تین دفعہ وزیر اعظم، کیا آپ کو سوال کا حق ہے؟


متنازعہ وقت، متنازعہ صحافی، متنازعہ شخصیت، متنازعہ بیان ، متنازعہ پیش بندی. خصوصی پروٹوکول سے نوازا گیا صحافی چپکے سے ملتان پہنچتا ہے, اس کے نہ آنے کی کسی کو خبر ہے نہ جانے کی، کچھ مبینہ پروٹوکول دینے کی دستاویزات بھی زیر گردش ہوتی ہیں(جن کی تصدیق بہرحال ابھی باقی ہے)۔

ہنگامی طور پر ایک ایسے راہنما کا انٹرویو جو اپنی صفائیاں پورے ملک میں دیتا پھر رہا ہے اور عدالتوں کا سامنا کر رہا ہے اور ابھی لوگ اس کی طویل ترین عدالتی پیشیوں کے دورانیے کو اس کے مثبت پہلو کے طور پر استعمال کرنا شروع ہوتے ہیں کہ وہ متنازعہ صحافی کو ایک ایسا بیان دیتا ہے جو مخصوص حالات کی وجہ سے پوری دنیا میں نہ صرف پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے بلکہ ہمسایہ ملک کے موقف کو بھی تقویت پہنچاتا ہے جو وہ ایک عرصے سے دہرا رہا ہے(بناء واضح ثبوتوں کے)۔ یا یوں کہہ لیں کہ ایک سیاسی شخصیت جو اب خود کو ایک نظریے کا نام دیتی ہے، جس کو اپنے بیانیے پہ فخر ہے وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس حد سے بھی گزرنے سے گریز نہیں کرتی جہاں ملکی سلامتی عالمی سطح پر مذاق بن جاتی ہے۔

سیرل المیڈا کا خصوصی طور پر ملتان پہنچنا، اور ہنگامی طور پر محترم میاں محمد نواز شریف کا انٹرویو کرنا، اور اُسی مخصوص میڈیا گروپ کا فورم استعمال کرنا جو ڈان لیکس کے حوالے سے بھی جڑ اہوا ہے، اور اس کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کرنا جب عدالتی کاروائی اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی ہے ہو، اور سونے پہ سہاگہ کہ لولی لنگڑی توجیح پیش کرتے باقی سیاسی راہنما۔

یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تہہ تک پہنچنا شاید میاں محمد نواز شریف کے بیان سے بھی زیادہ اہم ہے۔ چوہدری نثار اور ماروری میمن تو شاید اتنی جرات رکھتے ہیں کہ اختلاف کر گئے مگر جو دونوں ہاتھوں سے بہتی گنگا سے فیضیاب ہوتے رہے وہ ابھی ہلیں گے نہیں۔ ورنہ تو ایسا بیان بڑے بڑوں کو ہلا سکتا تھا۔ اور ہلا بھی گیا ہے۔ اپنی ذات کو بچانے کے لیے اس ملک کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا دینا جس نے آپ کو اقتدار دیا، خود کو نوچنے کے مواقع دیے شاید ایسا ہی ہے جیسے کوئی انسان اپنے محسن کو سر بازار بے لباس کر رہا ہو۔

2008 میں ممبئی حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی سال عام انتخابات کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی روشن خیال جماعت اقتدار سنبھالتی ہے اور پاکستان مسلم لیگ نواز اپوزیشن سیٹ سنبھال لیتی ہے اور اپوزیشن بھی ایسی کہ جس کے پاس چوہدری نثار علی خان جیسے اپوزیشن راہنما ہیں۔ جن کے بارے میں ایک نجی محفل میں ایک بیوروکریٹ اپنے ماتحت پہ برس رہے تھے کہ ابھی تک متعلقہ دستاویزات تیار کیوں نہیں ہوئیں، بقول ان کے اگر دستاویزات پوری نہ ہوں تو چوہدری صاحب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بہت کھنچائی کرتے ہیں۔ ایسے اپوزیشن راہنما کے ہوتے ہوئے اس وقت ن لیگ نے ممبئی حملوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ آج آپ کو فکر گھیرے ہوئے ہے کہ افغانستان کی سنی جا رہی ہے پاکستان کی نہیں تو اس جانب آپ کی خارجہ پالیسی ستو پی کے سوتی رہی ہے ؟حکومت تو ابھی بھی آپ کی ہے؟ ممبئی حملوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کاروائی ابھی مکمل کیوں نہیں ہوئی؟ اس سوال پہ تو آپ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے تھا کہ آپ وزیر اعظم تھے، آپ کی حکومت اب بھی ہے آپ مکمل کروائیے اعتراض کس نے کیا ہے؟ آج آپ اپنی کرپشن کے مقدمات سے توجہ ہٹانے کو کہہ گئے کہ غیر ریاستی عناصر کو کیا اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ 150بندے مار دیں۔ تو حضور، گستاخی معاف آپ اپنے دورِ حاکمیت میں اس سوال کا جواب کیوں نہیں ڈھونڈ پائے؟

کیا غیر ریاستی عناصر کسی کی اجازت سے کاروائی کرتے ہیں؟ ایسا ہے تو آپ نے کلبھوشن یادیو کا بھی لگے ہاتھوں ذکر کر لینا تھا۔ وہ تو ریاستی عناصر میں آتا ہے کہ بھارت نہ صرف اس کا اپنا مان رہا ہے بلکہ بچانے کی ہر سعی بھی جاری ہے۔ کیا وہاں پر جلتے ہیں؟ آپ نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ان غیر ریاستی عناصر کا قلع قمع کیوں نہیں کیا؟ آپ لگے ہاتھوں ہمسایہ ملک سے بھی تحقیقات میں عدم تعاون کا گلہ کر دیتے تو شاید آپ کا سیاسی قد کچھ تو بڑھ جاتا۔ آپ کے توسابق وزیر داخلہ تک ہمسایہ ملک کے عدم تعاون کا قصہ سنا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ ملبہ اپنے گریبان میں پھینک رہے ہیں؟ کیا آپ کا بیانیہ یہی تھا؟ کیا یہی وہ نظریہ تھا جو سفرِ جی ٹی روڈ میں نظرآیا؟

اپنی حکومت، تمام اختیارات، خاندان کی شادیوں میں جپھیاں، مری میں تفریح، سمیت بہت سے دل لگیوں کے باوجود اگر آپ خود ثبوت ہمسائیوں سے نہیں لے پائے۔ خود غیر ریاستی عناصر کا قلع قمع کر نہیں پائے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر نہیں پائے تو اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پہ تو نہ ڈالیے ۔ کچھ تو اس ملک کی حرمت کا پاس کیجیے جہاں آپ تین بار وزیر اعظم رہے، نکالے گئے تو ایک دفعہ تو اپنی غلطی تسلیم کر لیجیے۔ یا ہر بار آپ ہی درست ہیں؟ خواجہ صاحب کا ٹریڈ مارک فقرہ نہ جانے کیوں یاد آ رہا ہے، کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے، اس کو اپنے قرب و جوار میں تلاش کیجیے۔ آپ خود اقتدار میں رہ کر جو کام کر نہ سکیں، کیا ان پہ آپ کسی اور سے سوال کرنے کا اخلاقی جواز بھی رکھتے ہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں