شمالی کوریا کی دھمکی کے باوجود امریکہ اب بھی ملاقات کے لیے ’پر امید‘


کوریا

AFP

امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جون میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع ملاقات حالیہ واقعات کے باوجود منسوخ نہیں ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

چند گھنٹے قبل شمالی کوریا نے سخت الفاظ پر مبنی بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے شمالی کوریا سے ان کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیا تو وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

شمالی کوریا کی ٹرمپ سے ملاقات ختم کرنے کی دھمکی

’کم جونگ ان سے ملنا اعزاز کی بات ہوگی‘

کم جونگ ان سے بارہ جون کو ملاقات ہو گی: ٹرمپ کا اعلان

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ ‘اگر ملاقات کا سلسلہ ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔اور اگر ملاقات نہیں ہوتی تو ہم شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھیں گے۔’

جب صدر ٹرمپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ‘ہم دیکھیں گے۔’ لیکن انھوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکہ شمالی کوریا پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دے گا۔

شمالی کوریا کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟

شمالی کوریا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات سے کئی امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ امریکہ کی جاب سے دیے گیے حالیے غیر ذمےدارانہ بیانات سے ‘شدید مایوس’ ہوئے ہیں۔

شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم کائے گوان سے منسوب بیان میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا کہ ‘ہم جان بولٹن کے لیے اپنی سخت نفرت نہیں چھپاتے۔’

ان کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘اگر امریکہ ہمیں کونے میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ہم اپنا جوہری پروگرام ترک کر دیں، تو ہم ایسی ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔’

واضح رہے کہ چند روز قبل جان بولٹن نے کہا تھا کہ شمالی کوریا ‘لیبیا ماڈل’ پر عمل کرے گا جس کے تحت ملک نے جوہری پروگرام ترک کر دیا تھا لیکن کچھ سالوں بعد لیبیا سربراہ معمر قذافی کو مغرب نواز باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔

کوریا

Getty Images
شمالی کوریا کے بیان میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے

شمالی کوریا کی تنقید کے باوجود جان بولٹن نے کہا کہ دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات ہونے کے امکانات روشن ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا نے امریکہ کے ساتھ فوجی مشق میں حصہ لیا جن کے بارے میں شمالی کوریا نے کہا کہ یہ ‘اشتعال انگیز’ ہیں اور یہ چڑھائی کی تیاریاں ہیں۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ مشقیں صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان 1953 میں کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت ہوتی ہیں۔

تاہم شمالی کوریا نے اس کے بعد جنوبی کوریا کے حکام کے ساتھ بدھ کو ہونے والی ملاقات منسوخ کر دی۔ اس میٹنگ میں دونوں ممالک کے سربراہان کی 27 اپریل کی ملاقات کے بعد کا لائحہ عمل طے کیا جانا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ہونے والی تاریخی ملاقات میں شمالی کوریا کے کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے مون جائی ان نے اعلان کیا تھا کہ خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3791 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp