صنم ماروی نے کونسا تیر مار لیا؟


صنم ماروی نے واقعی ایک تیر مارا ہے۔ سندھ میں ان کی بہت تعریف ہو رہی ہے اور سوشل میڈیا پر صحافی، سماجی رہنما اور لکھاری ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ سندھ کے شہر شکارپور کے طالب علم فہد منگی ہیپاٹائیٹس کے عارضے میں مبتلا ہوکر آخری اسٹیج پر پہنچے تو ان کے کچھ دوستوں نے ان کو بچانے کے لیئے جگر ٹرانسپلانٹ کرانے کے لیئے چندہ مہم کا آغاز کیا۔ پورے سندھ میں مہم چلائی گئی ہے اور ایک ماہ میں اپنے دوست کے لیئے نوے لاکھ روپے جمع کر کے سب کو حیران کر دیا ہے ان نوجوانوں کی اپنے دوست کے لئے کی گئی محنت کی تعریف ہو رہی ہے۔ اسی چندہ مہم میں پاکستان کی سریلی اور خوبصورت گلوکارہ صنم ماروی نے بھی حصہ لیا۔ یہاں تک تو عام بات ہے۔ فنکار ایسے چیئرٹی پروگراموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں مگر صنم ماروی نے یہاں پر کچھ منفرد کیا ہے۔

فہد منگی کے دوستوں نے تین روز قبل شکارپور میں اپنے دوست کے علاج کا چندہ جمع کرنے کے لیئے چیئرٹی میوزیکل شو کا اہتمام کیا ۔ صنم ماروی نے بغیر معاوضہ یہ شو کرنے کی خواہش خود ہی ظاہر کی تھی۔ سب ٹکٹ بک چکے تھے کہ ایک دن قبل صنم ماروی کو بتایا گیا کہ ان کی لاہور سے سکھر کی فلائیٹ کینسل ہو گئی ہے۔ سندھ کی شدید گرمی اور لاھور سے شکارپور کا بارہ گھنٹے کا روڈ کا سفر، مگر صنم ماروی نے کہا کہ اگر معاملہ فہد کے علاج کا نہ ہوتا تو اور بات تھی لیکن یہ پروگرام ایک بچے کی زندگی بچانے کے لیئے ہے ۔ اس لیئے صنم ماروی نے لاہور سے بذریعہ ڈائیوو بس بارہ گھنٹے کا سفر کیا اور بذریعہ سکھر شکار پور پہنچی اور محفل کو چار چاند لگائے ۔ فہد کے لیئے پیسا کمایا ۔ اس پروگرام سے دس لاکھ روپے جمع ہوئے ، جبکہ صنم نے اپنے لیئے عزت اور محبت کمائی۔ صنم نے اس پروگرام میں بس میں سفر کر کے آکر صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر فہد منگی کے علاج کے لیئے چلنے والی چندہ مہم میں حصہ بھی لیا۔ اس سلسلے میں صنم ماروی نےچار دن قبل فیس بک پر پوسٹ کیا کہ، سندھ کے ذہین طالب علم فہد منگی کے علاج کے لئے اس کے دوستوں نے جس طرح محنت کی اس نے مجھے متاثر کیا ۔ میں نے شکارپور میں زبیر سومرو کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ میں شکارپور آرہی ہوں ۔ زیادہ سے زیادہ ٹکٹ خریدیں کہ ہم اپنے بھائی فہد کی مدد کر سکیں۔

فہد منگی جگر ٹرانسپلانٹ کے لیئے اسلام آباد کی شفا انٹرنیشنل ہاسپیٹل میں انڈر پراسس ہیں۔ اخراجات کا معاملہ حل ہو چکا ہے

فہد کے دوستوں عادل شیخ، آغا سعید، سہیل بلوچ، عمران منگی، شیراز عباسی، یاسین جعفری، امجد جلبانی اور دیگر نے اپنے دوست کے علاج کے لیئے صرف ایک ماہ میں ایک کروڑ روپیہ جمع کرکے ثابت کیا ہے کہ دوستی ایسا ناطہ جو سونے سے بھی مہنگا۔ فہد کو جگر اپنے خالہ زاد بھائی وقاص پنہیار عطیہ کر رہے ہیں۔ لاکھوں ہاتھ فہد کی زندگی بچانے کے لیئے دعا گو ہیں ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں