سیاسی مخلوق کا بےہنگم رقص!


rana imtiazپاکستان کے سیاسی جنگل میں طرح طرح کی مخلوق کا ایک بےہنگم رقص اس وقت بام عروج پر ہے ہر کوئی اپنی حرکات سے زیادہ سے زیادہ تماشبین اکھٹے کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، اپنے سیاسی قائدین کو جانوروں سے تشبیہ دینا یقیناً ایک بد اخلاقی ہے اس کے لیے پیشگی معذرت لیکن ہم اس طرفہ تماشے کو اور کیا کہہ سکتے ہیں، پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کا نام آنے سے جو طوفان بدتمیزی برپا ہے سواے ایک گھٹیا سیاسی ڈرامے کے اور کچھ نہیں.

ہم یہ نہیں کہتے کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کا احتساب نہ کریں ضرور کریں قانون کو حرکت میں لائیں جو ان کا ہر طرح سے محاسبہ کرے اور لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لائیں اور اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو سخت سے سخت سزا دی جاے تاکہ آئندہ کوئی ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے، لیکن ایک قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں یہ مسئلہ گلیوں اور بازاروں میں حل نہیں ہوگا اور اس پر سیاسی دوکانداری بھی نہ چمکائی جاے، ایک ہمارے بوڑھے نوجوان لیڈر بوڑھے اس لیے کہ وہ جوانی کی حددود سے آگے نکل گئے ہیں اور نوجوان اس لیے کہ موصوف کو اپنے نوجوان ہونے پر اصرار ہے ان کی سیاسی پختگی کا یہ عالم ہے کہ بات بات پر وزیراعظم کا استعفیٰ مانگنا ان کی عادت بن چکی ہے وہ سیاست کو بھی کرکٹ کے میچ کی طرح ہی کھیل رہے ہیں اور بار بار اپنی سابقہ غلطیوں کو دہرا رہے ہیں، آج انہوں نے ایک اور احمقانہ بیان دیا ہے کہ نواز شریف کی حکومت فوج کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کر رہی ہے کیونکہ ہندوستانی وزیراعظم سے نواز شریف کے ذاتی تعلقات ہیں اسی لیے ہندوستانی جاسوس کی گرفتاری پر حکومت خاموش ہے، پاکستانی سیاست کے ایک ادنی طالبعلم کی حیثیت سے کچھ عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ اس قدر بیہودہ بیان کوئی قومی سطح کا ذمہ دار سیاسی رہنما کبھی نہیں دے سکتا. آپ ہندوستان کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ فوج اور سول حکومت کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے دونوں کی سوچ ہندوستان کے بارے میں مختلف ہے دوسرے الفاظ میں آپ ایک منتخب وزیراعظم کو غدّار کہ رہے ہیں.

نواز شریف پر آپ بیشک مالی بدعنوانی کے الزامات لگائیں لیکن ایسی گھٹیا سیاست اس ملک کے مفاد میں نہیں ہے آپ نے پہلے ہی اپنی بچگانہ سیاست سے سول حکومت کی بالادستی کو ختم کردیا ہے ایسی سیاست اداروں کو مزید کمزور کردے گی اور یہ فوج اور سول قیادت کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے اس کی مذمت کرنی چاہیے، فوج کو بھی ایک قومی ادارے کی حیثیت سے عمران خان کے اس بیان کی مذمت کرنی چاہیے اور ان طفلان سیاست کو خبردار کرنا چاہیے کہ وہ فوج کے خود ساختہ ترجمان نہ بنیں. خود عمران خان نے متعدد بار ہندوستان جا کر اور پاکستان کے اندر بھی ہندوستان سے اچھے روابط کی بات کی ہے کہ دونوں ممالک کو ماضی کو بھول کر اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے ہندوستان سے برادرانہ تعلقات کی بات کرنا غدّاری نہیں ہے، ماضی میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی سیکورٹی رسک کہا گیا تھا وہ کہنے والے بھی غلط تھے جو آج یہ ڈفلی بجا رہے ہیں یہ بھی غلط ہیں خدارا اپنی سیاست میں کوئی ایک آدھ پہلو مثبت بھی رکھ لیں.

آج آرمی چیف نے افواج پاکستان کے کچھ افسران کو مالی بدعنوانی کے الزامات میں برطرف کیا ہے جو کہ بلا شبہ ایک اچھی روایت کی ابتدا ہے ہمیں اسکی ستایش تو کرنی چاہیے لیکن جس طرح محمود و ایاز اسکی تعریف و توصیف میں یک زبان ہوکر راگ الاپ رہے ہیں کسی تھیٹر کے اداکاروں کی مانند بہت بونے اور کوتاہ قد لگے یہ سارے سیاسی طوطے، ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے چابی دے دی ہو یا ریموٹ پر کسی کا ہاتھ ہے ان سب طوطوں میں ایک بات جو سب سے اچھی لگی وہ یہ کہ سب اپنے اصلی آقا کی تعریف میں یک زبان تھے، ان میں وہ سب تھے جو بدعنوانی اور خیانت میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں یہ خوشامدی چمچے بس انتظار میں ہیں کہ راحیل شریف جلدی اقتدار پر قبضہ کرو تاکہ ان سیاسی یتیموں کو ایک بار پھر ملک لوٹنے کا موقع ملے.

ایک بات جو ہم سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ فوج جس طرح اب ملک دشمن قوتوں سے برسرپیکار ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اگر اسی راستے پر چلتے رہے تو دہشت گردی کا بہت جلد صفایا ہوجائے گا اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا اور اگر خودانخوستہ فوج نے زمام اقتدار خود سنبھالنے کی کوشش کی جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے تو خاکم بدہن ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بہتر یہی ہے کہ تاریخ کو نہ دہرایا جائے یقیناً افواج پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں اپنے ہی پیشروؤں کی غلطیوں کو اپنے خون سے درست کرنے کی کوشش کی ہے پوری قوم کو آپ پر فخر ہے اس میں کوئی دو آرا نہیں ہوسکتی لیکن آج پھر کچھ سیاسی یتیم آپ کو اکسا کر سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کی کوشش کررہے ہیں خدارا ان کو پہچانے یہ بھی پاکستان کے دشمن ہیں. سیاسی عمل کو چلنے دیں اور احتساب کے ادارے کو مضبوط بنائیں جو سب کا احتساب کرے اور اس ملک میں کوئی مقدس گائے نہ ہو.

 


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan