے ساتھ عدم دلچسپ کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات جو ہمیں ہر مشاعرے میں بری طرح کھٹکتی ہے وہ شعرا اور شاعرات کا اپنے کلام سے انتخاب ہے جو وہ ہر مشاعرے میں کرتے ہیں ۔ اس بار بھی شعرا و شاعرات نے وہی غزلیں پڑھیں جو وہ ہر مشاعرے میں پڑھتے ہیں ۔ یہ وہ شاعر ہیں جن کی کئی کئی کتابیں آچکی ہیں لیکن سامعین کی کم از کم بیس بار کی سنی ہوئی غزل پڑھ کر آخر وہ مشاعرے میں کتنی جان ڈال پائیں گے ۔ ویسے جان پھر بھی پڑ سکتی تھی اگر وہ اپنی ساتھی شعرا کے کلام پر داد دینے کی زحمت کر لیتے ، ناظمِ مشاعرہ مصرع اٹھاتیں ، لیکن شائد تھکن مانع آئی ہوگی۔ کیوں کہ شروع سے آخر تک میزبانی کے فرائض ان ہی کے ذمے رہے ۔ شاعرات سیلفیاں بنا نے میں مصروف رہیں۔ اور شعرا خیالوں میں گم رہے ۔

اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض عنبریں حسیب عنبر نے انجام دئیے ، بہت خوب صورت نظامت کرتی ہیں ۔ لیکن اس بار ان سے یہ غلطی ہوئی کہ ابتدا میں میز بان کی حیثیت سے جب انہوں نے آغاز کیا تو یکے بعد دیگرے تین غزلیں سنا ڈالیں۔ یوں ہر شاعر نے تقلید کے طور پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چار غزلیں سنانا شروع کیں ۔ نظا مت کار، گو کہ ٹوکتی رہیں کہ مجموعہ کلام نہ سنائیں مگر اس کا آغاز وہ خود ہی کر چکی تھیں اس لیے تقریباً تیس شعرا کی شرکت اور اس پر کلام کی بھر مار نے سامعین کی دلچسپی کو یکسر ختم کر دیا اور رہی سہی تعداد بھی اختتام تک مزید کم ہو چکی تھی ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ منتظمین اور شعرا کے ساتھ آئے ہوئے دوست احباب اور مشاعرے کے چند مداح ہی رہ گئے تھے ۔ اگلا دن ورکنگ ہونے کے باوجود مشاعرہ بہت تاخیر سے اختتام پذیر ہوا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں