دینی مدارس کے طلبہ اور جدید فضلاء سے چند گزارشات


سب سے پہلے تو یہ کہ آپ خود کو تیس مارخان سمجھنا چھوڑدیں۔ زمانہ طالب علمی میں ہم بھی اس خبط اور غلط فہمی کا شکار تھے کہ ہم جوں ہی تکمیل کی سند لیں گے۔ مدارس ہم پر ٹوٹ پڑیں گے بلکہ ہمیں تو آدھی رات تک اس پریشانی سے نیند نہیں آتی تھی کہ جب ہمیں لے جانے کے لیے کئی مہتممین کا جھگڑا ہوگا تو ہم انہیں کیسے چھڑائیں گے۔ لیکن پچھلے ایک ماہ سے مختلف مدارس اور مہتممین کی جھڑکیاں سن اور دھکے کھا کر ہم اس خواب سے بیدار ہوئے کہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ یہاں نہ آپ کی قابلیت کو کوئی دیکھتا ہے نہ آپ کی صلاحیت کا کوئی قدر دان ہے۔

مجھ جیسا وفاق کا پوزیشن ہولڈر، دارالعلوم کا فاضل و متخصص۔ خطابت و صحافت کے فن سے واقف۔ موٹیویشن میڈیٹیشن، کمیونیکیشن انگلش اور نہ جانے کون کون سی ڈگریاں لے کر جب مدارس میں رُل رہا ہے تو آپ کس باغ کی گاجر ہیں۔ سوری۔

اس لیے اس خواب غفلت سے جتنا جلدی جاگ جائیں اتنا اچھا ہے ورنہ کل جب کوئی مہتمم آپ کی ساری صلاحیتیوں کو آپ کے منہ پر مارے گا اس وقت جاگتے ہوئے بڑی تکلیف ہوگی۔ ہاں اگر آپ صاحبزادے ہیں یا آپ کسی مخیر کے بیٹے ہیں پھر تو آپ کو وفاق میں ممتاز آنے کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ کی تدریس اور آپ کا عہدہ آپ کی پیدائش کے ساتھ ہی قرآن وحدیث سے ثابت ہوچکا ہے
لیکن اگر آپ مجھ جیسے عام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو اللہ اللہ خیر صلا۔

دوسری کھچ یہاں پر یہ ہے کہ زمانہ طالب علمی میں جس دنیاوی تعلیم کو ناسور کہہ کر آپ کو روکیں گے مدرس کے انتخاب کے وقت آپ سے سب سے پہلا سوال یہی ہوگا سکول کتنا پڑھا ہے
(اس منافقت کی ہمیں آج تک سمجھ نہیں حالانکہ خود مہتممین کے بچے شہر کے مہنگے سکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں)۔ اس لیے عصری تعلیم ضرور حاصل کریں چاہے چھپا کر ہی کیوں نہ ہو اس لیے نہیں کہ مدرسے میں تدریس مل جائے بلکہ اس لیے مدرسے کا محتاج نہ ہونا پڑے۔

تیسری بات یہ کہ مدرسے سے ہٹ کر کچھ اور کام کرنے کا بھی سوچیں اور کریں۔ اگر صلاحیت اور سرمایہ ہے تو کاروبار کریں۔ کوئی دوکان ڈالیں۔ نہیں تو کوئی اور ہنر سیکھیں موبائل کی ریپئرنگ، درزی کا کام، سیلنگ۔ مارکیٹنگ ایسے بہت سارے کامکیے اور سیکھے جاسکتے ہیں۔ مدرسے میں رہنا اور مدرسے میں پڑھانا ضروری نہیں مدرسے کے علاوہ بھی بہت سارے کام کرنا جائز ہیں۔

مہتممین کو مدرسین کی منت وزاری نے فرعون بنایا ہے ۔ جس دن مدرسین نے استغناء دکھایا اس دن مہتممین ترلے دے کے بلائیں گے ۔ جب آپ کے پاس عصری تعلیم ہوگی یا کوئی ہنر ہوگا اور مدرسے سے ہٹ کر کام کرنے کا نظریہ بھی ہوگا تو نہ آپ مدرسے کے محتاج ہوں گے نہ آپ کسی مہتمم کی غلامی قبول کریں گے نہ زندگی میں کوئی پریشانی ہوگی نہ بیوی بچے بلکتے رہیں گے۔ نماز روزہ زکوۃ کی ادائگی کرتے کرتے آرام سکون سے جنت میں چلے جائیں گے۔ جنت کا ٹکٹ مدارس سے نہیں ملتا نہ ہی یہاں سے ٹھپہ لگانا ضروری ہے۔

آخر میں مدرسے میں تدریس ملنے کی شرائط کا ذکر بھی کردوں
1۔ صاحبزادگی۔
(2)کسی مخیر کا رشتہ دار یا سفارشی ہونا۔
3۔ گاڑی پیسہ والا ہونا۔
4۔ تعلقات کا وسیع ہونا خصوصا مہتممین کے چیلوں سے دعا سلام کا ہونا۔

اگر یہ صلاحتیں آپ کے پاس ہیں تو چاہے آپ کو عبارت پڑھنی بھی نہ آتی ہو آپ کو جامعہ کا شیخ الحدیث بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اگر میری طرح آپ ان سب سے عاری ہیں تو آپ کو مدرسے میں کوئی گھسنے بھی نہیں دے گا۔

ایک اور بات بخدا مدارس والے فضلاء بہت تیار کررہے ہیں اور جگہ اتنی نہیں اس لیے ہاتھ جوڑ کے کہتا ہوں کم لوگوں کو عالم بناؤ لیکن واقعی عالم بناؤ خانہ پریاں چھوڑدو۔
نوٹ۔ میں نے اکثریت کی بات کی ہے سب کی نہیں اس لیے کمنٹ میں استثناءات بیان نہ کریں۔
اور آخری بات کہیں کوئی جاب ہو تو بتائیے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں