نیکیوں کا مہینہ اور ہم شیطان


اس ماہِ مبارک کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ہم سب نیکی اور تقویٰ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی غلاظت اور بدبو دار روح کو ڈھانپنے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہیں۔ تہہ شدہ جائے نمازیں الماریوں سے نکال کر لائونج میں بچھا دی جاتی ہیں۔ مہینوں سے طاق پر رکھا ہوا قرآن اتار کر اس کی مٹی جھاڑی جاتی ہے اور ہمیشہ کی طرح اسے ایک ایسی زبان میں پڑھا جاتا ہے جو نہ سمجھ آتی ہے اور نہ ہی دل پر کوئی اثر کرتی ہے۔ مہینے کے اختتام پر قرآن کو پورے احترام کے ساتھ واپس اسی طاق پر رکھ دیا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے فریج کی بھی کافی خشوع و خضوع کے ساتھ صفائی کی جاتی ہے اور پھر اسے طرح طرح کی نعمتوں سے بھرا جاتا ہے۔ روزے کے دوران اس فریج کا دیدار آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے اور افطاری کے دوران پیٹ پوجا کے کام آتا ہے۔
اسی مہینے میں ہم اپنی زکوٰۃ، عطیات اور صدقات بھی نکالتے ہیں۔ جن لوگوں کو سال بھر ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے ہم بس ایک ماہ انہیں افطاری کا سامان مہیا کر کے اپنے انسان اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور باقی سال ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست نے سال بھر کے لیے جِم کی مبرشپ لے لی۔ اب وہ ٹھہرا دیسی بندہ، مہینے میں ایک دن جِم جاتا، دو دو منٹ ہر مشین پر گزار کر تین گھنٹے بعد ہانپتا کانپتا واپس آتا اور سب دوستوں کو فخریہ بتاتا کہ آج پورے مہینے کا جِم کر آیا ہوں۔ ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہو گیا ہے۔ پورے سال کی نیکیاں ایک ہی مہینے میں کر لیتے ہیں اور بقیہ مہینے اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔
انکل اور آنٹیاں اس مہینے کی برکت سے کیسے دور رہ سکتے ہیں۔ رمضان شروع ہوتے ہی وہ گھر کے ہر بچے کو روک روک کر پوچھتے ہیں کہ روزہ رکھا ہے؟ اچھا بتائو کہاں رکھا ہے؟ شائد بروزِ قیامت انہیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جائے۔
جن کے بچے بیاہے ہیں ان کا آدھا مہینہ تو اپنے بچوں کی سسرال میں ایک اچھی عیدی بھیجنے کی تیاری میں خرچ ہو جاتا ہے۔ بقیہ آدھا مہینہ افطار پارٹی اور متوقع عید کے ڈنر کی تیاریوں پر صرف ہو جاتا ہے۔
اس مہینے کا مقصد صرف دن بھر بھوکا پیاسا رہنا اور شام میں نت نئے پکوان پر ہاتھ صاف کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اس سب سے کہیں افضل ہے۔ اس مہینے میں نہ صرف ہمیں اپنے جسم کی صفائی کرنی ہوتی ہے بلکہ اپنی روح کی پاکیزگی کا بھی سامان کرنا ہوتا ہے۔ اس مہینے ہمیں ان سب کا تکالیف کا احساس کرنا چاہئیے جو سال کے بیشتر دن مجبوراً روزے رکھتے ہیں۔ ان کو ضروریاتِ زندگی صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ پورے سال چاہئیے ہوتی ہیں۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ حکومت ایسے پروگرامز متعارف کروائے جہاں انہیں ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ اپنے لیے ایک اچھی اور پرسکون زندگی خود کما سکیں۔ مخیر حضرات بھی اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے لیول پر ایسا کوئی منصوبہ شروع کر سکتے ہیں۔
اختتامی نوٹ: آپ کی زکوٰۃ، عطیات اور صدقات کے سب سے بڑے حقدار اس ملک کے سیاستدان ہیں۔ اس سال کی اپنی زکوٰۃ نکالتے ہوئے انہیں مت بھولیے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں