جمہوریت پسند افراد اور جیت کا واہمہ


”ہم ڈٹ گئے ہیں، اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مغرب کو شکست ہونے کو ہے، امریکا نیست و نابود ہوجائے گا!“
ایسے دعوے ہم نے ماضی قریب میں سنے۔ اور ہم انھیں سنتے آئے ہیں، مذہبی عسکریت پسندوں (ہمارے چچا، ہمارے بھائیوں، ہمارے بیٹوں) کی جانب سے، پیش گوئیوں میں گردن تک دھنسے کالم نگاروں کی جانب سے، کبھی اداروں، کبھی ریاستوں کی جانب سے۔

بے شک وہ نعرے گڑے گئے تھے، ملکی اسٹیبشلمنٹ اور عالمی اسٹیبشلمنٹ کی جانب سے، خطے کی ہیئت تبدیل کرنے کے لیے، اڈوں کے لیے، وار اکانومی کے لیے، مگر ان پر یقین کرنے والے لاکھوں میں تھے، بلکہ کروڑوں میں۔ اور وہ کہتے تھے، دشمن کی شکست قریب ہے، وہ مٹنے کو ہے، حق آگیا، باطل فنا ہوا۔

سمجھانے والے سمجھاتے، گو اس کے بدلے میں ہمیشہ گالیاں کھاتے، مگر وہ سمجھاتے: عزیزو، شاید تم صحیح ہو، شاید حق پر ہو، مگر تم ابھی ابھرے ہو، نووارد ہو، لاعلم ہو، اس جنگ کے لیے درکار ہتھیار تمھارے پاس نہیں، تجربہ و تربیت نہیں، وسائل نہیں، یہاں تک کہ تمھارا دشمن تمھارے سامنے بھی نہیں۔ منصوبہ بھی نہیں، بلکہ جسے اپنا منصوبہ سمجھ رہے ہو، وہ بھی شاید اسی کا لکھا ہوا ہے، جسے وہ دشمن گردانتے ہیں۔

مگر وہ نہیں مانتے تھے کہ وہ گردن تک پیش گوئیوں میں دھنسے کالم نگاروں کی سنتے تھے۔ اور کہتے تھے، جذبہ ایمانی ہمارا ہتھیار ہے، فتح کا عظیم لمحہ آن پہنچا، دشمن ہماری زمین پر اتر کر پھنس چکا، وہ نیست و نابود ہونے کو ہے۔

وقت گزر گیا، وہ اپنی چال چل گیا۔ ہم ہی تباہ ہوا، دشمن کی جڑیں گہری ہوتی گئیں، وار اکانومی پھیلتی گئی، انھیں اڈے ملتے رہے، خطوں کی ہیئت بدلتی رہی۔
مذہبی عسکریت پسند، ہمارے چچا، بھائی، ہمارے بیٹے، نہیں سمجھ سکے، معروضی حقائق کا ادراک نہیں کرسکے، یہ حقیقت تسلیم نہیں کرسکے کہ جنگ کے لیے درکار ہتھیار، تجربہ، تربیت و وسائل ان کے پاس نہیں، منصوبہ بھی نہیں۔ اور ایسے میں جیت کیا، سوائے ایک واہمہ کے۔

آج خود کو جمہوریت پسند کہنے والے طبقے کی جانب سے بھی ایسی ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں، حیران کن حد تک انقلابی و جذباتی۔ ان کے پاس ایک خواب ہے، وہ اس زمین کا تذکرہ کرتے ہیں، جس کا وعدہ کیا ہے۔ اور کہتے ہیں: ہم ڈٹ گئے، آخری جنگ شروع ہوچکی، شہ مات ہونے کو ہے، دشمن نیست و نابود ہوگا۔

یہ جمہوریت پسند، ہمارے چچا، ہمارے بھائی، ہمارے بیٹے، شاید حق پر ہوں، درست ہوں، مگر وہ معروضی حقائق کا ادراک نہیں کر رہے یا شاید کرنا نہیں چاہتے، یہ حقیقت تسلیم نہی کررہے یا شاید کرنا نہیں چاہتے۔ حقیقت کہ جنگ کے لیے درکار ہتھیار، تجربہ، تربیت اور وسائل ان کے پاس نہیں، کوئی منصوبہ نہیں، بلکہ جسے وہ اپنا منصوبہ سمجھا رہے ہیں، کیا خبر۔ کیا خبر وہ بھی ان ہی کا لکھا ہوا منصوبہ ہو، جسے وہ دشمن گردانتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کے بیانیہ میں اساطیری حیثیت کے حامل امید کے مینار، وہ مصلح، وہ انقلابی، وہ مجاہد، حزننیہ کے آخر میں ڈھے گئے تھے۔
دعا تو یہی ہے کہ جمہوریت پسندوں کی جنگ میں ایسا نہ ہو،
اگرچہ۔ ایسا ہی ہوگا!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں