مرد کس عمر میں مردانہ کمزوری کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں؟


کبھی مردانہ کمزوری بڑی عمر کے مردوں کا مسئلہ ہوا کرتا تھا لیکن برطانیہ میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ آج کل جوان لوگ سب سے زیادہ اس مسئلے میں مبتلاءہیں۔ دی مرر کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عمر کی تیسری دہائی، یعنی تیس اور چالیس سال کی درمیانی عمر، میں مردوں کو سب سے زیادہ مردانہ کمزوری کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

حالیہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس عمر کے تقریباً نصف افراد مردانہ کمزوری کے شکار ہیں۔ ان میں سے تقریباً 49 فیصد ذہنی دباﺅ اور تقریباً 24 فیصد شراب نوشی کی وجہ سے مردانہ کمزوری کا سامنا کررہے ہیں۔ متاثرہ فراد میں سے تقریباً ایک تہائی مردانہ کمزوری کی وجہ سے طلاق سے بھی دوچار ہوچکی ہے۔

مجموعی طور پر 18 سے 60 سال عمر کے افراد میں سے 43 فیصد مردانہ کمزوری کے شکار ہیں۔ ان میں سے تقریباً 40 فیصد ذہنی دباﺅ کے باعث ، 36 فیصد کام کے دباﺅ اور تھکاوٹ کی وجہ سے اور 36 فیصد شراب نوشی او ردیگر منشیات کی وجہ سے مردانہ کمزوری کے شکار ہوئے ہیں۔

یہ تحقیق کوپ فارمیسی کے تحت کی گئی اور اس میں دو ہزار سے زائد مردوں کی جنسی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ مردانہ کمزوری کی بیماری سب سے زیادہ 30 سے 40 سال عمر کے افراد میں پائی گئی جبکہ اس کے بعد 40 سے 50 سال عمر کے افراد میں سے تقریباً 42 فیصد اس کے شکار تھے جبکہ 40 سے 50 سال عمر کے 41 فیصد میں مردانہ کمزوری پائی گئی۔ 30 سال سے کم عمر افراد میں سے 35 فیصد مردانہ کمزوری کے شکار ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ مردوں کی اتنی بڑی تعداد مردانہ کمزوری کی شکار ہے جبکہ یہ بات مزید پریشانی کا سبب ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد اپنی بیماری کا کسی سے ذکر نہیں کرتی۔ مناسب اور بروقت علاج نہ ہونے سے صورتحال بگڑتی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ عموماً طلاق کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کوپ فارمیسی کی جانب سے سوشل میڈیا پر What do you call itکے نام سے ایک مہم شروع کردی گئی ہے تاکہ مردانہ کمزوری سے متاثرہ افراد میں آگاہی پیدا کی جاسکے اور انہیں علاج کی جانب مائل کیا جاسکے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں