انڈیا کے وزیر شمالی کوریا میں کس مشن پر تھے؟

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی


انڈیا کے جونیئر وزیر خارجہ جنرل ریٹائرڈ وی کے سنگھ

AFP
جنرل وی کے سنگھ کے دورے کے بارے میں بدھ کو اس وقت پتہ چلا جب شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی نے ان کے دورے کی تصویر اور اس بارے میں ایک چھوٹی سی خبر شا‏‏ئع کی

انڈیا کے جونیئر وزیر خارجہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ منگل اور بدھ کو خاموشی کے ساتھ شمالی کوریا کے دورے پر تھے۔

جنرل ریٹائرڈ وی کے سنگھ گزشتہ 20 برسوں میں شمالی کوریا کا دورہ کرنے والے پہلے انڈین وزیر ہیں۔

کوریائی خطے میں امن کی کوششوں کے درمیان جنرل وی کے سنگھ کے پیانگ یانگ کے اس اچانک دورے سے بعض حلقوں میں یہ تجسس پیدا ہوا ہے کہ کیا وہ کسی مشن پر تھے؟

جنرل وی کے سنگھ کے دورے کے بارے میں بدھ کو اس وقت پتہ چلا جب شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی نے ان کے دورے کی تصویر اور اس بارے میں ایک چھوٹی سی خبر شا‏‏ئع کی۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ اب بھی شمالی کوریا ملاقات کے لیے پرامید‘

شمالی کوریا کی ٹرمپ سے ملاقات ختم کرنے کی دھمکی

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو ایک بیان میں بتایا گیا کہ جونیئر وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ شمالی کوریا کی دعوت پر 15 اور 16 مئی کو پیانگ یانگ کے دورے پر تھے۔

بیان کے مطابق جنرل وی کے سنگھ نے پیانگ یانگ میں وزیر خارجہ سمیت کئی اہم رہنماؤں سے ملاقت کی اور ان سے کئی شعبوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے پہلوؤں پر بات ہوئی تاہم ان کی شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنماؤں نے حال ہی میں جنوبی کوریا سے ہونے والے امن مذاکرات اور امن کی کوششوں کا تفصیلی ذکر کیا۔

ٹرمپ، کم جونگ ان

EPA
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان اہم ملاقات 12 جون کو متوقع ہے

انڈیا نے کوریائی خطے میں امن کی کوششوں کی تعریف کی تاہم اس بیان میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کے درمیان جون میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

بدھ کو ہی شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ شمالی کوریا سے یکطرفہ طور پر اپنے تمام جوہری ہتھیاروں کم ختم کرنے پر مصر رہا تو وہ سربراہی اجلاس کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ہو گا۔

شمالی کوریا کے انڈیا کے ساتھ 45 برس کے سفارتی تعلقات پورے ہوئے ہیں۔ پیانگ یانگ میں انڈیا کا سفارت خانہ بھی ہے۔ انڈیا نے حال ہی میں پیانگ یانگ میں اپنا نیا سفیر مقرر کیا ہے۔

انڈیا چین کے بعد شمالی کوریا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ دو برس قبل دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 200 ملین ڈالر سے زیادہ تھا۔ گذشتہ برس یہ گھٹ کر 125 ملین ڈالر کے آس پاس رہ گیا تھا۔

شمالی کوریا کے خلاف سلامتی کونسل کی نئی پابندیوں کے بعد انڈیا نے شمالی کوریا کو کی جانے والی برآمدات پر اپریل سے پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ اب صرف کھانے پینے کی اشیا اور دوائیں ہی بر آمد کی جا سکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کی جانب سے انڈیا پر شمالی کوریا سے تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ کافی بڑھ گیا تھا۔

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے گذشتہ برس دلی کے دورے پر انڈین قیادت سے اپنی بات چیت میں شمالی کوریا سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بات کی تھی لیکن انڈیا نے امریکہ کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ امریکہ کے کچھ حلیف ملکوں کے سفارت خانے کوریا میں ہونے چاہئیں تاکہ بات چیت کے کچھ راستے ہمیشہ کھلے رہیں۔

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے ریکس ٹلرسن سے کہا تھا ’امریکہ کو شمالی کوریا سے کئی بار بات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کچھ معاملوں کو حل کرنے کے لیے باہمی مذاکرات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کے لیے کم از کم وہاں ایک دوست ملک کا سفارت خانہ موجود ہو گا۔‘

جنرل وی کے سنگھ شمالی کوریا کوئی پیغام لے کر گئے تھے یا انھوں نے بات چیت کا کوئی متبادل راستہ کھولنے کی کوشش کی یہ کہنا بہت مشکل ہے، خاص کر اس حقیقت کے پیش نظر کہ انڈیا نے ماضی میں بین الاقوامی معاملات میں اس طرح کا کردار کم ادا کیا ہے۔ تاہم جنرل وی کے سنگھ کے دورے کے خاتمے پر اس کا ذکر آنا اور کسی خاص موقع کے بغیر اچانک ان کا پیانگ یانگ جانا بین الاقومی امور میں دلچسپی رکھنے والوں میں تجسس پیدا کر رہا ہے۔

دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کے بارے میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس خطے میں انڈیا واحد بڑا ملک ہے جو کوریائی تنازع کا فریق نہیں ہے اور جس کے شمالی کوریا سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3807 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp