جنرل (ر) شاہد عزیز داڑھی رکھ کے شام لڑنے گیا ہے: پرویز مشرف


سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جنرل (ر) شاہد عزیز ایک غیر متوازن شخص ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ بطورِ میجر اور کرنل کیا کچھ کرتے رہے، وہ میرے رشتہ دار ہیں۔ ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آج کل کہاں ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ داڑھی رکھ کر شام چلے گئے اور وہاں لڑتے ہوئے مرگئے، یہ ہیں جنرل شاہد عزیز ۔

کارگل ایشو سے متعلق نجی ٹی وی اینکر کے سوال پر پرویز مشرف نے کہا کہ شاہد عزیز کی کتاب کو بطورِ حوالہ پیش نہ کریں، وہ ایک غیر متوازن شخص ہیں۔ شاہد عزیز نہیں جانتے کہ آرمی ہمیں رازداری سکھاتی ہے۔ ایسے آپریشز کے لیے ساری دنیا میں ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا،پروگرام میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے کوئی کارگل جیسا آپریشن کرنا ہے تو کیا ڈھنڈورا پیٹ کر کرنا ہے ؟ تاکہ بھارت بھی وہاں آجائے اور ہم آپریشن کر ہی نہ سکیں۔

صرف انہی کو بتایا جاتا ہے جن کو بتانا ضروری ہوتا ہے ورنہ اور کسی کو نہیں بتایا جاتا۔ سول انتظامیہ کے علم میں بھی لانا ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو آن بورڈ لیا گیا اور وہ سارے معاملے سے باخبر تھے۔ یہ نادرن ایریا کی ڈویژن کا کام تھا، دنیا کو بتانا ضروری نہیں تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف کے جنرل (ر) شاہد عزیز کے بارے میں خیالات ذیل کے لنک پر دیکھ جا سکتے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں