ماسکو میں رمضان آ گیا مگر پکوڑے نہیں ملے


ماسکو میں ماہ صیام 16 مئی سے شروع ہے۔ جب میں پاکستان میں روزے رکھتا تھا، یہ بہت پہلے کی بات ہے تو افطاری میں پکوڑے وکوڑے کھانے کا بالکل رواج نہیں تھا۔ اب چونکہ رواج ہو چکا ہے تو سوچا بیسن لے آؤں۔ کل کے پہلے روزے سے پیشتر بھی میں شعبان کے آخری تین ایام کے روزے رکھ چکا تھا اور روزانہ طویل سیر پر بھی جاتا رہا مگر رمضان کے پہلے روزے نے تو طاقت ہی سلب کر لی۔ خیر پاؤں گھسیٹتا، کشاں کشاں گیا۔ اہلیہ محترمہ نے کئی روز پہلے بتایا تھا کہ ہمارے نزدیک کے زیر زمین ریلوے سٹیشن کے دوسرے داخلے سے تھوڑا آگے ایک نئی انڈین شاپ کھلی ہے۔ وہاں پہنچا تو ایک روسی سیلز گرل نے خوش آمدید کہا۔ ایک نیپالی سیلز مین کھڑا ہوا تھا۔ انڈین مارکیٹ نام کی اس دکان میں مال کچھ زیادہ نہیں تھا۔ جب گھور گھور کے دیکھنے پر بھی مجھے بیسن کہیں دھرا دکھائی نہ دیا تو سیلز مین نے پوچھ لیا۔ اس نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہیں دبا ہوا بیسن کا ایک پیکٹ نکالا جو غالباً پاؤ بھر کا ہوگا یعنی اڑھائی سو گرام کا۔ قیمت اس نے بتائی اڑھائی سو روبل یعنی پاکستانی پانچ سو روپے کے برابر۔ میں نے نہیں لیا۔ دو سال پہلے پورا کلو گرام بیسن اتنی قیمت میں آتا تھا۔ روس کے خلاف تجارتی پابندیاں ہیں، بہت سی اشیاء درآمد نہیں کی جا سکتیں لوگ پرسنل بیگیج میں لے آئیں تو لے آئیں۔

بیسن پر ہی موقوف نہیں کیونکہ یہ تو لاکھوں میں ایک کو درکار ہوگا۔ روس میں مہنگائی دو سال کی نسبت کہیں زیادہ ہے یعنی چند برس پہلے پیتا بریڈ یعنی پکی پکائی پانچ روٹیوں کا پیکٹ اگر 13 روبل میں دستیاب تھا تو آج 43 روبل کا ہے۔ ظاہر ہے اس مہنگائی سے سب متاثر ہیں مگر اخبار دیکھ لو یا ٹی وی کوئی اس کا رونا نہیں روتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو حب الوطنی ہے کیونکہ روسی ہر مشکل وقت میں یہی کہتے ہیں کہ گذر جائے گا۔ ان پر مشکلیں ویسے ہی پڑتی رہتی ہیں۔ کبھی کمیونزم کی شکل میں تو کبھی جنگ عظیم کی صورت میں تو کبھی امریکہ و یورپ کے عتاب کے طور۔ مگر شور نہ مچانے کی اصل وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بیروزگاری نہیں بڑھنے دی گئی، تنخواہیں اور پنشن بروقت مل جاتی ہیں۔ روس میں ہر شخص کو کم از کم پنشن ملتی ہے چاہے اس نے کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اگرچہ پنشن خاصی کم ہوتی ہے مگر گذر بسر ہو جاتی ہے۔ بجلی پانی کے بل بہت مہنگے نہیں ہیں، مثال کے طور پر ہم سروسز کے چھ ہزار روبل دیتے ہیں اور ہم میاں بیوی کی ملا کر پنشن 33000 روبل بنتی ہے۔

ماسکو کی ایک مسجد کا منظر

 پاکستان میں مہنگائی کا رونا غریبوں اور بیروزگار افراد کی بڑی تعداد اور سروسز کے بل بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ سوشل سروسز نہیں ہیں۔ جیسے یہاں اگر آپ کے دو بچے ہوں تو ان کی تعلیم کے اخراجات کا بوجھ بہت ہی کم ہوگا اور علاج معالجے کی تو آپ پرواہ ہی نہ کریں۔ بہترین سہولتیں بلا معاوضہ میسر ہونگی تا حتٰی خدا نہ کرے کوئی بہت پیچیدہ معاملہ نہ ہو۔ اس کے لیے بھی بڑے ٹی وی چینلوں اور فلاحی تنظیموں نے چندے کی مہم چلائی ہوتی ہے۔ چینلز ہر سال کئی مریض بچوں کو انتہائی مہنگے علاج کی خاطر جرمنی، اسرائیل اور امریکہ بھجواتے ہیں۔

رمضان کے حوالے سے ایک اور پہلو دیکھ لیتے ہیں۔ ماسکو میں کل چار مساجد ہیں اور ماسکو میں مسلمانوں کی تعداد بیس لاکھ نفر ہے۔ ان کا دسواں حصہ بھی تراویح پڑھے تو بیس ہزار نفر بنتے ہیں۔ فاصلوں کا اندازہ اس سے لگائیں کہ مجھے جس مسجد میں جانا ہوتا ہے اس کے لئے گھر سے میترو، زیر زمین سٹیشن بدلنے کی خاطر راہداری کے اندر چلنا اور میترو سے مسجد تک تقریباً 50 منٹ لگتے ہیں، یعنی دو طرفہ سفر ایک گھنٹہ چالیس منٹ کا۔ ظاہر ہے بہت لوگوں کے پاس گاڑیاں بھی ہیں مگر ان سے دو تین گنا زیادہ مجھ جیسے لوگ تو اپنے پاؤں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ہی انحصار کریں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اگر سستی، سریع اور باسہولت نہ ہو تو ظاہر ہے لوگ سفر سے گریز کریں گے۔ یہاں گرمیوں کے دن بہت لمبے ہوتے ہیں۔ عشا کی نماز ساڑھے دس بجے ہوتی ہے اور آخری ٹرانسپورٹ ایک بجے رات تک چنانچہ مسجد میں چار فرض باجماعت دو سنت خود سے اور آٹھ رکعت تراویح مختصر آیات کے ساتھ کے بعد وتر باجماعت پڑھنے کے بعد لوگ گھروں کو بھاگتے ہیں کیونکہ سحری کا وقت دو بجے تمام ہو جاتا ہے۔ مگر کوئی واویلا نہیں۔ نہ نمازی ختم قرآن کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں ٹرانسپورٹ سے متعلق کوئی گلہ ہے۔ یہ تمام سہولتیں مسجد سے ٹرانسپورٹ تک کی حکومت کی فراہم کردہ ہیں اس لیے کہ ہماری مسجد 1939 تا 1993 بند رہی تھی۔ مینار ڈھا دیا گیا تھا۔ 1823 میں تعمیر کردہ اس تاریخی مسجد کا مینار پھر سے بنایا گیا تھا۔

 اول تو موسم خوشگوار ہے۔ دوسرے بجلی کی بندش کا تصور تک نہیں ہے۔ پھر بجلی اتنی زیادہ ہے کہ ماسکو کے سو کے قریب ریلوے سٹیشنوں کے کئی سو ایسکیلیٹر یعنی خود کار سیڑھیاں جو دس سے چالیس میٹر لمبی ہیں، صبح پونے پانج بجے سے لے کر رات ڈیڑھ بجے تک مسلسل چلتی رہتی ہیں، دوسرے ملکوں کی طرح نہیں کہ اگر کوئی ہوگا تو چلے گا وگرنہ خود کار طریقے پر رک جائے گا۔ سینکڑوں الیکٹرک بسین بھی انہیں اوقات میں مسلسل چلتی ہیں۔ زیر زمین تمام ریل گاڑیاں بھی بجلی سے ہی چلتی ہیں۔ جب یہ تمام سہولتیں میسّر ہوں تو گلہ کس بات کا کیا جائے، شور کس بات پر مچایا جائے۔

 وطن عزیز میں سارے ہی عذاب ہیں۔ گرمی سے بجلی نہ ہونے تک۔ مہنگائی سے بیروزگاری تک، سٹریٹ کرائمز سے وہائٹ کالر کرائمز تک۔ مہنگائی اور کرپشن کا شور مچانے سے لے کر آوے ای آوے، جاوے ای جاوے کے علاوہ غدار ہے، پھانسی دو کے نعروں تک۔ بھائی شور مت کر، مداوا کر۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں