’غدار نواز شریف‘ سے ملک و قوم کو کیسے بچایا جائے


اس وقت ملک کے سیاست دان اور میڈیا یکساں طور سے اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ راز ہائے دروں خانہ کو بیان کرنے یا بیان کرنے کے اشارے دینے والے ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف سے ملک کو کیسے بچایا جائے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی معاملات پر خطرنات حد تک تقسیم پاکستانی رائے میں اس وقت حیرت انگیز حد تک مماثلت اور اتفاق پایا جارہا ہے۔ بیان جاری کرنے والوں کی زبان اور لکھنے والوں کا قلم اس بات کی سنگینی بیان کرنے سے قاصر لگتا ہے جو رائے عامہ کی نمائندگی کرنے والے یہ دونوں گروہ محسوس کررہے ہیں اور سخت سے سخت الفاظ میں اسے بیان کرنا چاہ رہے ہیں۔ اسی الجھن میں پاکستان تحریک انصاف نے تو نواز شریف کو آخری انجام تک پہنچانے کے لئے ایک بار پھر عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور درخواست دائر کی ہے کہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو قومی راز افشا کرنے کے جرم میں غدار قرار دیتے ہوئے ان پر ریاست سے بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملہ کو بنیادی قومی اہمیت کا مسئلہ سمجھتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لئے منظور بھی کرلیا ہے اور اس کی ابتدائی سماعت بھی ہو چکی ہے۔ دیگر لیڈر اور مبصر اس حد جانے سے تو گریز کررہے ہیں لیکن ملک کے اصل حکمرانوں کی جبیں پر شکن دیکھتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قومی بیانیہ کو مسترد کرنے والا شخص کس قدر مایوسی کا شکار ہو چکا ہے کہ اسے یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ اس حرکت سے ملک و قوم کو تو جو نقصان ہوگا وہ تو اپنی جگہ پر ہے لیکن چند روز پہلے نان اسٹیٹ ایکٹرز، ممبئی حملوں اور ان میں ملوث پاکستانی عناصر کو سزا دینے کے حوالے سے نواز شریف کے بیان نے مسلم لیگ (ن) بھی کو ’ سیاسی تباہی ‘ کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔

اس المیہ پر ماتم کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ نواز شریف دراصل معزولی اور نااہلی کے بعد سیاسی سپیس نہ ملنے کی وجہ سے بدحواس ہو چکے ہیں اور اسی مایوسی میں ایسی فضول اور ’غیر حقیقی‘ باتیں کررہے ہیں جن سے قومی مفاد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لئے انہیں اپنی زبان بند کرلینی چاہئے۔ بعض تبصروں میں بیچارے نواز شریف پر ترس کھاتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ ایسے مایوس شخص پر غداری کا الزام عائد کرنا یا اس کے الزام میں سزا دینا درست نہیں ہو گا ۔ بلکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نواز شریف کو مایوسی میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے روکنا چاہئے اور پارٹی کو ایسے خطرناک شخص کی تباہ کاری سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ۔ ان ’ہمدرد‘ مبصرین کی رائے میں اسی طرح مسلم (ن) کو مکمل تباہی اور نواز شریف کو بڑی مشکل سے بچایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر کے بارے میں تو کہنا مشکل ہے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور ملک میں سیاسی طوفان برپا کرنے پر تلے ہوئے نواز شریف کو کیسے زبان بندی پر مجبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن نواز شریف خود اس صورت حال سے لطف لے رہے ہیں۔ کبھی وہ سوال کرنے والے صحافیوں سے اس بیان کو پڑھ کر سنانے کا کہتے ہیں جو ڈان میں چھپا تھا اور جس پر مباحث کا طوفان اٹھ کھڑا ہؤا ہے اور پھر انتہائی معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ’ آخر میں نے غلط کیا کہا ہے‘۔ کبھی وہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی ) کے بیان کو تکلیف دہ اور افسوسناک قرار دے کر مسترد کررہے ہیں۔ نواز شریف کا بیان تو قومی سلامتی کمیٹی نے بھی مسترد کیا تھا لیکن اس انتہائی طاقتور قومی ادارے نے بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا نام لینے سے گریز کیا تھا۔ تاہم نواز شریف نے خود ایسی احتیاط برتنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس اعلیٰ قومی ادارے کی صدارت کرنے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی معروضات سنیں لیکن نہ صرف اپنے مؤقف پر ڈٹا رہنے کا اعلان کیا ہے بلکہ این ایس سی کا نام لے کر نان اسٹیٹ ایکٹرز اور ممبئی حملوں کے حوالے سے اس وضاحت کو مسترد کیاہے کہ اس حوالے سے بیان گمراہ کن اور غلط ہے اور بھارتی میڈیا اس پر بے بنیاد باتیں سامنے لارہا ہے۔ اب سابق وزیر اعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ 2014 میں ہونے والے دھرنے کے اصل کرداروں کو بھی سامنے لائیں گے اور بتائیں گے کہ نو منتخب حکومت کو مشکل میں ڈالنے کے لئے کس نے کیا کردار ادا کیاتھا۔

اسی پر اکتفا نہیں بلکہ نواز شریف تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور بہت سے رازوں کے امین ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اس بات کو مکمل کرتے ہوئے یہ تو نہیں کہا کہ سابق وزیر اعظم کے طور پر انہیں جو راز معلوم ہیں، وہ اپنی حکومت کے خاتمہ کا بدلا لینے اور احتساب عدالت میں دھکے کھانے کے کا حساب برابر کرنے کے لئے ان کی پنڈاری بیچ چوراہے کے پھوڑ دیں گے۔ لیکن عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے کے مصداق فوج نے نواز شریف کی نیت بھانپتے ہوئے ان کے 12 مئی کے بیان کے بعد ہی این ایس سی کا اجلاس طلب کرکے انہیں جھوٹا قرار دینے کا اہتمام کرلیا تھا اور اس کی صدارت بھی اسی وزیر اعظم سے کروائی گئی تھی جو خود کو نواز شریف کا وفادار قرار دیتے ہوئے بار بار کہہ چکے ہیں کہ ملک کے اصل وزیر اعظم تو نواز شریف ہی ہیں۔

نواز شریف کے تیور دیکھ کر یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ فوج کا ردعمل بھی آگیا، قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس بلا کر اس بیان کو گمرہ کن بھی قرار دیا گیا اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور نواز شریف کے حقیقی بھائی اور سیاسی شاگرد کی طرف سے اس بیان پر بھارتی میڈیا کی ہنگامہ آرائی کو دشمن کی سازش قرار دے کر معاملہ کو دبانے کی کوشش بھی کرلی گئی۔ لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ ’غدار نواز شریف ‘ سے ملک کے مفادات کو بچانے اور رازوں کی حفاظت کرنے کے لئے ایسا کون سا قدم اٹھایا جائے کہ ان کی زبان بندی بھی ہو جائے اور زیادہ جگ ہنسائی بھی نہ ہو۔ ان کوششوں پر نواز شریف کے رد عمل اور لطف لینے کے رویہ کے بعد تو صرف یہی پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر ایک اخباری انٹرویو میں ایک ایسے بیان پر جس میں اچنبھے کی کوئی بات بھی نہیں تھی، شدید رد عمل دکھانے کے بعد اب حکومت اور فوج کیا کرے گی۔ کیسے نواز شریف کی زبان بندی کی جائے گی۔ کیا عدالت عظمیٰ کا سو موٹو یا کسی عدالت سے نواز شریف کے خلاف غداری کا سرٹیفکیٹ لے کر سابق وزیراعظم کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔

گرمئی گفتار کے اس موسم میں البتہ یہ سوچنا بھی بے حد اہم ہو گا کہ کیا ماضی میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے کوئی مسئلہ حل ہو سکا ہے۔ اگر تھوڑے سے ٹھنڈے دل سے سوچ لیا جائے کہ 1947 میں ملنے والی آزادی کے بعد سے چار مارشل لاؤں سے گرزتے، ملک کا آدھا حصہ گنوا کر، ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر چڑھا کر، ہمسایہ ملک کی جنگ کو اپنی سرزمین میں دھکیل کر اور دوسرے ہمسایہ کو ازلی دشمن قرار دے کر اہل پاکستان نے آخر کون سی کامیابی حاصل کی ہے کہ اب پھر ایک سابق وزیر اعظم کو قومی نکو بنا کر قوم کے مفاد کا تحفظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ قومی مفاد کی تفہیم میں کہیں کوئی غلطی ہو رہی ہو یا جن امور کو راز سمجھا جارہا ہے، ان کے بارے میں خفیہ ملاقاتوں میں ملک کے سفارت کار، فوجی اور سیاسی لیڈر گردنیں جھکا کر غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، کچھ مزید مہلت دینے اور نئی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے ’منت سماجت‘ کرتے ہوں۔

جن امور کو ایسا قومی راز بتایا جارہا ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بولنے پر ایک نئے سابق وزیر اعظم پر آئین کی شق 6 کا پھندا تیار کرنے کا غلغلہ ہو، وہ راز دراصل ایک سراب ہیں جن کے ذریعے قومی مفاد کے خوش نما نعرے کی صورت میں ملک کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ورنہ، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے، کے مصداق سارا جہان تو اس حقائق سے آگاہ ہے جو پاکستان کے مسائل اور مشکلات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کی طرف سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بات کرتے ہوئے ممبئی حملوں کا ذکر کرنا، اس قوم کے وجود کے لئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس معاملہ میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے سرخیل حافظ سعید کی گرفتاری کے لئے امریکہ کی طرف سے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کرنے کے اعلان کو چھ برس بیت چکے ہیں تاہم کسی پاکستانی حکومت یاادارے نے نہ تو اس پر احتجاج کیا ہے اور نہ ہی امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس اعلان کو واپس لیا جائے کیونکہ اس سے ہمارے دشمن ملک بھارت کے مؤقف کی تائد ہوتی ہے۔ کیا ان’ سب ذمہ داروں‘ کے خلاف بھی نواز شریف کے ساتھ شق 6 کے تحت غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کرنا مناسب نہ ہو گا جو قوم کے اتنے بڑے ’مفاد‘ کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مناسب تو یہ ہو گا کہ نواز شریف کو غدار قرار دینے کی سعی لاحاصل کرنے کی بجائے قومی مفاد اور ملکی رازوں کی تشریح کرنے پر غور کیا جائے یا یہ کام مزید آسان کرنے کے لئے نواز شریف کی اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرلیا جائے کہ اس معاملہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے قومی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا قومی رازوں کے افشا ہونے کے فسانے پر پیٹ درد میں مبتلا عناصر حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ کرسکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 986 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali