پی ٹی ایم کراچی جلسہ: ہم بھی وہیں موجود تھے


پشاور ہوائی اڈے  کے اہلکار نے  آواز لگائی، فلائٹ ایک گھنٹہ تاخیر کی شکار ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تو یہی آواز پھر اٹھی۔ لاونج میں بیٹھے بیشتر افراد ترکی ٹوپی پہنے ہوئے تھے جو اب منظور پشتین کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ناکامی کی علامت ٹھہرگئی ہے۔

پشاور کی ایک جامعہ میں پروفیسر یہ ٹوپی پہن کر آئے تو شعبے کے سربراہ نے پوچھا، یہ کیسی ٹوپی ہے؟ پروفیسر نے کہا، یہ مزاحمتی ٹوپی ہے ۔ جیسے خدائی خدمت گار تحریک میں سرخ لباس مزاحمت کی علامت تھا۔ سرخ پوش اپنی اس پوشاک کی سبب اضافی مالیہ دیتے  تھے۔ دل کو ایک طرح کا اطمینان ہوا کہ جب اسلام آباد کی بابری مسجد کے باہر ایک عطر فروش کا سامان اس لیے ضبط کرلیا گیا کہ   وہ جو ٹوپیاں بیچ رہا تھا ان میں آٹھ عدد یہ ٹوپیاں بھی تھیں۔

دوسری بار اعلان  ہوا تو ایک صاحب نے دوسرے سے کہا، یہ کیا مصیبت ہے کیوں لیٹ ہورہی ہے فلائٹ؟ بابا جی نے کہا، یہ ٹوپیاں یونہی تم لوگوں کے سر پر رہیں تو یہ جہاز نہیں اڑنے والا۔ یہاں میں نے وٹس ایپ کی گرہ کھولی تو پیغام ملا، منظور کا ٹکٹ کینسل کردیا گیا ہے اور کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جارہی۔ جواب میں عرض کیا، وجہ جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے؟

کراچی کے نواح میں شام دبے قدموں اتررہی تھی۔ علی ارقم کو اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اس کے ساتھی ہاشم خان ، ڈاکٹر گل مرجان اور سیف افغان رینجرز کی تحویل میں تھے۔ ان تین افراد کی حراست ایسی ہی تھی جیسے پوری بساط لپیٹ کے اماں جی کی صندوق میں رکھ دی جائے۔ جو چالیں باہر رہ گئی تھیں انہیں ہرکارے سونگھتے پھررہے تھے۔

محسن داوڑ، علی وزیر اور ثنا اعجاز کراچی میں موجود تھے۔ وہ کسی سے ہاتھ ملالیں تو اس  کی شامت آجائے۔ کہیں کسی گھر میں قیام کرلیں تو میزبان گھیرے میں آجائے۔ حالات یہ ہوگئے کہ مہمانوں نے میزبانوں کی سہولت کے لیے ہوٹل  کا رخ کرلیا۔ علی ارقم نے موبائل دیکھ کر کہا، منظور کو لاہور سے ٹکٹ مل گیا ہے۔ میں نے موبائل میں جھانک کر کہا، مگر اس کی گاڑی لاہور ائیرپورٹ پر چیکنگ کے لیے روک دی گئی  ہے۔ خبر آئی کہ یہ چیکنگ دو گھنٹوں تک جاری رہی۔ گاڑی تب کلئیر ہوئی جب کراچی کا طیارہ اڑان بھرچکا تھا۔

فیصلہ ہوا کہ گاڑی روڈ پہ ڈال دی جائے، سیدھا کراچی کا رخ کیا جائے۔ مشکل یہ تھی کہ دو گاڑیاں سائے کی طرح  تعاقب میں تھیں۔  سلیمان خیل قبیلہ لاہور میں آباد ہے۔ یہ ان دو قبیلوں میں سے ایک ہے جنہیں اڑتالیس اور پینسٹھ کی جنگ میں جانفشانی دکھانے کے سبب باقاعدہ  اعترافی اسناد جاری کی گئی تھیں۔ دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر وہی قبائل اب اسناد کو دیکھ کر پشیمان ہوتے ہیں۔

اسلام آباد دھرنے میں آفتاب شیرپاو صاحب نے بھی  خطاب کیا۔ کہا،پختونوں نے پہلے بھی اس ملک کے لیے قربانیاں دی تھیں  آئندہ بھی  دیں گے۔ دوست گواہی دیں گے کہ سارے  سند یافتہ قبائلی بیک آواز کھڑے ہوگئے تھے، نعرے لگارہے تھے کہ ہم  نے پہلے بھی قربانی دے کر غلط کیا آئندہ بھی کوئی قربانی نہیں دیں گے۔  ایک بابا جی چلا کر بولے”اب کوئی ہمیں غیرت کے نام پر نہیں ورغلا سکتا، ہم بھی اب باقی شہریوں کی طرح بے غیرتی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں”۔

آفتاب شیرپاو اپنی گفتگو تب تک آگے نہ بڑھا سکے جب تک اپنے الفاظ واپس نہیں لے لیے۔ جونہی علم ہوا کہ منظور پشتین اس وقت سڑکوں پر بے یار ومددگار اور بے کس چلاجا رہا ہے تو سلیمان خیلیوں نے اسے روک لیا۔ بھاری تعداد میں گاڑیاں اس کے ساتھ لگائیں ، رضاکار ساتھ ملائے، ایندھن کی رقم فراہم کی اور قافلہ چل پڑا۔

رات گزر گئی اور صبح کافی خاموش تھی۔ انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دے دی تھی۔ کیونکہ انہیں جلسے کو کراچی سے باہر دھکیلنے میں کامیابی مل چکی تھی۔ سہراب گوٹھ میں الآصف اسکوائر کے پیچھے ایک خستہ سے میدان  میں اب جلسہ ہونا تھا۔ سہراب گوٹھ کے اطراف میں پہرے بٹھا دیے گئے تھے۔

منتظمین جیل میں ہیں اور منظور رستے میں۔ جلسہ تو سمجھیے کہ دیوار سے لگ چکا ہے۔ مگر یہ کیا؟ جلسہ ابھی شروع نہیں ہوا اور کراچی کی مقامی خواتین جلسہ گاہ میں موجود ہیں؟میرا مطلب ہے  جس مقام پر جلسہ ہے اس مقام کا اول تو ساکنانِ شہر کو علم نہیں ہے ، دوسرا والدین اپنے بچوں کو اس  بیابان کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیتے چہ جائیکہ وہ بچیوں کے ساتھ خود چلی آئی ہیں۔

اسٹیج کے سامنے کا حصہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں سے بھرچکا تھا۔ اس میں بلوچ بھی تھے پختون بھی۔ گڈ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ بھی تھے بیڈ مسنگ پرسنز کے بھی۔ انتظامات کا میں نے بغور جائزہ لیا ۔ مجھے نہیں معلوم مگر  بیس ہزار سے زیادہ کا خرچہ آیا ہو تو بڑی بات ہوگی۔ کل ملا کر آٹھ اسپیکر لگے تھے۔ مقررین کے لیے ڈائس نہیں تھا، لائٹیں چار تھیں۔

میں نے سوشل میڈیا پر جلسے کی تصاویر لگائیں تو پہلا سوال یہ آیا “جلسوں پر لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے”۔ ایک محب وطن سیاسی جماعت کے سرگرم کارکن نے پوچھا” منظور کے ذرائع آمدن  کیا ہیں جو یہ اتنے بڑے جلسے کررہا ہے”۔ یہ سوال سن کر طبعیت  سنور گئی۔   میرے اس دوست کا گمان  یقینایہ ہوگا کہ ان کی جماعت کے جلسے ان کے لیڈر کے جیب خرچ سے ہوتے ہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” پر کلک کریں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں