کس عمر میں شادی کی جائے تو طلاق کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے؟


آج کل یہ رواج عام ہوتا چلا جا رہا ہے کہ شادی 30 سال کی عمر کے بعد ہی کی جاتی ہے اور اکثر تو شادی کرتے کرتے 35 یا اس سے بھی بڑی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ معاشرتی رواج اور زمانے کے حالات اپنی جگہ لیکن اس موضوع پر تحقیق کرنے والے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ جو لوگ عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں شادی کرتے ہیں ان کی طلاق کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق یونیورسٹی آف یوتاہ کے پروفیسر آف سوشیالوجی نکولس وولف فنگر کا کہنا ہے کہ شادی کے وقت عمر اور بعدازاں طلاق کے امکان کے درمیان گہرا تعلق پا یا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے دوران نیشنل سروے آف فیملی گروتھ کی جانب سے 2006ء سے 2010ء کے دوران اکٹھے کئے گئے ڈیٹاکا جائزہ لیااوراس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دوسری دہائی کے آخر اور تیسری دہائی کے آغاز میں شادی کرنے والوں میں طلاق کا امکان کم ہوتا ہے لیکن عمر کی تیسری دہائی کے وسط یا آخر میں، یعنی 35 سال کے قریب پہنچ کر یا اس کے بعد شادی کرنے والوں میں طلاق کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 28 سے 32 سال کی عمر میں شادی کرنے والوں کے درمیان طلاق کا رجحان بہت کم ہوتا ہے۔ پروفیسر نکولیس نے بتایا کہ عمر کی تیسری دہائی کے وسط یا اس کے بعد شادی کرنے والے مرد و خواتین خود کو یکجان نہیں کرپاتے بلکہ زیادہ تر انفرادی حیثیت میں سوچتے ہیں۔ ان کی توجہ دونوں کی فلاح و بہبود کی بجائے اپنی انفرادی فلاح و بہبود پر زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث مضبوط و قریبی تعلق قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ 30 سے 32 سال کی عمر تک شادی کر لی جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں