غدار نامہ


یہ غداری کا الزام بھی پیارے پاکستان میں گویا میوزیکل چیئر کا کھیل بنا ہوا ہے یا پھر وہ ہما پرندہ جس کے کاندھے پر جا کر بیٹھے۔ جو بولے سو نہال۔ جو کچھ کہے وہ غدار۔ قحط الرجال ملک میں ”غداروں‘‘ کاکوئی قحط نہیں۔ جس طرح کہاوت ہے کہ ایک قوم کا غدار دوسری قوم کا ہیرو ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک میں ایک دور کا غدار دوسرے دور کا محب وطن، یا ایک دور کا سب سے بڑا محب وطن دوسرے دور کا غدار کہلائے جاتا رہا ہے۔ جہاں آزادی کی جنگیں ”غدر‘‘ کہلاتی ہیں وہاں ہیرو غدار اور غدار راتوں رات محب وطن ہو جاتے ہیں۔ یہ کالونیل دور سے چلتا آ رہا ہے۔ اسی لیے تو ہر چند سالوں بعد کوئی کتاب لکھ دیتا ہے ”غدار کون‘‘ جیسے ”قاتل کون‘‘ ”ڈکٹیٹر کون‘‘۔ اگر مجھ سے پوچھو ”غدارکون‘‘ تو میں کہوں ”شاید کوئی بھی نہیں‘‘۔ سب ٹیم ٹیم کا گیم ہے۔ آج کل یہ قرعہ فال تین بار سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے نام نکلا ہوا ہے۔ بقول فراز:
میں مقتل میں بھی مقدر کا سکندر نکلا
قرعہ فال میرے نام کا اکثر نکلا

بس قرعہ فال جس کے نام پر نکالا جائے۔ اس دن میرا دوست مجھے کہہ رہا تھا کہ کچھ عرصہ تک اس کاخیال تھا کہ پنجاب میں کوئی کسی کو نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی پنجابی لیڈر کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے پورے کا پورا تھیٹر پنجاب منتقل ہو گیا ہے۔ شاید آخری معرکہ اب پنجاب میں ہو۔ آخری دنگل۔ بلھے شاہ نے بھی کئی برسوں پہلے کہا تھا:
در کھلا حشر عذاب دا
برا حال ہویا پنجاب دا
لیکن ایسا بھی نہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں جتنا بڑا اونٹ اس کے اتنے بڑے جھولے۔ اب یہ اونٹ کروٹ کروٹ اٹھ بیٹھا ہے۔ لگتا یوں ہے۔

ہمیں تو ”مطالعہ پاکستان‘‘ میں بتایا گیا تھا کہ بنگال میں سراج الدولہ کے ساتھ غداری کرنےوالے میر صادق اور کسی سے دغا کرنے والے میر قاسم تھے۔ لیکن تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سابق صدر اسکندر مرزا اسی میر جعفر کی اولاد تھی۔ اولاد اور والدین پر نہیں ہوتا۔ لیکن جو کچھ کھلواڑ اس ملک کے ساتھ اسکندر مرزا نے کیا وہ بھی تاریخ ہے۔ تاریخ یہ بھی بتلاتی ہے کہ برصغیر میں جو بھی بڑے بڑے جاگیردار سردار گدی نشین تھے ان کے بڑوں نے محب الوطن لوگوں کے خلاف انگریزوں کے پاس چغل خوریاں کر کے جاگیریں خلعتیں حاصل کی تھیں اور ان کی چھٹی ساتویں نسلیں یہ کام آج تک بخوبی اور برخورداری سے کرتی آر ہی ہیں۔ پھر وہ سندھ ہو کہ پنجاب پختونخوا کہ بلوچستان۔

لیکن چونکہ میرا تعلق سندھ سے ہے وہاں ”غداروں‘‘ کی اصلی نسلی فیکٹریاں بہت پرانی ہیں۔ جب ون یونٹ بنا تو کسی حکمران نے نہیں بلکہ سندھ کے اکثریتی عوام نے ون یونٹ بنانے میں بڑا کردار ادا کرنے والوں کو ”غدار‘‘ قرار دیا ان میں اس وقت کے دبنگ وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو اور اس کے دست راست پیر علی محمد راشدی کی جوڑی کو غدار کہا۔ کمال ہے ایک بھائی سندھ کی تاریخ اور ادب کا بے پایاں اور انتہائی معزز عالم اور تاریخ دان پیر حسام الدین راشدی اور دوسرا غدار۔ پھر یہ اور بات ہے کہ کھوڑو صاحب کا تاریخ میں بہت ہی مثبت کردار بھی ان کے ون یونٹ کے منفی کردارکے سبب ہیولے میں تبدیل ہو گیا۔

لیکن ریاست پاکستان نے جس رہنما کو سب سے بڑا ”غدار‘‘ بناکر پیش کیا وہ سندھ وطن کا عظیم محب وطن اور بہت وقت تک تحریک پاکستان کا رہنما جی ایم سید تھا۔ اس ریاست نے اس کیآخری گھڑیوں تک اسے غدار اور باغی بناکر قید رکھا۔ لیکن تاریخ اسے کب کی باعزت بری کر چکی ہے۔ جی۔ ایم سید پر غداری اور بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا لیکن اسے ایک دن بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ گھر پر نظربندی میں بھی جب ان کی سماعت کی تاریخ ہوتی وہ تیار ہو کر عدالت لےجانے کا انتظار کرتے لیکن پولیس نہ آتی اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جاتا۔

جی ایم سید تو اپنا دفاع بھی نہیں کرنا چاہتے تھے وہ عدالت میں اپنے اس جرم کا برملا اعتراف کرنا چاہتے تھے جس کی سزا موت یا عمر قید تھی۔ اس قیدی کی صحت پر کیا فرق پڑنے والا تھا، جس نے اپنی نوے سالہ زندگی کے اٹھائیس سال جیل یا نظربندی میں گزار دیے ہوں۔ جج انہیں نجی طور پیغامات بھیجتے رہے تھے کہ وہ عدالت میں پیش نہ ہوں۔ پیش ہونے پر وہ اقبال جرم کرلیں گے اور لامحالہ انہیں سزا سنانی پڑے گی جس کے لئے وہ تاریخ کے مجرم نہیں بننا چاہتے۔ یعنی کہ ان دنوں کے منصفوں کو بھی تاریخ کا مجرم بننے کا ڈر تھا۔ نواز شریف کی ٖ”غداری‘‘ کا ایک اور قصہ بھی بتاتا چلوں کہ ان کے پہلے دور حکومت میں وہ جی ایم سید کی لائبریری پر وفاقی محکمہ اطلاعات و نشریات کی طرف سے دستاویزی فلم بنوانا چاہتے تھے لیکن پھر مسلم لیگ کے شہبازوں کی طرف سے تحفظات پر وہ منصوبہ بھی داخل دفتر کردیا گیا۔

ان کی دوسری حکومت کے دنوں میں بینظیر بھٹو نواز شریف کو کبھی پاکستان کا گورباچوف کہتی تھیں تو کبھی انہیں جی ایم سید۔ اس حوالے سے ایک دفعہ ایک پریس کانفرنس میں بینظیر بھٹو سے میں نے پوچھا تھا کہ اس سے وہ نواز شریف کا قد بڑھا رہی ہیں یا گھٹا رہی ہیں؟ نیز اب بھی وہ بھائی صاحبان جو نواز شریف کو ”غدار‘‘ کہلوا رہے ہیں وہ اس سے ان کا قد بڑھا رہے ہیں کہ گھٹا رہے ہیں۔ وہ خطاب اور ایسی خلعتیں جو اس سے پہلے بادشاہ خان، جی۔ ایم سید، عبدالصمد خان اچکزئی، خیر بخش مری، خان عبدالولی خان، کو عطا کی جاتی رہی تھیں۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور اب خیر سے ”غداری‘‘ کے فتوؤں میں پنجاب بھی خودکفیل ہوگیا۔

جیسے حبیب جالب نے کہا تھا:
ہر محب وطن ذلیل ہوا
فاصلہ رات کا طویل ہوا
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں