رمضان میں کیا کھائیں، کب سوئیں اور کیسے ورزش کریں؟


ورزش

رواں سال رمضان مئی اور جون کی گرمیوں میں پڑ رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں آج پہلا روزہ ہے، بہترین حالات میں بھی ورزش کرنا اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن ذرا سوچیں کہ روزے میں کچھ کھائے بغیر ایسا کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟

ماہ رمضان میں دنیا بھر کے مسلمان مسلسل 30 دن تک صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کریں گے۔

رواں سال رمضان کا آغاز کی گرمیوں کے آغاز میں ہو رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں 18 گھنٹوں کا روزہ ہو گا جبکہ انڈیا پاکستان میں روزے کا دورانیے 15 گھنٹے سے ذرا زیادہ ہوگا۔

 

سی بی بیز کے شو ‘گیٹ ول سُون’ اور آئی ٹی وی کے شو ‘دِس مارننگ’ کے ڈاکٹر رنج سنگھ تین اہم اصولوں پر عمل پیرا رہنے کی تجویز پیش کرتے ہیں کہ روزے کے اوقات کے علاوہ صحیح چيزیں کھائیں، ہلکی ورزش کریں اور نیند کے خوب مزے لیں۔

نیند کی کمی کا مجھ پر برا اثر پڑتا ہے

نیند

اچھی نیند صحت کے لیے مفید ہے

کینٹ کی یاسمین خالد جم جانے اور فٹنس کی کلاسز لینا پسند کرتی ہیں لیکن رمضان کے دنوں میں ان کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی لازمی وجہ غذا اور پانی کی کمی نہیں بلکہ نیند کی کمی ہے۔

چار بچوں کی والدہ یاسمین کا کہنا ہے کہ ‘نیند کی کمی مجھے لے ڈوبتی ہے۔‘

‘میں صبح چار بجے سحری کے لیے سامان تیار کرنے کے لیے جاگتی ہوں پھر نماز پڑھتی ہوں۔ پھر ایک آدھ گھنٹے آرام کرتی ہوں اور پھر بچوں کو سکول کے لیے تیار کرتی ہوں۔‘

 

‘اس کے بعد دن بھر کا کام ہوتا ہے، بچوں کو سکول سے لینا، گھریلو کام کھانا کاج اور اس کے بعد عام طور جم جاتی ہوں لیکن اس وقت تک میں بہت تھک چکی ہوتی ہوں۔ رمضان میں عام طور پر ہمیں تقریبا پانچ گھنٹے ہی سونا نصیب ہوتا ہے۔’

ڈاکٹر رنج کہتے ہیں کہ جس طرح کھانے پینے کو اوّلیت دی جاتی ہے اسی طرح نیند کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ‘اس بات کے شواہد ہیں کہ جو لوگ اچھی نیند لیتے ہیں وہ دن میں کم کھاتے پیتے ہیں، اس لیے روزے کے دوران اچھی نیند آپ کی کھانے کی خواہش کو کنٹرول کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔’

میرا مینیجر میرے لیے میدان میں مٹھائی پھینکتا ہے

امجد اقبال

BBC
امجد اقبال برطانیہ میں نیم پیشہ ورانہ فٹبال کھیلتے ہیں جبکہ وہ پاکستان کے لیے 10 میچ کھیل چکے ہیں

34 سالہ امجد اقبال لڑکپن سے اپنے گھریلو کلب بریڈ فورڈ سٹی کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد وہ نیم پیشہ ورانہ فٹبال کھیلنے کے لیے فارسلی سیلٹک اور بریڈفورڈ پارک اوینو کے ساتھ منسلک رہے۔

جب سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے اس وقت امجد اکثر اپنے میچ کے درمیان میں ہوتے ہیں اور وہ وقت ان کے افطار کا وقت ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ‘میرا مینیجر صرف میرے لیے گھڑی پر نظر رکھتا اور کھیل کے دوران ہی میدان میں میرے افطار کے لیے مٹھائی پھینک دیتا۔’

کشتی راں مو شیہی کی طرح بعض مسلم ایتھلیٹ رمضان میں ہونے والے مقابلے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے اور اس کے عوض میں وہ پیسے خیرات میں دیتے ہیں لیکن بعد میں وہ اس قضا کو ادا کر لیتے ہیں اور اسلام میں اس کی اجازت ہے۔

 

جبکہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان جسے لوگ عام طور پریکٹس کم کر دیتے ہیں۔

امجد رمضان میں روزہ رکھنے والے پیشہ ورانہ ایتھلیٹ ہیں، جنھیں اپنے کلب کی جانب سے ماہر غذائیات کی سہولت ہوتی ہے۔

‘ایک پیشہ ور کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ روزہ رکھ رہے ہیں اس لیے آپ کا مینیجر آپ سے کہتا ہے کہ ‘دیر سے آنا یا پھر اپنی ٹریننگ کے اوقات میں تبدیلی کر لینا۔‘

عامر خان

Getty Images
عامر خان کہتے ہیں کہ رمضان میں کمزوری محسوس ہوتی ہے اور آپ کو صبح چار بجے سحری کے لیے بیدار ہونا ہوتا ہےاور اس وقت آپ کے کھانے کی طبیعت نہیں ہوتی

‘لیکن میرے جیسے عام آدمی کو ساڑھے سات بجے صبح سے شام پانچ بجے تک کام پر ہونا ہوتا ہے اس کے بعد ٹریننگ کے لیے جانا ہوتا ہے جہاں نو بجے تک رہنا پڑتا ہے۔’

‘جو مزے کے لیے کھیلتا ہو وہ رمضان میں کیسے گزارا کرتا ہے۔ آپ کام پر جانا بند نہیں کر سکتے۔’

امجد ہر ہفتے روزہ رکھتے ہوئے اپنی ٹیم کے لیے میچ کھیلتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ ان پر اثر انداز ہوتا ہے اور مہینے کے آخر تک ان کا وزن پانچ کلو تک کم ہو جاتا ہے۔

 

امجد کہتے ہیں کہ کھیلنے کی خواہش کے باوجود وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی قوت کی سطح میں کب کمی آ رہی ہے اور اس وقت وہ متبادل کے لیے کہتے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے ٹیم کو نقصان نہ ہو۔

سبک روی، ہلکی جاگننگ اور ہلکی پھلکی ورزش

کھیل

ڈاکٹر رنج کہتے ہیں صبح کی ورزش بہتر ہے

اتنے گھنٹے کے روزے کے دوران جم جانا، سرگرم رہنا یا امجد کی طرح ٹیم کے لیے کھلینا آپ کی ورزش پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رنج کہتے ہیں: ‘اپنے آپ کو فٹ اور صحت مندر رکھیں لیکن بہت زیادہ ورزش نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ بیمار ہو سکتے ہیں۔’

ایسے میں آپ کس قسم کی ورزش کریں تاکہ آپ کے جسم پر بہت زیادہ دباؤ نہ پڑے؟

ایسے میں ڈاکٹر رنج تیز قدم کے ساتھ چلنے، نرم روی کے ساتھ دوڑنے اور ہلکی پھلکی ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ اس کے اوقات پر ان کا زیادہ زور ہے۔

وہ کہتے ہیں: ‘بہت سے لوگوں کو صبح سورج نکلنے سے قبل ورزش کرنا آسان لگتا ہے۔ اس طرح ان کے پاس رات بھر کی توانائی کے استعمال کا موقع ہوتا ہے۔

بہر حال وہ کہتے ہیں کہ اتنی صبح ورزش کرنا سبھی کے لیے مناسب نہیں ہو سکتا ہے۔

اب بہت سے جم دن رات کھلے رہتے ہیں اور اپنے مطابق وہاں جا کر ورزش کر سکتے ہیں یا پھر پانچ منٹ کی اس ورزش کو معمول بنا سکتے ہیں۔

گاڑی سے مغرب اور عشا کی نماز کے لیے مسجد جانے کے بجائے پیدل جانے اور لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کے استعمال سے آپ اپنے معمول میں تھوڑی ورزش کو شامل کر لیں گے۔

ذرا غور کیجیے

افطار

عام طور پر مسلمان مسجد میں یا گھروں میں ایک ساتھ افطار کرتے ہیں

آپ کو صرف رات میں چھ سات گھنٹے کھانے پینے کے لیے ملتے ہیں۔ اس لیے آپ اس بات پر غور کریں کہ آپ سحری میں کیا کھاتے ہیں اور شام کو کیا تاکہ آپ اس بات کی یقین دہانی کر سکیں کہ دن بھر آپ میں کافی توانائی رہے۔

زیادہ تر مسلم خاندان ایک ساتھ افطار کرتے ہیں اور روایتی ایشیائی اور مشرق وسطی کی غذائيں کھاتے ہیں جو عام طور پر تلی ہوئی اور زیادہ مرغن ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر رنج کہتے ہیں کہ بہت زیادہ شکر، تیل اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔

‘پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے کھانے کو متنوع اور متناسب رکھیں جس میں غذائیت کی تمام اہم چيزیں کاربو ہائیڈریٹ، پروٹین اور چکنائی کے ساتھ بہت زیادہ پھل اور سبزیاں شامل ہوں۔‘

‘دوسرے ایسی چیزیں کھائیں جو آہستہ آہستہ توانائی دیتی ہیں تاکہ آپ صبح سے شام تک کم بھوک محسوس کریں اور آپ دن بھر کام کر سکیں۔ ایسے میں آپ اوٹس یا جئی، سالم اناج اور زیادہ فائبر والی غذائیں کھا سکتے ہیں۔

افطار

عام طور پر مسلمان کھجور سے یا پانی سے افطار کرتے ہیں

‘تیسرے یہ کہ آپ بدن میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور خوب پانی پیئيں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کھانے کے اوقات میں آپ خوب سیر ہو جائیں تاکہ آپ ٹھیک رہیں۔ کیونکہ بدن میں پانی کی سطح ہی دن بھر آپ کو چست رکھے گی اور یہ بہت اہم ہے۔’

وقفے وقفے سے روزے کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ جس میں بعض افراد وزن کم کرنے کے لیے چند گھنٹے تک کھانے سے پرہیز کرتے ہیں کے بارے میں ڈاکٹر رنج کا کہنا ہے کہ روزہ آپ کی صحت کے لیے بہتر ہو سکتا ہے اور اس سے آپ وزن کم کر سکتے ہیں۔

ہر چیز اعتدال کے ساتھ

ڈاکٹر رنج کہتے ہیں کہ ‘رمضان کا مہینہ بہت سے چیلنجز لے کر آتا ہے اور ہم کیا کھاتے ہیں کیا پیتے ہیں اور کتنی ورزش کرتے ہیں ان تمام چیزوں کے مد نظر اعتدال اہم اصول ہے۔’

وہ اس مہینے کو مسلمانوں کی طرز زندگی میں مثبت تبدیلی کے موقعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ‘اگر آپ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس پر بھی غور کریں کہ آپ کیا کھاتے ہیں اور اپنی غذا، طرز زندگی میں مثبت تبدیلی لائیں۔ مثلا سگریٹ نوشی ترک کر دیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp